مسلسل تاخیر کے باعث گوادر بین الاقوامی ائیرپورٹ کی تعمیری لاگت میں 138 فیصد اضافہ

سی پیک میں شامل منصوبہ اب 51 ارب 30 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے 2023 تک مکمل کیا جائے گا

muhammad ali محمد علی جمعہ 24 ستمبر 2021 00:16

مسلسل تاخیر کے باعث گوادر بین الاقوامی ائیرپورٹ کی تعمیری لاگت میں ..
گوادر (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 23 ستمبر 2021ء) مسلسل تاخیر کے باعث گوادر بین الاقوامی ائیرپورٹ کی تعمیری لاگت میں 138 فیصد اضافہ۔ تفصیلات کے مطابق سی پیک میں شامل گوادر بین الاقوامی ائیرپورٹ منصوبہ اب جلد سے جلد مکمل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ساحلی شہر گوادر میں تعمیر ہونے والے ملک کے دوسرے بڑے بین الاقوامی ائیرپورٹ کی تعمیری لاگت کا دوبارہ سے تخمینہ لگایا گیا ہے، ذرائع کے مطابق مسلسل تاخیر کے باعث منصوبے کی کل لاگت میں اب تک 138 فیصد کا اضافہ ہو چکا۔

حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گوادر ائیرپورٹ 51 ارب 30 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے 2023 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ساحلی شہر گوادر میں ملک کے ایک اور عالمی معیار کے ائیرپورٹ کی تعمیر کیلئے فنڈز کی منظوری گزشتہ سال اکتوبر میں دی گئی تھی، جس کے بعد باقاعدہ تعمیراتی کام کا آغاز ہوا۔

(جاری ہے)

منصوبے کیلئے زیادہ تر فنڈز چین کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔

چین کی جانب سے منصوبے کی تعمیر کیلئے 34 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ 2007 میں ابتدائی طور پر گوادر ائیرپورٹ 7 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2015 میں منصوبے کو 22 ارب روپے کی لاگت سے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پھر گزشتہ برس تحریک انصاف کی حکومت نے کئی فیصد زائد لاگت سے ائیرپورٹ کی تعمیر شروع کرنے کیلئے فنڈز کی منظوری دی۔

فنڈز کی منظوری کے بعد گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تعمیراتی کام کا آغاز ہو چکا، تمام زیر التواء مسائل حل کر دیئے گئے۔ متعلقہ حکام کا بتانا ہے کہ گوادر ائیرپورٹ پاکستان کا جدید اور شاندار ترین ائیرپورٹ ہوگا۔ یہ منصوبے مختلف وجوہات کی بنا پر کئی برس سے مکمل نہیں ہو پایا۔ تاہم پھر وزیراعظم عمران خان نے خصوصی دلچسپی لے کر منصوبے کی تعمیر کا جلد آغاز کروانے کی بھرپور کوششیں کیں اور بالآخر ائیرپورٹ کی تعمیر کا آغاز ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق چین گوادر ائیرپورٹ کے منصوبے کی بلاجواز تاخیر پر سخت نالاں تھا، جس کے بعد وزیراعظم نے اس منصوبے میں خصوصی دلچسپی لی۔ بتایا گیا ہے کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد گوادر ائیرپورٹ پاکستان کا سب سے جدید اور شاندار ترین ائیرپورٹ ہوگا۔ یہ پاکستان کا دوسرا ائیرپورٹ ہوگا جہاں دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ اے 380 بھی لینڈ کر سکے گا۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اس وقت نیا اسلام آباد ائیرپورٹ ملک کا سب سے بڑا اور عالمی معیار کے مطابق جدید ترین ائیرپورٹ قرار دیا جاتا ہے۔ منصوبے کے حوالے سے سول ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کو 2023 تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن ہے۔ ائیرپورٹ کی تعمیر کا کام پورے زور و شور سے جاری ہے، ائیرپورٹ کو ستمبر 2023 میں آپریشنل کر دیا جائے گا۔