نوازشریف، جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

آرٹیکل 184 شق 3 کے تحت سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ کے امور انجام نہیں دے سکتی،عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے،تاحیات نااہلی کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے۔درخواست میں موقف

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات 27 جنوری 2022 14:47

نوازشریف، جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جنوری2022ء) سابق وزیراعظم نوازشریف، جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی۔درخواست صدر سرپم کورٹ بار احسن بھون کی جانب سے دائر کی گئی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ تاحیات نااہلی کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے۔آرٹیکل 184 شق 3 کے تحت سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ کے امور انجام نہیں دے سکتی۔

آرٹیکل 184 شق 3 کے تحت عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہیں ملتا۔ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے کے اطلاق کے پیرا میٹرز طے کیے۔ درخواست میں استدعا کی گئی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت جو الیکشن چینلج ہو صرف اس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ قبل ازیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرچودھری محمد احسن بھون نے کہا تھا کہ کسی بھی حکمران کی تاحیات نااہلی خلاف قانون اور خلاف جمہوریت ہے ، کسی کو بھی اس کے جمہوری حق سے محروم نہیںرکھا جاسکتا۔

این این آئی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرچودھری محمد احسن بھون نے کہا ہے کہ کسی بھی حکمران کی تاحیات نااہلی خلاف قانون اور خلاف جمہوریت ہے ، کسی کو بھی اس کے جمہوری حق سے محروم نہیںرکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ اس نا اہلی کیخلاف سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن کا کام آخری مراحل میں داخل ہوچکاہے اور آئندہ چندروز میں کیس کی ڈرافٹنگ مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کر دی جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ بار اور بینچ کے تعلقات کو بہترین بنانے کیلئے ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور کلاء کے مسائل کے حل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔