ا*سیالکوٹ کے واقعہ پر پاکستان میں کون ہے جو شرمندہ نہیں ،شہبازگل

جو لوگ مذہب کے دعویدار بنے انہوںنے مذہب کے نام پر اور دوسروںنے سیکورلرا ازم کے نام پر اپنا منجن بیچا اورکرپشن کی eمیں صرف سیالکوٹ کے واقعہ پر شرمندہ نہیں بلکہ سانحہ ماڈل ٹائون پر بھی شرمند ہ ہوں، شہداء کا خون آج بھی انصاف کی تلاش میں ہے، ،منہاج القرآن یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب

اتوار 5 دسمبر 2021 19:15

ا*سیالکوٹ کے واقعہ پر پاکستان میں کون ہے جو شرمندہ نہیں  ،شہبازگل
#لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 05 دسمبر2021ء) وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹرشہبازگل نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کے واقعہ پر پاکستان میں کون ہے جو شرمندہ نہیںہے ،جو لوگ مذہب کے دعویدار بنے انہوںنے مذہب کے نام پر اور دوسروںنے سیکورلرا ازم کے نام پر اپنا منجن بیچا اورکرپشن کی ،آج ہم آقائے دوجہاں حضرت محمدؐکے بنیادی فلسفہ سے ہٹے ہوئے ہیں ،وزیراعظم عمران خان کو اداراک ہے رحمتؐعام زندگی میں جو طریقے اختیار کرتے تھے،وہ اپنے صحابہ کی کس طرح لیڈر شپ ٹریننگ کرتے تھے اسے بتایا جائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے منہاج القرآن یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹرشہباز گل نے مزید کہا کہ مجھے یہ جان کر انتہائی خوشی ہوئی کہ جن دو تین مقامات پر میری ٹائمز افیئرز کی ڈگری دی جارہی ہے اور ریسرچ پر کام ہو رہا ہے اس میں منہاج القرآن یونیورسٹی بھی شامل ہے ۔

(جاری ہے)

شیخ الاسلام ڈاکٹرعلامہ طاہر القادری کے سیاسی یا مذہبی نظریات ،ان کی فکر سے اختلاف کرنا سب کا حق ہے لیکن ان کی تعلیم کے شعبے میں جو جستجو ہے جو حصہ ہے ، انہوں نے اس میدان میں جو شمع جلائی ہے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا ، ان کی اس فکر سے لاکھوں زندگیاںروشن ہوئی ہیں۔

انہوںنے مجھے بتایا گیا ہے کہ اس یونیورسٹی میںسنٹر آف پیس بھی بنایا گیا ہے،گیمز میںبھی ڈگری کرا رہے ہیں۔غرضیکہ اس درسگاہ میںنوجوانوںکو تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ معاشرتی میدان کیلئے بھی تیار کیا جارہاہے ۔ انہوںنے کہا کہ اب ہماری نئی نسل گیمز کے ذریعے تبدیل ہو رہی ہے ، بچہ ہمارے پہلو میںبیٹھا ہے لیکن اسے اپنی ثقافت کے رجحانات کے خلاف پڑھایا رہا ہے ۔

ہماری تربیت یہ تھی کہ جب ماں رات کو اٹھ کر کھانسے تو بیٹے نے ماں کو پوچھنا ہے لیکن یہ تصور ہے کہ ماں کھانسے گی توبچے کی نیند خراب ہو گی اور وہ صبح تعلیم پر صحیح توجہ نہیں دے سکے گا اور اس لئے ماں کو اولڈ ہائوس میں بھیجنا ضروری ہے ۔آج ہمارابچہ ہمارے پہلو میں ہے لیکن وہ دیار غیر کی معاشرت کو سیکھ رہاہے ۔انہوںنے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند ہے کہ منہاج القرآن یونیورسٹی ماڈرن چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے نئی نسل کو تیار کر رہی ہے ۔

انہوںنے کہا کہ مغربی ممالک نے چند دہائیاں پہلے اپنی عورت کو حقوق دئیے ہیںاور اسے ووٹ ڈالنے کی اجازت ملی ہے ۔ لیکن آج امریکہ اوربرطانیہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم نے عورت کو حقوق لے کردینے ہیں ۔ ہمارے اسلام میں تو کئی سو سال پہلے عورت کوحقوق دے دئیے گئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہمارے مذہب کی بنیاد ہی تعلیم ہے اورکئی سو سال پہلے تک بھی مسلمان سب سے زیادہ تعلیم یافتہ تھے ۔

اسلام کاتصور ہی تعلیم کا سیکھنے کا ہے اور اس کے بغیر اسلام نا مکمل ہے ۔انہوںنے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ فخر کیجیے آپ جس امت میں پیدا ہوئے ہیں ،آپ فخر کیجیے جس ملک میںپیدا ہوئے ہیں، یہاںبہت مسائل ہیں جنہیں ٹھیک کرنا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان واضح کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنی سوچ میں ہی کسی کے غلام ہو گئے تو آپ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔

قوم کے بیٹے وزیر اعظم عمران خان کو ادراک ہے کہ مسلمان جب جب سرورکونین کی تعلیمات کے اوپر عمل پیرا ہوئے ان کے بتائے ہوئے راستے کے قریب ہوئے اللہ نے ہمیں عزت اورنصرت دی اور ہماری غیرت کو بہتر کیا اور جتنا دور جاتے گئے ہماری قسمت میںذلت رسوائی اور اندھیرے لکھے جاتے رہے ۔ انہوںنے کہا کہ مسلمانوںنے سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں اسلام کے دئیے ہوئے شعور کی وجہ سے جھنڈے گاڑھے ۔

آج ہے آقائے دوجہاں حضرت محمد ؐکے بنیادی فلسفہ سے ہٹے ہوئے ہیں ، نبی کریمؐ نے کہا تھاکہ تعلیم حاصل کرو چاہے تمہیں چین تک جانا پڑے۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے رحمت اللعالمین ؐاتھارٹی بنائی ہے جس میں نہ صرف پاکستانی سکالر بلکہ دنیا بھر سے سکالرز کو شامل کیا ۔میں وزیر اعظم میں لگن دیکھی ہے اور وہ اس اتھارٹی کے اجلاسوں کو انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ چیئر کرتے ہیں۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ نبی کریم ؐ کے طریقے بتائے جائیں ۔ ہمارے بچوںکو جونصاب پڑھایا جارہا ہے ، کارٹونز ہیںان کا تعارف ایسا ہو کہ اس میںاسلامی ضابطہ حیات اور اخلاق ہو۔آج ہمارے معاشرے میں غلط سوچ بنی ہوئی ہے ، سیالکوٹ کے واقعہ پر کون ہے جو شرمندہ نہیں ، کس کو دکھ نہیں ہے اورکون کہتا ہے کہ اس کو نہ روکا جائے ۔

جب بھارت میں اقلیتوںکے ساتھ ظلم اورزیادتی ہوتی ہے انہیں قتل کی جاتا ہے تو ہمارا دل اس ظلم پر یہاں دھڑکتا ہے ،یہاںجب ایک غیرملکی کوآگ لگائی جارہی تھی آپ کا دل تب بھی دھڑکاہے،آپ کو مایوسی ہوئی ہے ۔ یہ وہ تمام رویے ہیں جو کسی ایک کی ذمہ داری نہیں ، جو لوگ مذہب کے دعویدار بنے ہیں انہوںنے مذہب کے نام پر کرپشن کی، سیکورلرا ازم والوںنے اپنے دائرے میں کرپشن کی کی ،جو عام آدمی تھا اسے مذہب کے دعویداروں او رسیکولر لوگوں سے بھی نفرت ہوئی کیونکہ ہر کسی نے اپنے منجن کے ساتھ کرپشن کو ضرورت اٹیچ کیا ۔

سب سے زیادہ اہمیت کردار سازی کی ہے ، یہاں کردارنیچے چلا گیا ہے ۔ اوورسیز پاکستان وہاں تو میرٹ پر چلتے ہیں لیکن یہاں آتے ہیں تو توقع رکھتے ہیں کہ ان کا کام بغیر لائنوں میں لگے ہو جائے ،یہاں پر میرٹ دوسرے کا کام ہونا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں صرف سیالکوٹ کے واقعہ پر شرمندہ نہیں بلکہ 17جون 2014ء کو جو ہوا اس پر بھی شرمند ہ ہوں، اس واقعہ کے بعدجو کیا گیا اس پر شرمندہ ہوں ، شہداء کا خون آج بھی انصاف کی تلاش میں ہے ۔