بھار ت نے کشمیری مسلمانوں سے مذہبی آزادی سمیت تمام حقوق چھین لئے ہیں، رپورٹ

راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ،شیوسینا جیسی انتہا پسند ہندو تنظیموں کاخفیہ ایجنڈا بے نقاب ہو گیا ،کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا، کل جماعتی حریت کانفرنس

منگل جولائی 16:47

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جولائی2021ء) بھارت نے اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیرمیںکشمیریوں مسلمانوں سے انکی مذہبی آزادی سمیت تمام حقوق چھین لئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کشمیریوںسے انکے تمام بنیادی انسانی حقوق چھیننے کے بعد اب کشمیریوںکو جانوروں پر مظالم کی روک تھام کے ایکٹ کی آڑ میںگائے ، بیلوںاوراونٹوں جیسے بڑے جانوروںکی قربانی کے مذہبی فریضے کی ادائیگی کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بڑے جانوروںکی قربانی پر پابندی کشمیریوں کی مذہبی آزادی اور کشمیریوں کو اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکنے کی دانستہ کوشش ہے ۔

(جاری ہے)

یہ پابندی کشمیریوں کیلئے پیغام ہے کہ بھارت کو ان کے مذہبی جذبات اور مذہبی آزادی کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ کشمیری عوام نے قابض انتظامیہ کے اس حکم نامے پر شدید غم و غصے کا اظہار اور مزاحمت کی ہے ۔

کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاہے کہ اس اقدام سے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور شیوسینا جیسی انتہا پسند ہندو تنظیموں کاخفیہ ایجنڈا بے نقاب ہو گیا ہے جسے کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم متحدہ مجلس علماء نے ایک بیان میں قابض انتظامیہ سے کہاہے کہ وہ اس طرح کے ظالمانہ احکامات صادر کرنے سے گریز کرے جو کہ کشمیری مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں کیونکہ یہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں براہ راست مداخلت ہے۔

مقبوضہ جموںوکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے عیدالاضحی کے موقع پر بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی کو مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت قرار دیا ہے ۔ رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مودی حکومت ہندوتوا نظریے کے مطابق بھارت کی پالیسی وضع کر رہی ہے اور مقبوضہ علاقے میں بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی عائد کرنے سے کشمیری مسلمانوںکے خلاف ہندوتوا قوتوں کا مذموم ایجنڈا بے نقاب ہو گیا ہے ۔ رپورٹ میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کشمیری مسلمانوںکو ہندو فسطائیت سے بچانے کیلئے آگے آئے ۔