پاکستان کی آبادی 2050 تک دوگنا ہو جائے گی جبکہ اس تناظر میں اربنائزیشن کی وجہ سے سمٹتے ہوئے زرعی رقبہ جات کے علاوہ فصلات کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے گریز کے ساتھ ساتھ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات نے فوڈ سیکورٹی کے خطرات کو اور بھی گہرا کر دیا ہے

جس پر قابو پانے کے لئے ملکی تحقیق و ترقی کے تمام ادارہ جات کو مل کر مربوط حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی تاکہ ملکی زرعی پیداواریت کا حجم ترقی یافتہ ممالک کے برابر لایا جا سکے

Umer Jamshaid عمر جمشید پیر فروری 18:19

پاکستان کی آبادی 2050 تک دوگنا ہو جائے گی جبکہ اس تناظر میں اربنائزیشن ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 فروری2021ء) پاکستان کی آبادی 2050 تک دوگنا ہو جائے گی جبکہ اس تناظر میں اربنائزیشن کی وجہ سے سمٹتے ہوئے زرعی رقبہ جات کے علاوہ فصلات کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے گریز کے ساتھ ساتھ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات نے فوڈ سیکورٹی کے خطرات کو اور بھی گہرا کر دیا ہے جس پر قابو پانے کے لئے ملکی تحقیق و ترقی کے تمام ادارہ جات کو مل کر مربوط حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی تاکہ ملکی زرعی پیداواریت کا حجم ترقی یافتہ ممالک کے برابر لایا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر اور پاکستان سوسائٹی آف ہارٹیکلچر سائنسز کے زیراہتمام انٹرنیشنل ہارٹیکلچر ای کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم 90 فیصد تک سبزیوں کے بیج درآمد کر رہے ہیں جو کہ ایک تشویشناک لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے سائنسدان اور ماہرین معیاری بیج تیار کرکے زرمبادلہ کی مد میں اربوں روپے کی بچت کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر آصف تنویر نے کہا کہ ہم فصلوں کی برادشت کے عمل کے دوران ہونے والے نقصانات میں اپنی زراعت کی پیداوار کا 40 فیصد حصہ ضائع کر رہے ہیں جبکہ ملک میں فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کئی گنا کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں فوڈ سیکورٹی کے حصول اور باقی دنیا کے ساتھ مقابلہ جاتی بنیادوں پر اپنے زرعی پیداواریت کا حجم بڑھانے کے لئے جدید زرعی طریقوں کو فروغ دینا ہو گا۔ ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اختر نے کہا کہ زراعت کا شعبہ مختلف پیداواری چیلنجوں کا مقابلہ دستیاب محدود وسائل سے کر رہا ہے جن میں کم پیداواریت، روپے کی قدر میں روزافزوں کمی، پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، زرعی مداخل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور کسان کو مناسب اجرت کی عدم فراہمی کے ساتھ ساتھ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات اور دیگر شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ محققین، زرعی ماہرین، پالیسی سازوں، کاشتکاری برادری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جامع و مربوط کاوشیں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسز پروفیسر امان اللہ ملک نے کہا کہ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات پر قابو پانے کی صورت میں نہ صرف فی ایکڑ پیداوار خاطرخواہ بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ فوڈ سیکورٹی کے چیلنجز کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کا حجم بھی کئی گنا بہتر کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسز باغبانی و سبزیات کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پھولوں کی کاشت اور لینڈسکیپنگ کے شعبہ جات میں نئی جدتوں کی حامل تعلیمی پیش رفت سے طلباء کو فیض یاب کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے گریجوایٹس کی ملک بھر اور بیرون ملک بہت زیادہ مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ باغبانی کی پیداوار، اس کی ہینڈلنگ، پروسیسنگ اور اسٹوریج کے لئے ارزاں نرخوں پر قابل عمل زرعی ٹیکنالوجی پر مبنی پیکجز باغبانوں اور کسانوں کو فراہم کرنے کے لئے عملی کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ ان کے ذریعے نچلی سطح پر غربت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غذائی کمی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔

پاکستان سوسائٹی آف ہارٹیکلچر سائنسز کے صدر ڈاکٹر سی ایم ایوب نے کہا کہ ہماری سوسائٹی ملک بھر میں اس قسم کے سیمینار، مذاکرہ جات اور تربیتی ورکشاپس کے ذریعے باغبانوں اور کسانوں میں شعور و آگہی اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عملی مدد و تربیت کے لئے مسلسل کوششیں بروئے کار لا رہی ہے تاکہ اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ پیداواریت کو فروغ دیا جا سکے۔ افتتاحی اجلاس سے پروفیسر ڈاکٹر جعفر جسکانی، پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد ظہیر، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد، ڈاکٹر احمد ستار، پروفیسر(ر) ڈاکٹر محمد اسلم خاں، ڈاکٹر عدنان یونس، ڈاکٹر راحیل انور، ڈاکٹر فاطمہ عثمان، ڈاکٹر محمد عثمان، ڈاکٹر مذمل، ڈاکٹر محسن و دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔