دُبئی میں بھارتی مسیحا کے دن رات علاج نے قریب المرگ پاکستانی کو نئی زندگی لوٹا دی

تبرک حُسین کو ہارٹ اٹیک کے ساتھ برین ہیمبرج بھی ہوا تھا، 77 روز تک وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد بالآخر صحت یاب ہو گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ مارچ 11:14

دُبئی میں بھارتی مسیحا کے دن رات علاج نے قریب المرگ پاکستانی کو نئی ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔6 مارچ2021ء) زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو صحت مند اور توانا افراد کو ایک لمحے میں موت کی وادی میں پہنچا دے اور اگر چاہے تو ہر طرح سے موت کے دہانے پر پہنچے ہوئے شخص کو بھی واپس زندگی کی جانب لوٹا دے۔ رب نے انسانوں کی بھلائی کے لیے ہی علم و فنون بھی تخلیق کیے ہیں، جن کی مدد سے انسان اللہ کی رضا سے اپنے ہم جنسوں کے لیے فلاح اور بہتری کا باعث بنتا ہے۔

امارات میں مقیم ایک بھارتی ڈاکٹر کی بہترین توجہ اورعلاج نے ایک ایسے پاکستانی کی زندگی بچا لی، جس کے بچنے کے آثار بہت کم تھے۔ تاہم 77 روز تک وینٹی لیٹر پر رہنے کے بالآخر اس پاکستانی کارکن کی زندگی بچ گئی۔ خلیج ٹائمز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستانی کارپینٹر تبرک حُسین امارات میں روزگار کما کر اپنے بیوی بچوں کی کفالت کر رہا تھا۔

(جاری ہے)

53 سالہ تبرک کی 14 دسمبر کو اچانک طبیعت بگڑنے پر ہسپتال لایا گیا۔ اس حوالے سے تبرک حُسین کے معالج اور آسٹر ہسپتال کے شعبہ کریٹیکل کیئر میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر وکاس بھگت نے بتایا کہ حُسین نے سرد رد اور کمزوری کی شکایت کی تھی، تاہم جب اس کے ٹیسٹ لیے گئے تو پتا چلا کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے اور برین ہیمرج بھی ہوا ہے جس کے باعث اس کے جسم کا بایاں حصہ بھی مفلوج ہو چکا ہے۔

تبرک کی حالت خاصی تشویش ناک تھی، جس کی وجہ سے فوری طور پر پہلے اس کی انجیو پلاسٹی کی گئی اور پھر خون کی شریان میں بنی رکاوٹ دُور کر دی گئی۔ اگلے مرحلے میں برین ہیمبرج کے علاج کے لیے حُسین کو ادویات دی گئیں۔ اس دوران اسے شدیدبخار بھی ہو چکا تھا۔ سانس لینے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا تھا ،جس کی وجہ سے اسے مستقل وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔

کچھ روز بعد حالت سنبھل جانے پر اسے اسٹنٹ بھی ڈالا گیا۔ ڈاکٹر وکاس نے مزید بتایا کہ تبرک حُسین کا ہسپتال سے تین ماہ سے زائد عرصہ علاج چلا۔ جہاں وہ 77روز تک آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر رہا۔ بالآخر اب اس کا سانس بحال ہو جانے کے بعد وینٹی لیٹر ہٹا دیا گیا ہے۔تبرک کے علاج پر 5 لاکھ درہم کا خرچ آیا تھا۔ تاہم اس کی میڈیکل انشورنس کی رقم بہت کم تھی، اس وجہ سے آسٹر ہیلتھ گروپ کے رضاکار گروپ CSR wing نے باقی کے تمام اخراجات اپنی جانب سے ادا کیے۔

اگلے چند ماہ کے دوران فزیو تھراپی کے بعد اُمید ہے کہ اس کا فالج بھی ٹھیک ہو جائے گا۔ تبرک اپنی بوڑھی والدہ، بیوی اور بچوں کے پاس پاکستان جانا چاہتا تھا۔ جس کے لیے اس کی کمپنی نے ایمریٹس کی نو سیٹیں بُک کروا کر دیں تاکہ وہ لیٹ کر سفر کر سکے اور باقی سیٹوں پر اس کا سامان بھی رکھا گیا ۔ تبرک گزشتہ روز پاکستان واپس پہنچ گیا۔ جہاز میں اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک نرس اور ڈاکٹر بھی روانہ کیا گیا تھا۔