
روس کے اوریشنیک میزائل نے ایٹمی ہتھیاروں کی جگہ نئے ڈیٹرنس ہتھیار کی حیثیت حاصل کر لی ، رپورٹ
منگل 8 جولائی 2025 16:10
(جاری ہے)
اوریشنیک کا وار ہیڈ ایک کلسٹر قسم کا اور سخت ڈھانچے میں گھس جانے والا وارہیڈ ہے، جو ممکنہ طور پر متعدد بلند کثافت کے حامل ہتھیاروں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اس وار ہیڈ کا دھماکہ پے لوڈ کے اپنے ہدف میں داخل ہونے کے بعد ہوتا ہے ۔ اس کے ڈیزائن کا مقصد سخت فوجی انفراسٹرکچر کو زیادہ سے زیادہ اندرونی نقصان پہنچانا ہے۔ یہ میزائل پرواز کے آخری مرحلے کے دوران بھی ہائپرسونک رفتار کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روایتی بیلسٹک وارہیڈز کے برعکس جو نیچے آتے ہی سست ہو جاتے ہیں، اوریشنیک کرہ ہوائی کی کثیف تہوں میں بھی، ماک۔ 10 اور ممکنہ طور پر ماک ۔ 11 سے زیادہ رفتار کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ رفتار اسے بڑے پیمانے پر متحرک توانائی کے ساتھ حملہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔اتنی رفتار سے ایک غیر جوہری وار ہیڈ بھی ایک سٹریٹجک ہتھیار بن جاتا ہے جو اپنی نہایت تیز رفتار کے باعث کمانڈ بنکرز، ریڈار سائٹس، یا میزائل سائلوز کو تباہ کرسکتا ہے۔ مزید برآں اس کا پتہ لگانا مشکل اور روکنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اوریشنیک میزائل غیر جوہری اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل کی حیثیت سے روایتی لانگ رینج اسٹرائیک سسٹمز اور نیوکلیئر بین البراعظمی میزائلوں کی جگہ لے سکتا ہے اور اپنی رفتار اور اثرات کے ساتھ جوہری حد کو عبور کئے بغیر میدان جنگ میں صورتحال کو واضح طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ میزائل ماسکو انسٹی ٹیوٹ آف تھرمل ٹیکنالوجی ( ایم آئی ٹی ٹی ) نے تیار کیا ہے جو اس سے قبل روس کے پہلے موبائل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر چکا ہے۔ادارے نے اس میزائل کی تیاری پر کا ممکنہ طور پر500 سے لے کر 5,500 کلومیٹر کی رینج والے زمینی میزائلوں پر پابندی کے معاہدے آئی این ایف کے غیر موثر ہو جانے کے بعد دوبارہ شروع کیا تھا۔اوریشنیک کے بنیادی اجزا بشمول پروپلشن سسٹم، ٹارگٹنگ ماڈیولز، اور موبائل چیسس پہلے ہی بہت ترقی یافتہ ہیں۔ اوریشنیک کی رینج کم از کم 800 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ تقریباً 5,500 ہے اور بیلاروس میں تنصیب کے ساتھ یہ تقریباً تمام وسطی اور مغربی یورپ میں اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ روس کے لئے یہ ایک غیر جوہری فارورڈ ڈیٹرنٹ ہے جبکہ نیٹو کے لئے اس نے خطرے کا ایک نیا لیول متعارف کرایا ہے جو تیز، درست، اور روکنا مشکل ہونے کے باوجود جوہری جوابی کارروائی کی حد سے نیچے رہتا ہے۔عملی طور پر یہ روسی سرزمین سے باہر میزائل آپریشن کے لیے ممکنہ مشترکہ روسی۔بیلاروسی کمانڈ ڈھانچے کا امکان بھی پیدا کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسی پیشرفت ہو گی جو دونوں ریاستوں کے درمیان فوجی انضمام کو مزید باضابطہ بنائے گی۔ کئی دہائیوں سے اسٹریٹیجک ہتھیار کی اصطلاح جوہری ہتھیاروں کے لئے استعمال کی جاتی رہی ہے جس کا مطلب یہ سمجھا جا تا ہے کہ ان ہتھیاروں کو آخری حربے کے طور پر ہی استعمال کیا جا ئے گا۔ درحقیقت یہ استعمال کے لئے نہیں بلکہ ڈیٹرنس کے ہیں۔ اوریشنیک اس مساوات کو تبدیل کر دیا ہے۔جوہری وار ہیڈز کے برعکس، اورشینک کے پے لوڈز کو عالمی مذمت کے بغیر یا کنٹرول سے باہر ہونے کے خطرے کے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود ان کی تباہ کن صلاحیت ۔خاص طور پر سخت فوجی اہداف یا اہم بنیادی ڈھانچے کے خلاف۔انہیں اسٹریٹجک دفاع کا ایک قابل اعتبار ذریعہ بناتی ہے۔مزید بین الاقوامی خبریں
-
زیلنسکی، پیوٹن اب بھی صرف جنگ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں
-
ایران کی جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کے لیے آمادگی
-
امریکی ووٹرز کی اکثریت نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل عام کو نسل کٴْشی قرار دیدیا
-
امیگریشن قوانین سخت، امریکامیں غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام کی مدت محدود
-
ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں، امریکا
-
انسٹاگرام پر شوہر کو طلاق دینے والی دبئی کی شہزادی نے ریپر فرنچ مونٹانا سے منگنی کرلی
-
ٹرمپ کی انتظامیہ کا غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے امریکا میں قیام کی مدت پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ
-
دبئی کی شہزادی شیخہ مَہرہ نے فرنچ مونٹانا سے منگنی کرلی
-
دبئی میں بانجھ پن کے مریض میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کامیاب حمل
-
کرتارپور پر پانی چھوڑنا بھارتی آبی جارحیت ہے،سکھ براداری
-
روس کا فیول آئل سب سے زیادہ کس نے خریدا سعودی عرب اور بھارت آگے نکل گئے
-
چاند نظر نہیں آیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.