شعیب اختر کشمیر پریمیئر لیگ کے ’امن کے سفیر‘ بننے کے خواہاں

میں مرنے یا مارنے سے زیادہ کھیلنے پر یقین رکھتا ہوں، دل توڑنے کی بجائے دھڑکنیں جوڑنے پر یقین رکھتا ہوں :سابق کرکٹر

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب پیر 2 اگست 2021 15:34

شعیب اختر کشمیر پریمیئر لیگ کے ’امن کے سفیر‘ بننے کے خواہاں
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 2 اگست 2021ء ) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی طرز کی کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کا آغاز 6 اگست سے ہوگا تاہم خبریں ہیں کہ شعیب اختر مذکورہ لیگ کے لیے امن کے سفیر مقرر ہوںگے۔ شعیب اخترنے یکم اگست کو ٹویٹر پر مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں مرنے یا مارنے سے زیادہ کھیلنے پر یقین رکھتا ہوں اور دلوں کو توڑنے کی بجائے دھڑکنوں کو جوڑنے پر یقین رکھتا ہوں، سابق کرکٹر نے کہا کہ وہ نفرتیں پھیلانے سے زیادہ محبتیں تقسیم کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اس لیے وہ جلد ہی امن کے سفیر بن کر آ رہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے مداحوں کو بتایا کہ وہ کس چیز کے امن کے سفیر بن کر آرہے ہیں، اس لیے ان سب کو تھوڑا سا صبر کرنا پڑے گا‘۔

ان کی ٹویٹ کے بعد ٹی وی میزبان اور سوشل میڈیا انفلوئنسر وقار ذکاء نے مختصر ٹویٹ میں (#ShoaibAkhtarPeaceAmbassador ) کا ہیش ٹیگ استعمال کیا، جس کے بعد متعدد لوگوں نے اسی پر ٹویٹس کرتے ہوئے (#ShoaibAkhtarPeaceAmbassador ) کا ہیش ٹیگ استعمال کیا، جس وجہ سے ان کا نام ٹاپ پر ٹرینڈ بھی کرنے لگا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں شعیب اختر نے 2 اگست کو ایک مختصر ٹویٹ میں عندیہ دیا کہ وہ جلد ہی کے پی ایل کے ’امن کے سفیر‘ کے طور پر خدمات سر انجام دینا شروع کریں گے۔

شعیب اختر نے سوال کیا کہ ’آخر کے پی ایل اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان کس چیز کا تنازع یا اختلاف ہے، شعیب اختر نے مزید لکھا کہ مذکورہ معاملے کو سلجھانے کے لیے کے پی ایل اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے پل کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی سابق کرکٹر نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ (#ShoaibAkhtarPeaceAmbassador ) ٹرینڈ کو آگے بڑھانے کے لیے ان کا ساتھ دیں‘۔

ان کی درخواست پر بھی کئی اہم شخصیات سمیت کرکٹ کے مداحوں نے اسی ہیش ٹیگ کو استمال کرتے ہوئے شعیب اختر کی حمایت کی اور کہا کہ انہیں لازمی طور پر ’امن کے سفیر‘ کی خدمات نبھانے کی ذمہ داریاں دی جائیں۔
خیال رہے کہ کے پی ایل کے پہلے ایڈیشن کا آغاز 6 اگست سے ہوگا جو 16 اگست تک جاری رہے گا۔

لیگ میں مجموعی طور پر 6 ٹیمیں مد مقابل ہوں گی، جس میں کئی غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ کے پی ایل میں شامل ہونے والے بعض کھلاڑی بھارتی کرکٹ بورڈ کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے باعث ٹورنامنٹ سے دستبردار بھی ہوئے ہیں۔ کے پی ایل میں راولاکوٹ ہاکس، میرپور رائلز، اوورسیز وارئیرز، باغ اسٹالینز، کوٹلی لائنز اور مظفر آباد ٹائیگرز ٹیمیں آمنے سامنے ہوںگی۔