}۔۔۔۔۔۔۔۔۔بحریہ ٹائون کی نیلامی کا آنکھوں دیکھا حال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔بحریہ ٹائون کی نیلامی اوپن نہ کی گئی،موبائل فونز اور شناختی کارڈ لے لئے گئے مگر کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ کب نیلامی ہوگئی :میڈیانمائندگان محض اسٹاف افسراور میٹنگ روم تک محدود،ڈیڑھ گھنٹہ بٹھائے جانے کے بعداچانک بتایاگیاکہ نیلامی توہوبھی گئی :ایس اوصاحب صحافیوں کے استفسار پر غائب ہوئے اورجب آئے تو کہاکہ نیلامی ہوگئی ‘ دس منٹ تک آپ کو پریس ریلیزدے دیتے ہیں

جمعرات 7 اگست 2025 23:35

۱!اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اگست2025ء)بحریہ ٹاؤن کی نیلامی اوپن نہیں کی گئی،میڈیاکے نمائندوں سے موبائل فونزاور قومی کمپیوٹرائزڈشناخی کارڈلے لیے گئے تھے اور کہاگیاتھاکہ آپ کونیلامی میں لے جائیں گے اور سب آپ اپنی آنکھوں سے دیکھئے گاتاہم ہم اس حوالے سے موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیںدے سکتے ہیں،نیلامی کہاں ہوئی کیسے ہوئی،کون کون شامل تھاکیسے یہ سب پراسس مکمل کیاگیا،کسی میڈیانمائندے کوکانوں کان خبرتک نہیں نہیں ہونے دی گئی،میڈیانمائندگان محض اسٹاف افسراور بعدازاں ان کے سامنے کے میٹنگ روم تک محدودرہے،ڈیڑھ گھنٹہ بٹھائے جانے کے بعداچانک بتایاگیاکہ نیلامی توہوبھی گئی،اس دوران ہواکیااس بارے ساراآنکھوں دیکھاحال بتاتے ہیں،بحریہ ٹاؤن کی نیلامی کے حوالے سے نیب آفس میلوڈی میں نیلامی کے لیے سات اگست کی تاریخ رکھی گئی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کی اجازت دی تھی جسے سپریم کورٹ میں ملک ریاض نے چیلنج کیاتھامگرسپریم کورٹ نے اتنی اہم درخواست کوسماعت کے لیے مقررنہیں کیا،اوریوں نیب کوموقع مل گیاکہ نیلامی سات اگست کوہی کرلی جائے،میں دیگر صحافیوں کے ساتھ قومی احتساب بیورو(نیب)آفس میلوڈی پہنچا،دوردورتک کسی بندے کانام ونشان تک نہیں تھا چندگاڑیاں کھڑی تھیں وہ بھی سڑک کے دوسر ی جانب تھیں،صبح شامیانے اور کرسیاں بھی لگی ہوئی تھیں،مگرجب ہم پہنچے توایساکچھ بھی نہیں تھا،جس سے یہ اندازہ ہوسکتاہوکہ اندرنیب آفس میں کوئی نیلامی ہونے جارہی ہے،ہمیں استقبالیہ میں جاتے ہوئے کہاگیاکہ آپ سب اپنے اپنے موبائل فونزاور قومی کمپیوٹرائزڈشناختی کارڈہمیں دے دیں اور ہمیں وصولی کی ایک چٹ نماپاس بناکردے دیاگیاکہ واپسی پر لے لیجے گا،اس دوران ایک صحافی نے مجھ سے کہاکہ صدیقی صاحب کیمرہ بھی نہیں جانے دے رہے ہیں اور موبائل بھی آپ اپناموبائل ان کودینے کی بجائے مجھے دے دیں اس دوران ہمیں نیب استقبالیہ سے بتایاگیاکہ بین الاقوامی میڈیاکوبھی موبائل اورکیمرہ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اس لیے آپ کوبھی نہیں دے رہے ہیں‘ ہاں اس دوران کہیں سے ہمیں اجازت دے دی گئی توضرورآپ کوبھی دے دیں گے،اس دوران میرے ساتھ بی بی سی ورلڈسے شہزاد،جیونیوزسے مریم نواز،بول نیوزسے ہمارے پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے صدرذوالقرنین اقبال سمیت دیگر میڈیاکے نمائندے بھی تھے،ہم اندرچلے گئے ہمیں گیٹ سے ہی ایک سیکیورٹی گارڈ کے ساتھ بھجوایاگیاوہ ہمیں سٹاف افسرکے کمرے تک چھوڑ کرچلے گئے ہم اندرگئے تووہاں بیٹھے صاحب نے بتایاکہ آپ یہاں اپنے نام اور ادارہ اور موبائل نمبرلکھ دیں وہ پتہ کرکے آتے ہیں کہ نیلامی کب ہونی ہے اس دوران ہم گپ شپ میں مصروف ہوگئے اسٹاف افسرواپس آئے اور ہمیں کہاکہ آپ آجائیں ہم سمجھے یاشایدہمیں نیلامی والے کمرے میں لے جارہے ہیں ہم سب مطمئن ہوگئے اور وہ ہمیں اپنے سامنے کے کانفرنس روم میں لے گئے اور بٹھادیاہم سمجھے کہ ادھرہی نیلامی ہورہی ہوگی تبھی ہمیں یہاں بٹھایاگیا،ہمیں اسٹاف افسرنے کمال مہربانی کامظاہرہ کرتے ہوئے بتادیاتھاکہ ہم میڈیاکے نمائندوں کواجازت نہیں دیتے پہلی بار ہے کہ آپ کودے رہے ہیں ہم نے کہاکہ یہ اوپن نیلامی ہے توہمیں جانے کی اجازت ہونی چاہیے اورکیمروں کی بھی اجازت ہونی چاہیے انھوں نے کہاکہ نہیں کیمرے لے جانے کی ضرورت نہیں ہے تصاویراور ویڈیوزضرورت ہوئی توہم خود آپ کوبناکردے دیں گے،ہم کانفرنس روم میں بیٹھ گئے کہ ابھی ہمیں نیلامی میں بلاتے ہیں یاپھر اسی روم میں نیلامی ہوگی،۳ین بجے سے پہلے پہنچے تھے اور اب انتظارکرتے کرتے چار بج گئے ہم آپس میں کافی دیربحث بھی کرتے رہے کہ یہ نیلامی کس طرح کی ہوگی دوستوں نے جوجوتجربہ بھی تھاایک دوسرے سے شیئرکیااس دوران ہمارے کمرے کادروازہ بار بار کھلتابندہوتارہاہر بار ہمیں دیکھنے کے لیے ایک نیاچہرہ ہی سامنے آتارہا،ہماراخیال یہ تھاکہ نیلامی جیسے بھی کریں مگرہمیں اتناضرو ردیکھنے کومل جائیگاکہ وہاں کون کون تھا اور کس طرح سے نیلامی ہوگیً ہمیں چائے رسماًپوچھی گئی‘ پانی توخیر دیاہی نہیں گیا‘ہاں یہ ضرور ہواکہ ہم جہاں بیٹھے تھاوہاں کچن شایدپاس ہی تھاوہاں سے چائے اور دیگرمعاملات پر کبھی اونچی کبھی نیچی آوازوں میں بحث مباحثہ بھی چلتارہا۔

(جاری ہے)

اس دوران ہمارے ایک ساتھی دوبارہ ایس اوکے پاس گئے کہ جناب کہاں نیلامی ہوناہے ہمیں توبتائیں ہمیں لے جائیں توانھوںنے کہاکہ بس دس منٹ دیں وہ ابھی پتہ کرکے آتے ہیں مگروہ جاکرغائب ہوگئے،ہم حیران وپریشان کانفرنس ٹائپ روم میں بیٹھے نیلامی میں لے جائے جانے کاانتظار کرتے رہے مگریہ کیاکافی دیرگزرنے کے بعدایس اوصاحب آئے اور کہاکہ نیلامی ہوگئی ہے اور دس منٹ تک آپ کوہم پریس ریلیزدے دیتے ہیں وہ صاحب کی میزپرہے وہ اس کوجیسے ہی منظورکرتے ہیں‘ آپ کودے دیتے ہیں ہم سب ہکابکارہ گئے کہ یہ کیاہوگیاکب ہوئی نیلامی کیسے ہوئی،کون لوگ شامل تھی کسی کوکچھ بھی نہیں بتایاگیااوپن نیلامی کولگتاتھاتھاخفیہ طریقے سے مکمل کی گئی (شایدوہ پہلے ہی ہوچکی تھی کافی دیرہوئی) ،صحافی ذالقرنین نے کہاکہ جب نیلامی ہوچکی ہے اورانھوں نے ہمیں صرف پریس ریلیزہی دینی ہے توپھر یہاں بیٹھ کے ہم نے کیاکرناہے وہ تویہ بھجواہی دیں گے اور یوں پھر ہم باہر آگئے اور ہم نے اپناسامان واپس لیااور دفترواپس آگئے۔