یمن اور پاکستان کے زرعی ماہرین اور سائنسدانوں کے مابین وفود کے تبادلہ جات کے ساتھ ساتھ سائنسی و تحقیقی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ طلباء کو جدید تعلیم کے لئے مل جل کر کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی:پاکستان میں جمہوریہ یمن کے سفیر محمد مطہر الاشہبی

بدھ فروری 17:37

یمن اور پاکستان کے زرعی ماہرین اور سائنسدانوں کے مابین وفود کے تبادلہ ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 فروری2021ء) پاکستان میں جمہوریہ یمن کے سفیر محمد مطہر الاشہبی نے کہا ہے کہ یمن اور پاکستان کے زرعی ماہرین اور سائنسدانوں کے مابین وفود کے تبادلہ جات کے ساتھ ساتھ سائنسی و تحقیقی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ طلباء کو جدید تعلیم کے لئے مل جل کر کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو غذائی استحکام اور خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر اور ڈینز، ڈائریکٹرز و پرنسپل آفیسرز کے ساتھ خصوصی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریہ یمن اور پاکستان کے مابین برادرانہ تعلقات کی تاریخ بہت گہری ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں وسیع و عریض سمندر، میدانی علاقہ جات، زرخیز زمینی وسائل، معدنیاتی دولت، سطح مرتفع اور بلندوبالا پہاڑوں کے ساتھ ساتھ وسیع صحرائی لینڈسکیپ موجود ہے جس میں ہر طرح کی فصلات اور وہ تمام نعمتیں دستیاب ہیں جس کا انسانی ذہن تصور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم انتہائی ذہین اور محنت کش ہے لہٰذا ان وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی ترقی اور غذائی استحکام باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہونے والی تحقیقی پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی کو یمن سمیت دیگر اسلامی ممالک میں دوہرایا جا سکتا ہے اس مقصد کے لئے وہ عنقریب اپنے آئندہ دورہ کے دوران ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا اہتمام کریں گے تاکہ یمن کے سکالرز کو پاکستان میں زرعی تعلیم و تحقیق کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں کے تعلیم و تحقیق کے اداروں سے روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔

ان سے پہلے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین زرعی تعلیم و تحقیق کے ساتھ ساتھ کاروباری مہارتوں، موسمیاتی تبدیلیوں، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور غیرروایتی فصلات کے ساتھ ساتھ باغات و سبزیات کے شعبوں میں تعاون کی بہت گنجائش ہے جس کے لئے زرعی یونیورسٹی اپنے برادر ملک کے سکالرز اور محققین کو خوش آمدید کہے گی۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریہ یمن میں لائیوسٹاک کے شعبے میں ترقی کی بے حد گنجائش موجود ہے اس سلسلے میں یونیورسٹی کے ویٹرنری اور لائیوسٹاک ماہرین اپنے تجربات منتقل کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر آصف تنویر نے کہا کہ یمن اور پاکستان میں موسمی حالات اور زمینی وسائل خاصی مماثلت کے حامل ہیں اس لئے دوطرفہ مفاہمت کی صورت میں تعاون کو کافی زیادہ وسعت دی جا سکتی ہے۔

زرعی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد ظہیر نے اس موقع پر یونیورسٹی کی بین الاقوامی درجہ بندی، ریسرچ میں کامیابیوں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جو بین الاقوامی کیو ایس رینکنگ میں زراعت و جنگلات کے سبجیکٹ میں دنیا کی سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔

اجلاس سے ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اختر، ڈین کلیہ فوڈاینڈ ہوم سائنسز پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق بٹ، ڈین کلیہ زرعی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشاد، ڈین کلیہ امور حیوانات پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم مرزا، پرنسپل آفیسر اسٹیٹ مینجمنٹ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اختر، پرنسپل آفیسر تعلقات عامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف نے بھی اپنے اپنے شعبہ جات کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ یمن کے سفیر محمد مطہر الاشہبی نے ٹڈی دل کے تحقیقی سیل کا دورہ کیا اور اس کے باہر پودا بھی لگایا۔