پاکستان اسٹیل ملز اسٹیک ہولڈرز گروپ کا مجوزہ نجکاری عمل پر شدید تحفظات کا اظہار

نجکاری کمیشن پر پلانٹ اثاثوں کی مالیت کم دکھانے، زمین تخمینہ شامل نہ کرنے، مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری نہ لینے کا الزام، ملازمین کی جبری برطرفیاں نہ روکنے اور تحفظات دور نہ کرنے پر قانونی کاروائی کا عندیہ

جمعہ 15 اکتوبر 2021 15:47

پاکستان اسٹیل ملز اسٹیک ہولڈرز گروپ کا مجوزہ نجکاری عمل پر شدید تحفظات ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اکتوبر2021ء) پاکستان اسٹیل ملز اسٹیک ہولڈرز گروپ نے پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی ادارے کے قیمتی اثاثوں کو ایک ذیلی کمپنی اسٹیل کورپ پرائیویٹ لمیٹڈ بنا کر اس کے اکثریتی حصص (51فیصدتا75فیصد) بمعہ انتظامی کنٹرول کے پرائیویٹائزیشن کمیشن کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کو بیچنے کے حکومتی عمل کی شدید مخالفت کی ہے اور اس عمل کو غیر شفاف قرار دے کر ذمہ داران کے خلاف احتساب کے متعلقہ اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں کنوینراسٹیک ہولڈرز گروپ ممریز خان نے وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ ماہ 14 ستمبر کو ایک خط ارسال کیا جس پر انکے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔اسٹیک ہولڈرز گروپ کے مطابق ملزکے مجوزہ نجکاری عمل میں متعدد قانونی نقائص اور بیضابطگیاں ہیں جو اسٹیل ملز کے پرائیویٹائزیشن اسکینڈل 2006کے مماثل ہیں۔

(جاری ہے)

یادرہیکہ سپریم کورٹ نے وطن پارٹی کی جانب سے دائر کردہ درخواستCP-9/2006 کے تناظر میں اس وقت دئیے گئے اپنے تاریخی فیصلے میں نہ صرف نجکاری کے عمل کو کلعدم قرار دیا تھا بلکہ متعدد قانونی و دیگر بے ضابطگیوں کی بھی نشاندھی کی تھی جو اس منصوبے کی غیر شفافیت کو ثابت کرتی تھیں۔ ان میں سے چند ایک مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری نہ لینا، زمین کی مالیت کو ملزکے تخمینے میں شامل نہ کرنا اور پلانٹ، مشینری و دیگر انونٹری کا صحیح تخمینہ نہ لگانا بھی چند قابل ذکربے قاعدگیوں میں شامل تھے۔

اسٹیک ہولڈرز گروپ کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام بے ضابطگیاں موجودہ 2021 میں کیے جانے والے مجوزہ نجکاری کے عمل میں بھی موجود ہیں۔ موجودہ حکومت نے ابھی تک مشترکہ مفادات کونسل سے اسٹیل ملز کی نجکاری کی منظوری نہیں لی ہے کیونکہ سندھ حکومت اس نجکاری عمل کی مخالف ہے جس میں تمام ملازمین کو جبری برطرف کیا جا رہا ہے۔ اسٹیل ملز کی زمینوں کا 2020-2021 میں کوئی آزادانہ تخمینہ نہیں لگایا گیا جبکہ پورٹ قاسم ٹاؤن میں صنعتی زمینوں کی مالیت 7 کروڑ سے 9 کروڑ فی ایکڑ تک پہنچ چکی ہے۔

اسٹیل کورپ پرائیویٹ لمیٹڈ کو دی جانے والی 1229 ایکڑ پلانٹ کی زمین کی مالیت کو اسکے اثاثوں میں شامل نہ کرنا واضح بیضابطگی ہے جبکہ اس زمین کی مالیت 90 سے 110 ارب روپے بنتی ہے۔مزیدبرآں تفصیلات کے مطابق نجکاری کے عمل کے لیے پی ایس ایم سی کے 560 ارب روپے کے کل اثاثوں میں سے 134 ارب کے اثاثے اسٹیل کورپ کو منتقل کر دیے گئے ہیں جن کا تخمینہ لگانے کے لیے کسی بین الاقوامی ٹینڈر کے ذریعے اسٹیل سیکٹر کی ویلیویش کی ماہر کمپنی کا انتخاب کرنیکے بجائے ایک لوکل انشورنس ویلیویٹر فرم جوزف لوبو پرائیویٹ لمیٹڈ کا انتخاب کیا گیا جس پر اسٹیک ہولڈرز گروپ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

گروپ کے مطابق اس کمپنی نے اسٹیل ملز کے پلانٹ اور مشنری کی مالیت صرف 98.2 ارب روپے، فیکٹری بلڈنگ کی مالیت 31.4 ارب روپے، اسٹیل ملز میں موجود ریل، روڈ اور پلوں کی مالیت 1.1 ارب روپے جبکہ گیس و بجلی تنصیبات کی مالیت 927 ملین روپے، پانی و سیوریج نظام کی مالیت 368 ملین روپے اور اسٹورز میں موجود پرزہ جات اور ٹولز کی مالیت صرف 983 ملین روپے لگائی گئی ہے جو کہ ان کی موجودہ اصل مالیت سے انتہائی کم ہے۔

گروپ کے مطابق اس سے زائد مالیت تو اگر اسٹیل ملز کے پلانٹ، مشنری اور انفراسٹرکچر کو اسکریپ کے بھاؤ بیچ دیا جائے تو حاصل ہو جائے جبکہ یہ ایک 11 لاکھ ٹن سالانہ پیداوار کا حامل پلانٹ ہے جو 30 لاکھ ٹن سالانہ پیداوار تک باآسانی قابل توسیع ہے۔اسٹیک ہولڈرز گروپ کے مطابق انتہائی حیران کن طور پر متوقع خریدار (انویسٹر) کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے اسٹیل ملز کارپوریشن کے ذمہ 31 دسمبر 2020 تک کل قابل ادائیگی 308 ارب روپے کے واجبات میں سے صرف موخرشدہ ٹیکس ادائیگیوں کی مد میں 38.2 ارب روپے سبسڈری اسٹیل کورپ کو منتقل کئے گئے ہیں جبکہ 270 ارب روپے کی ادائیگیاں کارپوریشن کے ذمہ باقی رہیں گی۔

کارپوریشن کے ذمہ یہ ادائیگیاں گزرتے وقت کے ساتھ مزید بڑھیں گی کیونکہ اس میں حکومت پاکستان اور دیگر مالیاتی اداروں سے حاصل شدہ سودی قرضے شامل ہیں جبکہ ہزاروں جبری برطرف شدہ ملازمین کو کی جانے والی ادائیگیاں اور ملکی و غیر ملکی سپلائرز کو کی جانے والی اربوں روپے کی ادائیگیاں بھی ابھی باقی ہیں۔ یوں یہ تمام ادائیگیاں حکومت پاکستان اور پی ایس ایم سی کے ذمہ باقی رہیں گی جبکہ متوقع خریدار بغیر کسی بھی قسم کے واجبات کی ادائیگیوں کی ذمہ داری لیے پلانٹ اور مشنری کا کنٹرول سنبھال سکے گا اور اسٹیل مینوفیکچرنگ کے ایک منافع بخش کاروبار کا مالک بن جائے گا۔

گروپ نے پرائیویٹایزیش کمیشن کے ان اقدامات کو ملک وقوم اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ ایک سنگین مذاق قرار دیا ہے۔گروپ کے مطابق پوری دنیا میں ایسے کسی نجکاری عمل کی مثال نہیں ملتی جہاں 100فیصدتمام ملازمین کو فارغ کر کے ہر قسم کی اربوں روپے کی ادائیگیاں حکومت اپنے ذمہ لے اور خریدار کو صرف منافع کمانے کے لیے اسٹیل پلانٹ برائے نام قیمت پر حوالے کر دے۔

گروپ کے مطابق یہ صرف قوم کے ساتھ کیا جانے والا دھوکہ ہے جس کا مقصد صرف متوقع خریدار کو فائدہ پہنچانا ہی- گروپ کے مطابق پی ایس ایم سی کے ذمہ 308 ارب روپے واجبات کی ادائیگی کیے بغیر اسٹیل کورپ سبسڈری کا قیام قطعی غیرقانونی عمل ہے اور ان تمام بے ضابطگیوں پر سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آفس پاکستان کی خاموشی قابلِ تشویش ہے۔واضح رہے کہ اسٹیل ملز کی پہلے سے موجود ایک سبسڈری کمپنی، پاکستان اسٹیل فیریکٹنگ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ بھی شدید نقصان میں ہے اور اسکے گزشتہ کئی سالوں کے آڈٹ شدہ حسابات بھی بورڈ اور ایس ای سی پی کو پیش نہیں کیے جا رہے جبکہ موجودہ سی ای او اسٹیل ملز مطلوبہ تعلیمی قابلیت، تجربہ واہلیت نہ رکھنے کے باوجود اس سبسڈری کمپنی کے بھی سی ای او کے عہدے پر براجمان ہیں۔

واضح رہے کہ 2006میں سپریم کورٹ کی جانب سے اسٹیل ملزکی نجکاری کا عمل کالعدم قرار دے جانے کے بعد خریدار بولی دہندہ کنسورشیم میں شامل عارف حبیب گروپ کی جانب سے دائر کردہ نظر ثانی درخواست CRP-311/2006 بھی ابھی تک سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔اسی طرح ملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف بھی متعدد درخواستیں سندھ لیبر کورٹس، سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں جبکہ موجودہ انتظامیہ کے چیدہ افراد بشمول سی ای او، پی ای او (ایاینڈپی) اور جی ایم (سکیورٹی) کی خلاف ضابطہ تقرریوں کے خلاف بھی پیپلز ورکرز یونین کی دائر درخواست CP-4699/2020 بھی گزشتہ ایک سال سے سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

گروپ کے مطابق اسٹیل ملز کی بحالی حکومتی ملکیت میں ملکی وسائل اور تکنیکی افرادی قوت سے ممکن ہے اور پرائیویٹائزیشن کے عمل کا کوئی جواز نہیں۔ اسٹیک ہولڈرزگروپ نے حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ترمیمی احتساب آرڈیننس پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جس میں ای سی سی اور وفاقی کابینہ کے فیصلوں کو نیب کاروائی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

گروپ کے مطابق اس آرڈینینس کے ذریعے نجکاری کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ اسٹیل ملز اور دیگر اداروں کی خلاف ضابطہ نجکاری کے عمل کو بھی تحفظ و استثنیٰ دینے کی ناجائز کوشش کی گئی ہے جبکہ ان فیصلوں اور قومی اثاثوں کی اونے پونے فروخت سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ گروپ نے وزیراعظم، احتساب کے قومی اداروں اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان سے اسٹیل ملز کی مجوزہ نجکاری میں ہونے والی مذکورہ بے ضابطگیوں پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ بصورت دیگر حصول انصاف کے لئے اعلیٰ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔