بلوچستان کے پر فضا مقام مولا چٹوک میں گزاری تاروں بھری رات کا حال

DW ڈی ڈبلیو اتوار 26 ستمبر 2021 14:00

بلوچستان کے پر فضا مقام مولا چٹوک میں گزاری تاروں بھری رات کا حال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 ستمبر 2021ء) بلوچستان کا نام سامنے آئے تو سنگلاخ بنجر پہاڑ تصور میں آتے ہیں۔ کسی زمانے میں بلوچستان کے بہت سے علاقے سرسبز بھی تھے مگر موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کی کمی کے باعث اب وہ سبزہ بھی غائب ہو چکا ہے۔ بلوچستان کے ضلع خضدار میں واقع پر فضا مقام ’مولا چٹوک‘ نا صرف اپنی خوبصورتی میں یکتا ہے بلکہ ابھی تک موسمی اثرات اور سیاحوں کی پھیلائی آلودگی سے پاک ہے۔

مولا چٹوک کا مطلب کیا ہے؟

مولا چٹوک تک پہنچنے کا ایک راستہ ضلع جھل مگسی سے بھی جاتا، جس سے آگے دریائے مولا ہے۔ جھل مگسی کے رہائشی ببرک کارمل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس مقام کا نام مولا چٹوک مقامی افراد نے رکھا ہے۔ بلوچی زبان میں مولا کسی چھوٹے سے علاقے اور چٹوک آبشار کو کہا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

اس مناسبت سے اسے مولا کی آبشار بھی کہتے ہیں کیونکہ یہاں متعدد چھوٹی بڑی آبشاریں ہیں، جن کی خوبصورتی الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

ان میں سے ایک چھوٹی آبشار کے قریب پیر چنال کا مزار ہے، جس کے تالاب میں مچھلیاں بھی ہیں مگر مقامی افراد سیاحوں کو ان کا شکار کرنے سے روکتے ہیں۔

مولا چٹوک تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے؟

فہد جیلا نی کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور ایوارڈ یافتہ فوٹو گرافر ہیں۔ فہد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وہ بلوچستان میں پسنی، گوادر، کوسٹل ایریاز اور ہنگول نیشنل پارک تقریبا ہر جگہ فوٹو گرافی کر چکے ہیں۔

چند سال قبل انہیں ایک دوست سے مولا چٹوک کی خوبصورت آبشار کے بارے میں معلوم ہوا تو کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے دوستوں کے ساتھ یہاں پکنک کا پروگرام بنایا۔ یہ مقام کراچی سے تقریبا 600 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور خضدار سے آگے زیادہ تر راستہ پتھریلا ہے۔

فہد بتاتے ہیں کہ مولا چٹوک تک پہنچنے کے دو اہم راستے خضدار سے نکلتے ہیں اس سے آگے تقریبا 65 کلومیٹر کا کچا راستہ ہے، جو کار کے ذریعے طے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے فور وھیلر کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہت سے پتھریلے راستے اتنے دشوار ہیں کہ فور وھیلر تقریبا 45 ڈگری کے زاویے پر چلتی محسوس ہوتی ہے،''جب ہم نے مولا چٹوک پہنچ کر اپنے گائیڈ کے کہنے پر پہاڑ چڑھنا شروع کیا تو یہ جگہ کچھ بھی پر کشش محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہی سنگلاخ پہاڑ تھے جو بلوچستان کی پہچان ہیں مگر کوئی 20 منٹ کی چڑھائی کے بعد یک دم جب پہاڑوں میں گھری مولا کی آبشار پر نظر پڑی تو کچھ لمحوں کے لیے ہم مبہوت رہ گئے۔

‘‘

فہد بتاتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے تقریبا سب ہی علاقوں میں سفر کر چکے ہیں۔ ان کے لیے یہ امر انتہائی حیران کن تھا کہ بلوچستان میں اتنی خوبصورت آبشاریں بھی موجود ہیں۔ بڑی اور چھوٹی آبشاروں کے ساتھ نیلگوں شفاف پانی کے تالاب سیاحوں کو مسحور کر دیتے ہیں، جن کا پانی بہت ٹھنڈا اور فرحت بخش محسوس ہوتا ہے۔

مولا چٹوک پر گزاری گئی رات اور فلکیاتی سیشن کا حال

فہد جیلانی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وہ بلوچستان میں ایسے علاقوں پر جاتے ہوئے ایسٹروفوٹوگرافی کے لیے درکار تمام چیزیں ساتھ لے کر نکلتے ہیں کیونکہ آبادی سے دور پہاڑوں میں گھرے یہ علاقے روشنی کی آلودگی سے پاک ہوتے ہیں اور فلکیاتی فوٹو گرافی کے لیے انتہائی موزوں جگہ سمجھے جاتے ہیں۔

اگرچہ ان کے ساتھی مولا کی آبشار کے قریب رات گزارنے پر تیار نہیں تھے کیونکہ اس جگہ سانپ اور بچھو کثرت سے ہوتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ایک ایسی جگہ کا انتخاب کیا، جہاں سے آبشار کے ساتھ ملکی وے گلیکسی کو بخوبی کیمرے میں محفوظ جا سکتا تھا۔ واپسی پر جب انہوں نے اس رات کھینچی گئی تصاویر پروسیس کیں تو وہ خود بھی حیران رہ گئے تھے۔

فہد کے مطابق اس جگہ کو اگر حکومتی سر پرستی میں لے کر سیاحتی مقام قرار دے دیا جائے تو بلوچستان حکومت اس سے کافی ریوینیو حاصل کر سکتی ہے۔ اس طرح مولا چٹوک کے قدرتی حسن کی حفاظت میں بھی مدد ملے گی وگرنہ کچھ ہی عرصے میں یہاں سے آنے والے سیاح بھی اس خوبصورت مقام کو آلودگی کا ڈھیر بنا دیں گے۔