شاہراہ قراقرم اور گلگت بلتستان سمیت شمالی علاقہ جات میں مکمل طور پر سڑکیں بحال، این ایچ اے حکام نے رپورٹ وفاقی وزیر مواصلات کو پیش کردی

بدھ 30 جولائی 2025 21:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جولائی2025ء) شمالی علاقہ جات میں بڑے پیمانے پر حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریوں سے روڈ نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہنگامی آپریشن کیا اور گزشتہ روز شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان اور دیگر شمالی علاقہ جات میں ٹریفک مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے جبکہ وفاقی سیکرٹری مواصلات علی شیر محسود نے چلاس، مانسہرہ، بابوسر ٹاپ اور خنجراب تک خود گاڑی ڈرائیو کی اور ملک بھر کے سیاحوں کو پیغام دیا کہ وہ بلا خوف و خطر سفر اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے سکردو جگلوٹ کی 144 کلومیٹر کی سڑک پر بھی خود گاڑی چلائی اور اُس کے دونوں اطراف ٹریفک کو آنے جانے کیلئے موزوں قرار دیا۔

(جاری ہے)

اس ضمن میں این ایچ اے اور متعلقہ اداروں کی طرف سے مکمل کردہ کاموں کی رپورٹ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کو پیش کر دی گئی ہے۔ وفاقی سیکرٹری مواصلات نے خود گاڑ ی چلاتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں قرار دیا کہ یہ انتہائی مشکل اور پریشان کن آپریشن تھا جسے این ایچ اے اور وزارت مواصلات کے افسران اور اہلکاران نے جان جوکھوں میں ڈال کر کم سے کم وقت میں مکمل کیا ہے اور ٹریفک کی روانی بحال کر دی ہے۔

علی شیر محسود نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ہدایات کے مطابق بہترین حکمت عملی اور ٹیم ورک سے اس نا ممکن مشن کو ممکن بنایا گیا ہے البتہ شاہراہوں کو مزید محفوظ بنانے اور ضروری کام کی تکمیل کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی مسلسل اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ این ایچ اے نے شمالی علاقہ جات میں دو روز قبل ہی 90 فیصد سے زائد کام مکمل کر لیا تھا اور کاغان، ناران سمیت این۔

15کی رابطہ سڑکوں کو ٹریفک کے لئے کھول دیا ہے۔ دریں اثناء چیئرمین این ایچ اے شہریار سلطان وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ہدایت پر آزاد کشمیر کا دورہ بھی کر چکے ہیں جہاں انہوں نے کوہالہ پل سے لے کر مظفر آباد روڈ پر لینڈ سلائیڈنگ ہٹانے کے عمل کا جائزہ لیا۔مجموعی طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے اس قدرتی آفت کے موقع پر بھرپور تندہی اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جس سے ملک بھر میں پھیلے ہوئے خوف و ہراس کا خاتمہ ہوا ہے اور سیاح دوبارہ شمالی علاقہ جات کا رخ کر رہے ہیں۔