پاکستان کے دورے سے انکار کرنے والی ٹیموں کو شعیب اختر نے کھری کھری سنا دیں

جب غیر ملکی افواج کو نکالنا تھا تو تب پاکستان بہترین ملک تھا، جب انہیں فلائٹ نہیں ملتی تو پھر پی آئی اے بہترین ائیرلائن بن جاتی ہے: سابق اسپیڈ اسٹار کا بیان

muhammad ali محمد علی منگل 21 ستمبر 2021 00:11

پاکستان کے دورے سے انکار کرنے والی ٹیموں کو شعیب اختر نے کھری کھری سنا ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 ستمبر2021ء) جب غیر ملکی افواج کو نکالنا تھا تو تب پاکستان بہترین ملک تھا، جب انہیں فلائٹ نہیں ملتی تو پھر پی آئی اے بہترین ائیرلائن بن جاتی ہے، پاکستان کے دورے سے انکار کرنے والی ٹیموں کو شعیب اختر نے کھری کھری سنا دیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق کرکٹر شعیب اختر نے انگلینڈ کی جانب سے پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے پر شدید ردعمل دیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے کہاکہ انگلش ٹیم کی دورہ منسوخی کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، یہ انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور امریکا کے باہمی تعاون کے ساتھ کیا گیا فیصلہ ہے،یہ طے پاچکا تھاکہ پاکستان کا بیانیہ خراب کرنا ہے اور کردیا ہے، یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

شعیب اختر کا کہنا ہے کہ میری خواہش تھی کہ کاش انگلینڈ پاکستان آجائے اور یہ بیانیہ دے سکیں کہ پاکستان محفوظ ملک ہے لیکن انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہاکہ آپ کو فوجی نکالنے ہوتے ہیں تو پاکستان سے زیادہ کوئی اچھا ملک نہیں ہوتا اور جب فلائٹ نہ مل رہی ہو تو پی آئی اے سے زیادہ اچھی فلائٹ نہیں ملتی، جب ضرورت پڑتی ہے تو ہمارا سب اچھا ہوجاتا ہے اور جب ضرورت نہیں رہتی پھر ہمارا سب کچھ برا ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ نے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے مایوس کا اظہار کیا ہے۔



رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا فیصلہ مایوس کن ہے، ضرورت کے وقت ساتھ نہ دینے پر افسردہ ہیں، بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کیلئے پاکستان کو اس وقت ساتھ کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ چئیرمین پی سی بی کا مزید کہنا ہے کہ انشاءاللہ یہ وقت بھی گزر جائے گا، اب ہمیں دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیم بن کر دکھانا ہو گا، ایک ایسی ٹیم جس کے ہوم گراونڈ پر کرکٹ کھیلنے سے کوئی ملک انکار نہ کر سکے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے نیوزی لینڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی سیریز کے حوالے سے یکطرفہ فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ نے سیکورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر اکتوبر میں اپنی مینز اور ویمن کرکٹ ٹیمیں پاکستان بھیجنے سے معذرت کر لی ہے، انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے ٹوئٹر اکاونٹ سے بھی اس فیصلے کی تصدیق کی گئی۔



انگلش کرکٹ بورڈ حکام کے مطابق سیکورٹی خدشات سے متعلق اطلاعات ملنے کے بعد اپنی ٹیمیں اگلے ماہ پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے جاری بیان میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے موقف اختیار کیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث کھلاڑیوں کو پاکستان کا سفر کرنے پر تحفظات ہیں، کرونا صورتحال کی وجہ سے بھی کھلاڑیوں پر بہت زیادہ دباو ہے۔

کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی فلاح سب سے اہم ہے، پاکستان کے دورے سے کھلاڑی مزید ذہنی دباو کا شکار ہوں گے، اس لیے ان پر مزید ذہنی دباو نہیں ڈال سکتے۔ سمجھتے ہیں فیصلے سے پی سی بی کو مایوسی ہو گی، پی سی بی نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کیلئے انتھک محنت کی، جانتے ہیں اس فیصلے سے پاکستان کی کرکٹ پر اثرات پڑیں گے، اس لیے اپنے فیصلے پر پی سی بی سے معذرت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ انگلینڈ کی مینز کرکٹ ٹیم کو اگلے ماہ 13 اور 14 اکتوبر کو راولپنڈی میں 2 ٹی ٹوئنٹی میچز کی مختصر سیریز کھیلنے کیلئے پاکستان آنا تھا۔ یہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا 2005 کے بعد پہلا دورہ پاکستان ہوتا، اس حوالے سے پی سی بی اپنی تمام تیاریاں مکمل کر چکا تھا۔