انٹر یونیورسٹی کرکٹ بوائز زون -ایچ چیمپئن شپ 2020-2021 کی افتتاحی تقریب

عدم برداشت اور گھٹن والے ماحول میں اسپورٹس ہمیں برداشت اور ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چلنے جیسے اقدار سکھاتی ہے، پروفیسر ڈاکٹر اسلم عقیلی

پیر فروری 23:50

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 فروری2021ء) مہران یونیورسٹی جامشورو کی میزبانی میں ایچ ای سی اسلام آباد کے تعاون سے انٹر یونیورسٹی کرکٹ بوائز زون -ایچ چیمپئن شپ 2020-2021 کی افتتاحی تقریب جامعہ کے اسپورٹس جمنازیم میں منعقد ہوئی، افتتاحی تقریب میں گذشتہ 32 سال سے انٹرنیشنل کرکٹ رپورٹ کرنے والے نامور صحافی اور براڈکاسٹر قمر احمد کو مہمانِ خاص کی حیثیت میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا، اس موقع پر گذشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک پوری دنیا میں اپنی انٹرنیشنل کرکٹ کو کًورکرنے کی یادیں دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہوئے قمر احمد نے کہاکہ میں نے فقط بی بی سی کی اردو، ھندی اور انگریزی سروس کے لئے 32 سال انٹرنیشنل ٹیسٹ مئچوں کو کًور کیا ہے اور اس عرصے کے علاوہ فری لانسر کے طور پر بھی کرکٹ کو رپورٹ کیا ہے، میرے ذہن میں اس صفر کی ہزاریں یادیںمحفوظ ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں نے لگ بھگ 400 ٹیسٹ میچوں کو براہِ راست رپورٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد حنیف، مشتاق احمد، ماجد خان، سنیل گواسکر جیسے کرکٹ کے ستاروں کا بھی میدان میں کھیلتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں جاوید میانداد جینئس کھلاڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے ساتھ ٹیسٹ سیریز کے دوران کپتان عمران خان کا بیان میڈیا میں شایع ہوا کہ جاوید میانداد عظیم بیٹس مئن نہیں ہے کیوںکہ وہ ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بالر ایمبروز سے نمٹ نہیں سکتا، اس پر جاوید میانداد نے ردِ عمل دکھاتے ہوئے مجھے کہا کہ اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ اس سیریز کے دوران پاکستان نے 5 ٹیسٹ مئچز ہرائیں اور آخری چھٹی مئچ میں ویسٹ انڈعز کے خطرناک فاسٹ بالر ایمبروز کو میانداد نے چئلنج کرتے ہوئے ہر باو،ْنسر پر چوکہ مارا تھا، اس مئچ میں میانداد نے سینچری بنا کر مئچ جیتا تھا۔

بعد میں میانداد نے مجھے کہا تھا کہ اب کپتان کو بتانا کے میں کتنا بڑا بیٹس مین ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا حیدرآباد کالج کالی موری اور حیدرآباد شہر سے ان مِٹ رشتہ ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں سندھ دھرتی کا حصہ ہوں۔ میں نے علامہ آئی آئی قاضی کے ساتھ ایک یادگار ملاقات کی تھی جو اس وقت جامعہ سندھ کے وائس چانسلر تھے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ مہران کی جانب سے مجھے آج کے ایونٹ میں مدعو کرنے پر شکر گزار ہوں، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی نے کہا کہ عدم برداشت اور گھٹن والے ماحول میں اسپورٹس ہمیں برداشت اور ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چلنے جیسے اقدار سکھاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھیل صحت مند معاشرے کو اجاگر کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ کووڈ کی وجہ سے ہم نے کوشش کی ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد ہو، اس ضمن میں آپ نوجواں کھلاڑی بھی تعاون کریں کے ایس او پیز پر عمدرآمد ممکن ہو پائے ۔ شیخ الجامعہ ڈاکٹر عقیلی نے اس موقعہ پر مہمانِ خاص قمر احمد کو سندھ کا ثقافتی تحفہ اجرک پیش کیااور جامعہ کی یادگار شیلڈ بھی پیش کی۔ جبکہ آئی ٹرپل ای پی (IEEEP) حیدرآباد چیپٹر کی جانب سے مہمانِ خاص کو ڈاکٹر بھوانی شنکر نے شیلڈ دی۔ تقریب میں رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید عمرانی اور ڈائریکٹر اسپورٹس عبدالغفار چانڈیو نے مہمان ٹیموں کا تعارف کرایا۔ یاد رہے کہ انٹر یونیورسٹی کرکٹ بوائز چئمین شپ میں 8 ٹیمیں حصا لے رہی ہیں۔