کوپ26میں پاکستانی وفد پر کتنے اخراجات آئی اور کیا کامیابیاں ملیں ، قائمہ کمیٹی نے تفصیلات مانگ لیں

جب تک انکوائری نہیں ہو جاتی اس وقت تک تفصیلات نہیں بتا سکتی،COP26کی تیاریاں چھ ماہ پہلے ہو رہی تھیں، زرتاج گل

پیر 29 نومبر 2021 16:39

کوپ26میں پاکستانی وفد پر کتنے اخراجات آئی اور کیا کامیابیاں ملیں ، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 نومبر2021ء) قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے کہاہے کہ بلین ٹری سونامی کے بارے میں انٹرنل انکوائری کر کے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے،کوپ26میں پاکستانی وفد پر کتنے اخراجات آئی اور کیا کامیابیاں ملیں ۔قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا چیئرپرسن منزہ حسن کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں گفتگو کرتے ہوئے چیئر پرسن کمیٹی نے کہاکہ موسمیاتی کمیٹی پارلیمنٹ کی واحد نالج حب کمیٹی ہے۔

منزہ حسن نے کہاکہ اب تک جتنے بھی بین الاقوامی پروٹوکول پر دستخط نہیں کئے گئے،اگر رولز نہیں بنائیں گے تو پروٹوکولز کا کوئی فائدہ نہیں۔ میجر ریٹائرڈ طاہر صادق نے کہاکہ بین الاقومی COP26 کے وفد میں کرپشن ہوئی،سارے رشتہ داروں کو ساتھ لے کر گیا۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ نواسے،نواسیوں کو ساتھ لے کر گیا،دس بلین سونامی پراجیکٹ میں بھی خرد برد کی شکایات ہیں،اس پراجیکٹ کی تھرڈ پارٹی آڈٹ کرائی جائے،گلوفIIپراجیکٹ میں ایک ایک افسر کے پاس چار چار گاڑیاں ہیں۔

طاہرصادق نے کہاکہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پروکیورمنٹ میں 6.3ملین کی خرد برد کی شکایات ہیں۔ رومینہ خورشید نے کہاکہ گلاسگو میں COP26کے دوران پاکستانی پویلین بالکل ویران تھے،گھانا اوردوسرے ممالک کے پویلین اس سے زیادہ پررونق تھا۔رومینہ خورشید نے کہاکہ پاکستانی سٹال پرصرف مارخور کی تصویرتھی،ریاض فتیانہ نے سچ بولا اورنوٹس بھی ملا۔

منزہ حسن نے کہاکہ میں COP26میں وزارت کیطرف سے نہیں گئی،مجھے ہاؤس آف کامنز نے مدعو کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے کہاکہ کون کون وزیراعظم کی اجازت سے گئی رپورٹ جمع کرائی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے کہاکہ وفد پر جتنے بھی اخراجات آئے ہیں اس کی تفصیلات کمیٹی کو پیش کی جائے،وزارت کے محکموں میں انویسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ منزہ حسن نے کہاکہ بلین ٹری سونامی کے بارے میں انٹرنل انکوائری کر کے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے،کوپ26میں پاکستانی وفد پر کتنے اخراجات آئی اور کیا کامیابیاں ملیں ۔

سیکرٹری وزارت اموسمیاتی نے کہاکہ افسران کو ایڈیشنل چارج افسران کی کمی کی وجہ سے دیا گیا۔ وزیر مملکت نے کہاکہ میں نے آج تک کمیٹی کو سکپ نہیں کیا۔ زرتاج گل نے کہاکہ جب تک انکوائری نہیں ہو جاتی اس وقت تک تفصیلات نہیں بتا سکتی،COP26کی تیاریاں چھ ماہ پہلے ہو رہی تھیں۔ زرتاج گل نے کہاکہ کون کون وفد میں شامل تھے مجھے کوئی پتہ نہیں تھا،جب وزیراعظم کی طرف سے اپرول آیا تو میرانام سب سے اوپر تھا۔

زرتاج گل نے کہاکہ چار سالوں میں ایک دفعہ آسٹریلیا گئی ہوں،میں آسٹریلیا کی اسٹیٹ مہمان تھیں،میری بیٹی اور شوہر اپنے اخراجات برداشت کیے۔ زرتاج گل نے کہاکہ جن کی بیٹی اور رشتہ داروں کے نام ٹکٹس لیے ہیں وہ خود کلیئر کروادیں۔ زرتاج گل نے کہاکہ COP26میں پاکستان کی فلیگ شپ پروگرام کو دنیا تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی،ٹین بلین ٹری کے بارے میں بھی ضرور انکوائری ہونی چاہیے،ٹین بلین پر بین الاقومی نہیں پی ایس ڈی پی کی14ارب خرچ ہو رہے ہیں۔

میجر ریٹائرڈ طاہر صادق نے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق معاون خصوصی انتظامی اختیارات استعمال نہیں سکتے،کمیٹی نے COP26کے دوران پاکستانی وفد کے اخراجات اور کامیابیوں کی تفصیلات طلب کر لی۔ اجلاس کے دور ان پاکستان انکوائرمنٹل پروٹیکشن بل 2011کمیٹی میں پیش کیا گیا ۔ علی گوہر خان نے کہاکہ ہائوسنگ سوسائیٹیز کو ہر پلاٹ کے آگے درخٹ لگانے کا پابند بنایا جائے۔

منزہ حسن نے کہاکہ سی ڈی اے کمیٹی میں آنے سے ہی کتراتی ہے،تین سال بعد کمیٹی میں بل آیا مگر وزارت قانون کا نمائندہ نہیں آیا،جواب طلب کی جائے۔ علی گوہر نے کہاکہ اسلام آباد میں دھڑا دھڑا ہاوسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔ منزہ حسن نے کہاکہ ائیرپورٹ کے اطراف اتنی سوسائٹیز بن رہی ہیں جیسے سونے کی کان نکل رہے ہو،کاربن امیشن میں پاکستان کا صرف ایک فیصد حصہ ہے،باقی زیادہ کاربن پیدا کرنے والے ممالک ابھی تو صرف معاہدے کر رہے ہیں۔

سیکرٹری ماحولیات پنجاب کی کمیٹی سے غیر حاضری پر کمیٹی برہم ہوگئی ، چیئر مین پرسن نے کہاکہ سموگ کی وجہ سے لوگوں کا سانس لینا مشکل ہو گیا ہے،لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا مگر ڈی جی کوئٹہ گئی ہے۔ منزہ حسن نے کہاکہ بھٹے تو جل رہے ہیں مگر محکمہ ماحولیات پنجاب نے کچھ نہیں کیا۔ڈی جی فیڈرل پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے بتایاکہ پاک ای پی اے میں ساتھ افسران،ایک فیلڈانسپکٹر اور 38سپورٹنگ اور کلیریکل سٹاف ہیں۔

منزہ حسن نے کہاکہ آفس قائم ہو گیا مگر ای پی اے کے ماہرین موجود نہیں۔ میجر ریٹائرڈ طاہر صادق نے کہاکہ کیا ان خالی پوسٹوں کی تنخواہیں آرہی ہیں ،ماشاء اللہ تقرریاں ہوئیں نہیں مگر تنخواہیں آ رہی ہیں۔ڈی جی پاک ای پی اے نے کہاکہ گریڈ سترہ اور دیگر افسران کی تنخواہیں آرہی ہیں،دو ہزار سترہ سے اب تک دو خطوط آسامیوں کو فل کرنے کیلئے لکھے ہیں۔

منزہ حسن نے کہاکہ سات سالوں میں آپ کو سات سو خطوط لکھنے چاہئیں تھے،ان آسامیوں کو مشتہر کیا جائے،پاکستان میں بہت قابل لوگ ہیں۔ ڈی جی پاک ای پی اے نے کہاکہ پاک ای پی اے پورا اسلام آباد کی ذمہ داری ہے مگر کیپی سٹی بلڈنگ بالکل نہیں ہو رہی،صرف سی ڈی اے کی ڈائریکٹوریٹ میں ڈھائی ہزار سٹاف ہیں۔ڈی جی پاک ای پی اے نے کہاکہ پاک ای پی اے کو ہیومن ریسورس کی ضرورت ہے۔

سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہاکہ پاک ای پی اے کے ہیومن ریسورس کے مسائل حل کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔ منزہ حسن نے کہاکہ اگر پراجیکٹ چل رہے ہیں تو ہیومن ریسورسز کی ضرورت تو پڑے گی،پاکستان میں ہیومن ریسورسز کی کمی ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ وزیر مملکت نے کہاکہ پاک ای پی اے ضلعی انتظامیہ کیساتھ ملکر کا معائنہ کر سکتی ہے،ضلعی انتظامیہ زیادہ تر پاک ای پی اے کیساتھ تعاون نہیں کرتی۔

منزہ حسن نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ریگولیٹرز طاقتور ہو،دنیا بھر میں ریگولیٹرز طاقتور ہوتے ہیں۔ چیئر پرسن نے کہاکہ کیا پاک ای پی اے برقت ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دیتے ہیں ۔ کمیٹی نے پاک ای پی اے کو معائنے کیلئے میکنزم تشکیل دینے کی سفارش کر دی اور کہاکہ وزارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریگولیٹرکا تحفظ کرے۔منزہ حسن نے کہاکہ پاک ای پی اے کی بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔

کمیٹی نے پاک ای پی اے کی بجٹ میں اضافے کی سفارش کردی۔ زرتاج گل نے کہاکہ ٹین بلین سونامی پراجیکٹ میں صرف پلانٹیشن پر کام نہیں کررہے،بائیوڈائیورسٹی اور انوائرمنٹ پر بھی کام کررہے ہیں۔ ڈی جی پاک ای پی اے نے کہاکہ دس بلین ٹری منصوبے کے تحت پولوشن لوڈ اسسمنٹ پراجیکٹ پروگرام بھی جاری ہے۔ منزہ حسن نے کہاکہ دنیا اکیسویں صدی میں ہے مگر اسلام آباد میں ویکولر ایمشن ٹیسٹنگ فیسلٹی نہیں،گیارہ دن بھی پاک ای پی اے ائیرکوالٹی اپڈیٹ کرتی ہے،کیا یہ پاک ای پی اے کی ایفی شنسی ہی ،اس طرح کیا عوام کو آگاہی فراہم کریگی۔

منزہ حسن نے کہاکہ آخری مرتبہ اٹھارہ نومبر کو ائیرکوالٹی کے بارے میں اپڈیٹ کیا گیا۔ ڈی جی پاک ای پی اے نے کہاکہ پورا نومبر اور پورا دسمبر ڈرائی سیزن ہے،کمیٹی نے ای پی اے سے تفصیلی بریفینگ طلب کر لی۔