عارف نظامی بھی رخصت ہوگئے

DW ڈی ڈبلیو بدھ جولائی 20:00

عارف نظامی بھی رخصت ہوگئے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 21 جولائی 2021ء) عارف نظامی انگریزی اخبار پاکستان ٹوڈے کے بانی و ایڈیٹر اور نوائے وقت گروپ کے بانی حمید نظامی کے بیٹے تھے۔ کئی دہائیوں تک شعبہ صحافت سے وابستہ رہنے والے عارف نظامی اردو اور انگریزی صحافت میں خدمات سر انجام دیں۔ عارف نظامی چودہ اکتوبر سن 1948 میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم ایک مشنری انگریزی سکول سے حاصل کی اور گریجویشن گورنمنٹ کالج لاہور سے کی۔

انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے ایم اے جرنلزم کیا بعد ازاں ایک امریکی تعلیمی ادارے سے جرنلزم میں ڈپلوما بھی حاصل کیا۔

اب کسی صحافی پر حملہ نہ ہو، حامد میر کی تنبیہ

صحافت وراثت میں ملی

عارف نظامی کو صحافت وراثت میں ملی تھی لیکن انہوں نے اپنی محنت اور ہمت سے اس شعبے میں ایک باوقار مقام بنایا۔

(جاری ہے)

انہوں نے ایک جونیئر رپورٹر کے طور پر عملی صحافت میں کام شروع کیا اور پھر ترقی کرتے کرتے ایگزیکٹو ایڈیٹر نوائے وقت کے عہدے تک پہنچے ۔

بعد ازاں وہ اسی ادارے کے انگریزی اخبار 'دی نیشن‘ کے بھی ایڈیٹر رہے۔

سن 2010 میں اپنے چچا مجید نظامی سے اختلافات کے نتیجے میں وہ انگریزی اخبار دی نیشن کی ادارت سے الگ ہو گئے۔ بعد ازاں اپنے ذاتی وسائل کے ساتھ ایک چھوٹے انگریزی اخبار'' پاکستان ٹو ڈے‘‘ کی بنیاد رکھی۔عارف نظامی روزنامہ جنگ اور روزنامہ دنیا کے ساتھ ساتھ کئی ٹی وی چینلز سے بھی وابستہ رہے۔

باخبر اور ذمہ دار صحافی

عارف نظامی پاکستان میں اخبارات کے مدیروں کی ایک تنظیم کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائیٹی (اے پی این ایس) کے بھی صدر رہے۔ عارف نظامی نگران وفاقی وزیر کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔ انہیں سال 2013 میں نگراں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و پوسٹل سروسز بنایا گیا تھا۔

پاکستانی صحافی ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ

پاکستان کے ایک معروف صحافی اور سینئر تجزیہ کارمجیب الرحمن شامی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کے عارف نظامی ایک باوقار، ذمہ دار اور باخبر صحافی تھے۔ وہ ایک ورکنگ ایڈیٹر تھے۔ ان کے پاس اخبار کے کارکن اور مالک کے طور پر کام کرنے کا تجربہ تھا۔ وہ ساتھی کارکنوں کے لئے ہمدردی اور قربت کا تعلق رکھتے تھے لیکن طاقتوروں کے سامنے ان کا رویہ سخت ہوتا تھا۔

نہ لیفٹِسٹ اور نہ ہی رائیٹِسٹ

شامی صاحب کے بقول عارف نظامی خبروں کو سونگھنے یا ان کا سراغ لگانے کی مؤثر صلاحیت رکھتے تھے۔'' انہوں نے بےنظیرحکومت کے خاتمے کی خبر دی تو اس پر خود بے نظیر بھٹو حیران رہ گئیں۔ انہوں نے عمران خان کی شادی اور طلاق کے حوالے سے بھی خبریں بریک کیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں مجیب شامی کا کہنا تھا کہ وہ روایتی رائیٹسٹ تھے اور نہ ہی روایتی قسم کے لیفٹسٹ تھے۔

ان کی پاکستان کے ساتھ گہری وابستگی تو تھی لیکن وہ مجید نظامی کے خیالات اور سوچ سے مختف سوچ رکھتے تھے۔

پیشہ ورانہ دیانت کے حامل صحافی

عارف نظامی کے ساتھ کام کرنے والے پاکستان کے ایک معروف صحافی سید ارشاد عارف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عارف نظامی سنسنی خیزی کو ناپسند کرتے تھے اور خبر کے معاملے میں دوستوں کی پرواہ کرتے اور نہ ہی دشمنوں کی تذلیل کرنا پسند کرتے تھے۔

پاکستان کے معروف صحافی سہیل وڑائچ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عارف نظامی ایک ورکنگ ایڈیٹر تھے۔ وہ ہمیشہ اچھی خبروں کی تلاش میں رہتے ان کے کریڈٹ پر بہت بڑی خبریں تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آتے تھے اور پروفیشنل حدود کے اندر رہتے ہوئے صحافتی فرائض سرانجام دیتے تھے۔

'پاکستانی ریاست صحافت کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ‘

عارف نظامی کی زیر ادارت شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ دی نیشن میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھنے والے صحافی سرمد بشیر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عارف نظامی نے پیشہ وارانہ دیانت کے ساتھ ساری زندگی بہے متوازن صحافت کی۔

پنجاب یونیورسٹی سے تعلق

پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ علوم ابلاغیات کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نوشینہ سلیم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عارف نظامی اس ادارے کی ایلئومینائی میں سے تھے۔ وہ یہاں پڑھاتے بھی رہے اور اس ادارے کے بورڈ آف سٹڈیز کے رکن بھی رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ادارہ علوم ابلاغیات میں عارف نظامی کے لئے ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی صحافت کے جنٹلمین، خدا کی پناہ!

عارف نظامی کی وفات پرپاکستان کے صدر اور وزیراعظم سمیت ملک کی تمام بڑی صحافتی اور سیاسی شخصیات نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔