
کراچی، نشہ آور چائے پلا کر گھروں کا صفایا کرنے والی ایک اور کروڑ پتی ماسی گرفتار، تحقیقات میں اہم انکشافات
گرفتار گھریلو ملزمہ کی شناخت فرزانہ کوثر عرف مہرین کے نام سے کی گئی جو ایک بنگلے سے 65 لاکھ مالیت کے زیورات چوری کر کے کراچی سے فرار ہوگئی تھی، ملزمہ اسلام آباد کی ایک جیل میں 3 سال گزار چکی ہے،ایس ایس پی ساؤتھ
فیصل علوی
بدھ 16 جولائی 2025
11:07

(جاری ہے)
ملزمہ نے تفتیشی حکام کو بیان دیا کہ قید کے دوران جیل میں سلائی کا کام کرنے پر سابق وزیراعظم نے اسے ایوارڈ بھی دیا تھا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ کایہ بھی کہنا تھا کہ گرفتار گھریلو ملزمہ کی شناخت فرزانہ کوثر عرف مہرین کے نام سے کی گئی جو کہ ایک بنگلے سے 65 لاکھ روپے مالیت کے زیورات چوری کر کے کراچی سے فرار ہوگئی تھی۔پولیس کے مطابق ملزمہ مہرین کا تعلق فیصل آباد سے ہے اس کے خلاف لاہور میں بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔ ملزمہ کے خلاف دسمبر 2024ء میں شوکت محمود نے ڈیفنس تھانے میں مقدمہ درج کروایا تھا ۔ مقدمے کے متن کے مطابق ملزمہ نے چائے میں نشہ آور دوا پلا کر اہلخانہ کو بیہوش کیا، اس کے بعد گھر سے زیورات نقدی اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہوگئی تھی۔واردات کے دوران ملزمہ نے گھر کے مکینوں کو نشہ آور گرین ٹی پلا کر بے ہوش کر دیا تھا، جسے انویسٹی گیشن پولیس نے ٹیکنیکل بنیادوں پر حراست میں لے کر تفتیش کے دوران گرفتار کرلیا گیا۔ ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے کہا کہ گھریلو ملازمہ نے ابتدائی تفتیش میں گھروں میں ماسی کا کام حاصل کر کے متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے جس کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ واردات مجموعی طور پر 65 لاکھ روپے سے زائد کی تھی۔ ملزمہ مہرین چوری کی واردات میں فیروز آباد تھانے میں گرفتار ہوئی تھی۔ گرفتاری کی اطلاع ملنے پر مدعی مقدمہ فیروز آباد تھانے پہنچے اور ملزمہ کو شناخت کیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ڈیفنس پولیس نے بھی مقدمے میں ملزمہ کی گرفتاری ڈال دی ہے۔ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ ملزمہ راولپنڈی میں بھی اسی طرح کی وارداتیں کر چکی ہیں اور اس حوالے سے بھی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
عراق میں ٹک ٹاکر کے شوق نے 2 پاکستانی قتل کر ڈالے
-
مریم نواز کشتیوں میں ٹک ٹاک بنانے کی بجائے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کیخلاف کارروائی کریں
-
کئی دہائیوں بعد سیلاب کی اتنی خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا
-
راوی علاقے کو سیلاب سے محفوظ بنانا، سڑکیں، جھیل بیراج بنانا روڈا کی ذمہ داری تھی
-
پارک ویوبنانے کیلئے ہم نے پچھلی اور موجودہ حکومت سے کوئی مدد نہیں لی
-
بڑے بلڈرز اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے حکومتوں میں شامل ہو کر سرکاری زمینوں پر قبضے کرتے ہیں
-
حکومتوں نے دریاؤں کی گزرگاہوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو این اوسی جاری کرکے جرم کیا
-
پارک ویو میں میرے والدین کی قبریں ہیں
-
پارک ویو 2006 میں بنی تھی تب اس کا نام ریور ایج تھا اور اس کے مالکان کوئی اور تھے
-
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اقدامات سے پوری دنیا کے سکھوں کا سر فخر سے بلند ہوگیا
-
موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی، جدید ترین پیشگی وارننگ سسٹم پنجاب میں متعارف کرائیں گے
-
موہلنوال میں معجزہ: ٹرانسجینڈر ڈاکٹر زین خان نے 5 دن کے بچے اور ماں کو سیلاب سے بچا لیا
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.