لیفٹیننٹ جنرل آرمی چیف کے حکم کا پابند ہے، وزیراعظم جاہلانہ انداز میں کھڑے ہیں

وزیراعظم کو اتنی مداخلت نہیں کرنی چاہیے کہ نظام متاثر ہو، فوج واحد منظم ادارہ ہے جو پاکستان کی امید ہے،یہ لوگ پاکستان کو ڈبونے کیلئے آئے ہیں، عقل مندی سے کام لینا ہوگا۔ صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 13 اکتوبر 2021 18:27

لیفٹیننٹ جنرل آرمی چیف کے حکم کا پابند ہے، وزیراعظم جاہلانہ انداز میں ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اکتوبر2021ء) جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہےکہ لیفٹیننٹ جنرل آرمی چیف کے حکم کا پابند ہے، وزیراعظم جاہلانہ انداز میں کھڑے ہیں، وزیراعظم کو اتنی مداخلت نہیں کرنی چاہیے کہ نظام متاثر ہو، فوج واحد منظم ادارہ ہے جو پاکستان کی امید ہے،یہ لوگ پاکستان کو ڈبونے کیلئے آئے ہیں، عقل مندی سے کام لینا ہوگا۔

انہوں نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان مرحوم کے گھر اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان مرحوم  تاریخ کا روشن باب ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان خوش قسمت ہیں کہ اپنے حصے کا کام کرکے گئے ہیں۔ صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل آرمی چیف کے ماتحت اور ان کے حکم کا پابند ہے، وزیراعظم کو اتنی مداخلت نہ کریں کہ نظام متاثر ہو جائے، سارے معاملات کو مشاورت سے چلانا چاہیے، وزیراعظم ایک غلط چیز پر جاہلانہ انداز میں کھڑے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ ہر کوئی اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہے،آئین کے مطابق فیصلوں سے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، فکریہ ہے کہ ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے، یہ لوگ پاکستان کو ڈبونے کیلئے آئے ہیں، لمحہ بہ لمحہ صورتحال بدل رہی ہے، عقل مندی سے کام لینا ہوگا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ آئی ایس آئی کے نئے ڈی جی کے تقرر کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئے تقرر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر سول اور فوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی کے لیے تمام ادارے متحد اور یکساں ہیں۔