ٹک ٹاک ایپ کے مالک نے 2ہزار انڈین ملازمین کو نکال دیا

انڈیا نے ٹک ٹاک پر پابندی کیوں عائد کی؟بھارتی ملازمین کو خمیازہ بھگتنا پڑ گیا

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ جنوری 19:06

ٹک ٹاک ایپ کے مالک نے 2ہزار انڈین ملازمین کو نکال دیا
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جنوری2021ء) ٹک ٹاک پر پاکستان میں بھی پابندی عائد کی گئی تھی مگر کچھ عرصہ بعد ہٹا دی گئی تھی تاہم اس چینی ایپ کے حوالے سے امریکہ بھی خائف رہااور وہاں بھی پابندی عائد کرانے کے ترانے بجتے رہے جبکہ بھارت نے بھی چینی ایپ سے خوفزدہ ہو کر کہ کہیں انڈین کی جاسوسی نہ کی جارہی ہو اس ایپ پر پابندی عائد کر دی تھی۔

انڈیا کو ٹک ٹاک سے سب سے زیادہ خوف تب محسوس ہوا تھا جب بھارتی فوجیوں نے اس ایپ کا بے تحاشا استعمال کیااور سرحد کے پاس یا پھر جہاں بھی موجود ہوتے تھے وہیں سے ٹک ٹاک بنا کر سوشل میڈیا ایپ پر اپ لوڈ کر دیا کرتے تھے۔لہٰذا بھارتی حکام نے اس ایپ پر پابندی کو ہی بہتر حل سوچااور بھارت بھر میں یہ ایپ بند کر دی گئی۔بھارتی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی ایپ کے مالک بائٹ ڈینس نے بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی کا غصہ بھارتی ملازمین کو نکال کر کیا۔

(جاری ہے)

ایپ مالک نے دو ہزار کے قریب بھارتی ملازمین کو ایک نوٹس کے ذریعے آفس سے باہر کر دیااور ان کی آفس واپسی سے متعلق بھی کوئی خبر نہیں دی گئی اور نہ ہی ا س بات کو واضح کیا گیا کہ انہیں کس بنیاد یا وجہ پر نوکری سے نکالا جا رہا ہے۔ بھارتی حکام نے پرائیویسی کو ایشو بنا کر ٹک ٹاک سمیت 58کے قریب چینی ایپس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔لگ بھگ چھے مہینے سے زائد کا عرصہ ہونے کو چلا ہے اور بھارت نے اب سبھی ایپس پر پابندی لگا رکھی ہے جبکہ اس مہینے بھارتی حکام نے ایک میٹنگ کے بعد ان چینی ایپس پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جس کے  بعد ٹک ٹاک ایپ کے مالک نے بھارتی ملازمین نے اس کمپنی میں ملازمت سے نکال دیا۔

گزشتہ برس جب چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ کے حوالے سے جنگ کے خدشات لاحق ہوئے تھے تب بھارت نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بھارت کی پچاس سے زائد سوشل میڈیا ایپس پر پابندی عائد کر دی تھی جن کی پابندی ابھی تک ختم نہیں کی جا سکی۔پابندی کا شکار ہونے والے سوشل میڈیا ایپس میں ٹک ٹاک بھی شامل تھی۔ٹک ٹاک کے مالک بائٹ ڈینس نے ملازمین کے نوٹس میں یہ بھی لکھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کو ملازمت پر جلد بحال کر دیا جائے گا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی لکھا کہ جب تک انڈیا میں ٹک ٹاک کو بحال نہیں کر دیا جاتا تب تک آپ کام پر واپس نہیں ا ٓسکیں گے لیکن یہ پابندی کب ختم ہو گی اس بارے بھی ہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔کمپنی نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی موقف اختیار کیا کہ انڈیا نے بلا جواز ہماری ایپ پر پابندی عائد کر کے ہمیں مایوس کیا ہے اور ہمارے بار بار پوچھنے کے باوجود ہمیں یہ بھی وضاحت نہیں دی جارہی کہ ہماری ایپ کو ملک بھر میں کب بحال کیا جائے گا۔ٹک ٹاک پر پابندی سے قبل بھارت ٹک ٹاک ایپ کے صارفین کی لسٹ میں سب سے بڑا ملک تھا جس کی بنا پر 2019میں ٹک ٹاک کے مالک بائٹ ڈینس نے انڈیا میں ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔