وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ‘قومی اسمبلی کا اجلاس شروع

عمران خان پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پارلیمنٹ ہاﺅس پہنچ گئے‘غیرحاضر رہے والے اراکین کے خلاف نااہلی کی کاروائی کرنے کا فیصلہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم ہفتہ مارچ 12:26

وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ‘قومی اسمبلی کا اجلاس شروع
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی۔06 مارچ ۔2021ء) قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے بلائے جانے والے اجلاس کی کاروائی شروع ہوگئی ہے حکومتی جماعت کی جانب سے ممکنہ طور پر وفاقی وزیرقانون وپارلیمانی امور کی جانب سے ایوان میں کچھ ہی دیر بعد تحریک پیش کی جائے گی.

(جاری ہے)

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے پارلیمنٹ ہاﺅس پہنچے تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے اراکین کی پارلیمنٹ ہاﺅس آمد کا سلسلہ جاری ہے پاکستان تحریکِ انصاف اور اتحادی جماعتوں کے تقریباً 160 اراکین پارلیمنٹ ہاﺅس پہنچ چکے ہیں اگرچہ اجلاس کا وقت 12بجکر15منٹ ہے مگر حکومتی ذرائع نے ”اردوپوائنٹ“کوبتایا کہ ایوان میں ایک آدھ گھنٹے کی تاخیرمعمول کا کام ہے لہذا ووٹنگ دن ایک بجے سے ڈیڑھ بجے کے درمیان شروع ہونے کی توقع ہے.  پارلیمنٹ ہاﺅس میں آج صبح مشترکہ ناشتے کے اہتمام کیا گیا، جس میں وزیر اعظم عمران خان بھی شریک ہوئے وفاقی کابینہ کے ارکان پاکستان تحریک انصاف کے تمام اراکین قومی اسمبلی کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی تحریک انصاف کے ارکان کے ساتھ پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہونے والے ناشتے میں شریک ہوئے حکمران جماعت کی جانب سے اتحادی جماعتوں مسلم لیگ( ق) بلوچستان عوامی پارٹی، عوامی مسلم لیگ‘ایم کیوایم اور جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کو ناشتے کی دعوت دی گئی تھی پارلیمنٹ ہاﺅس میں ناشتے کی بیٹھک میں حکومت و اتحادی مشترکہ حکمت عملی طے ہوئی وزیراعظم عمران خان کے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے موقع پر پارلیمنٹ ہاﺅس پر سیکورٹی کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے.

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے آج قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے سلسلے میں حکومت کو 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے، سادہ اکثریت کے لیے عمران خان کو 172 ووٹوں کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن کے پاس نشستوں کی تعداد 160 ہے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ارکان کی ذمے داری ہے کہ اعتماد کے ووٹ کو کامیاب کرائیں جبکہ انہوں نے بطور پارٹی چیئرمین تحریک انصاف کے ارکین قومی اسمبلی کو خط بھی لکھا ہے.

آج پارٹی کا جو رکن غیر حاضر رہے گا اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت ایکشن لیا جا سکتا ہے، عدم حاضری کی صورت میں رکن کے خلاف نااہلی کی کارروائی شروع کی جائے گی دوسری جانب اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی نے عدم اعتماد کا فیصلہ کر دیا، اپوزیشن کے انکار کے بعد اب اس اجلاس کی کوئی سیاسی حیثیت ہی نہیں رہی، ملک میں کوئی وزیر اعظم نہیں.