وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر ملک بھر کی طرح زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی سینئر ٹیوٹر آفس کے زیراہتمام عشرہ رحمت العالمین کے سلسلہ میں ربیع الاول کا کلیدی پروگرام مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہوا

بدھ 20 اکتوبر 2021 11:38

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر ملک بھر کی طرح زرعی یونیورسٹی ..
فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2021ء) وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر ملک بھر کی طرح زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھی سینئر ٹیوٹر آفس کے زیراہتمام عشرہ رحمت العالمین کے سلسلہ میں ربیع الاول کا کلیدی پروگرام مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہوا جہاں نامور دانشور اور مذہبی سکالر پروفیسراسرار حسین معاویہ نے سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤ ں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستانی معاشرہ مختلف اخلاقی‘ سماجی اور معاشرتی بیماریوں کا شکار ہوکر آقائے دو عالم حضرت محمد ﷺ کی مدینہ آمد سے پہلے کے یثرب کا نقشہ پیش کر رہا ہے لہٰذا ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اسے سیرت نبوی کی روشنی سے منور کرتے ہوئے بہارکی خوبصورتیوں میں تبدیل کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ انسانی تاریخ میں قلب و روح کی بالیدگی کے حوالے سے سب سے طویل 600سال کی خزاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روانگی کے بعد آئی جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغام‘ کوئی علم و عرفا ں کی بارش نہیں ہوئی جس کا خاتمہ ہمارے محبوب نبی حضرت محمد ﷺکی آمد کے ساتھ ممکن ہوا لہٰذا ہمیں اپنے قلب و روح کے ریگستانوں میں سنت رسول ﷺکے تازہ و خوشنما پھول اُگاتے ہوئے معاشرے کو پھر سے خوبصورت اور معطر بنانا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اپنے قلوب میں یقین کے پودے کو سرسبزوشادب رکھنے‘ نماز پنجگانہ کے قیام کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نماز کی طرف لانے کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے لہٰذا اس اہم معاملے پر دین و دانش سے وابستہ لوگوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے حرام کی الائشوں سے محفوظ رکھنا ہوگا۔

مولانا اسرار احسین معاویہ نے کہا کہ اس ماہ ربیع (یعنی بہارکا مہینہ) میں اپنی اناؤں کے بتوں کو توڑتے ہوئے دوسروں کو معاف کرنے کی سنت کو فرو غ دیا جائے تو یقینا معاشرے میں خوشگوار تبدیلی لائی جا سکتی ہے لہٰذا صلح رحمی اور دوسروں کو معاف کرنے جیسی عظیم سنت پر عمل پیرا ہوکر ہم میلاد النبیﷺ منانے کا حق بہترطور پر ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آمنہ کے لعل کی آمد سے پہلے مدینہ کو یثرب یعنی بیماریوں کے گھر سے جانا جاتا تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد سے بیماریوں میں گھرا یثرب مدینہ منورہ بن گیا اور ہر طرف صلح جوئی‘ خوف خدا‘ بھائی چارہ‘ عبادات اور کھلے قلب و ذہن کے ساتھ رزق کو طیب و مطاہر کرنے کا باقاعدہ اہتمام کیا جانا لگا لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اسوہ حسنہ ﷺ پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں اخلاقی خوبصورتیوں کے خوشنما پھول اُگانے کیلئے شعوری کاوشیں بروئے کارلائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے عہدے اللہ تعالی کی طرف سے انعام کے ساتھ ساتھ بڑی آزمائش بھی ہوتے ہیں لہٰذا ان عہدوں کے ذریعے لوگوں میں آسانیاں تقسیم کرنے اور ان کی زندگیوں میں خوشیوں کی بہار لانے کا اہتمام ہی انسانیت کی خدمت اور حقوق کی صحیح معنوں میں بجا آوری ہے۔یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں (ستارہئ امتیاز) نے اپنے آڈیو پیغام میں ولادت نبی آخرالزماں ﷺکوقیامت تک کیلئے رحمت العالمین کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ آپ ﷺکے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بھی ہمیشہ کیلئے بہاروں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے تیسری مرتبہ یونیورسٹی کی قیادت سنبھالی ہے اور اس حوالے سے پرعزم ہیں کہ اس دوران کیمپس کمیونٹی کیلئے نت نئی آسانیاں پیداکرنے کے ساتھ ساتھ برسوں سے لوگوں کے رُکے ہوئے جائز کام کرنے اور مجموعی ویلفیئر کیلئے سو چ بچار کوعملی صورت میں ڈھالا جائے۔ تقریب سے سیکرٹری مساجد کمیٹی ڈاکٹر فقیر محمدنے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں ڈینز ڈائریکٹرز‘ چیئرمین‘ اساتذہ‘ ٹریژرعمر سعید قادری‘ پرنسپل آفیسرتعلقات عامہ ڈاکٹر جلال عارف‘ سینئر ٹیوٹر ڈاکٹر عبدالنوید بھی شریک تھے۔اس موقع پر شرکاء میں عید میلاد النبیﷺکی خوشی میں مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔