Live Updates

گلگت بلتستان ، سیلابی ریلوں سے تین مقامات پرسڑکیں بند ،ایک گاڑی بہہ گئی ،بچہ زخمی

پینے کے صاف پانی کے شدید بحران سے سیکڑوں شہری ہیضہ ،اسہال ،ٹائیفائیڈ اور نمونیہ سمیت دیگر وبائی امراض کا شکار ہوگئے

جمعرات 14 اگست 2025 18:35

گلگت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 اگست2025ء)گلگت بلتستان میں سیلابی ریلوں سے تین مقامات پرسڑکیں بند ہو گئیں ،جبکہ ایک گاڑی بہہ گئی اور بچہ زخمی ہو گیا ، سیلاب کے باعث پیدا ہونے والے پینے کے صاف پانی کے شدید بحران سے سیکڑوں شہری ہیضہ ،اسہال ،ٹائیفائیڈ اور نمونیہ سمیت دیگر وبائی امراض کا شکار ہوگئے۔ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایاکہ گزشتہ روزشاہراہ بابوسر کو ایک بار پھر سیلابی ریلوں نے دو مقامات پرنشانہ بنایا ہے۔

ترجمان نے بتایاکہ شاہراہ بابوسر پر سیلاب سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک گاڑی بھی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔ترجمان کے مطابق سیلابی ریلوں سے بعض مکانات کو جزوی نقصان پہنچایا ہے جبکہ سیلابی فصلیں اور زرعی زمین بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

(جاری ہے)

فیض اللہ فراق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو فوری سڑک بحالی کی ہدایت کی ہے۔

ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق شاہراہ بابوسر زیرو پوائنٹ کو عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے، جبکہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ٹوریسٹ پولیس نے مسافروں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر روک دیا ہے۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے کہاکہ غذر تحصیل یاسین میں داپس ،حرف اور اشکائی گاؤں بھی سیلاب سے زیر آب آ ئے ہیں اور یاسین تھوئی گاؤں کے ڈی جے اسکول ،ڈسپنسری اور رابطہ سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ، اور اسی مقام پر پانی ذخیرہ کرنے والا ٹینک بھی تباہ ہو گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق دیوسائی علی ملک ٹاپ پر لینڈ سلائیڈنگ سے رابطہ سڑک بند ہو گئی ہے اسی طرح سدپارہ روڑ بھی بند ہو گئی ہے، تھور نالے میں سیلاب آیا ہے۔غذر سے ممتاز سیاسی شخصیت ظفر شادم خیل کے مطابق برگل میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر عوامی املاک کو نقصان پہنچا ہے، اسی طرح چٹو کھنڈ اور قریبی نالے میں بھی سیلاب آنے سے دریا میں خوفناک طغیانی آ ئی ہے۔

سیلابی صورتحال سے دریائے گلگت میں اونچے درجے کا پانی آنے سے نشیبی علاقوں میں گھر اور کھیت کھلیان شدید کٹاؤ کی زد میں آئے ہیں۔دوسری جانب گلگت بلتستان میں سیلاب کے باعث پیدا ہونے والے پینے کے صاف پانی کے شدید بحران سے سیکڑوں شہری ہیضہ ،اسہال ،ٹائیفائڈ اور نمونیہ سمیت دیگر وبائی امراض کے شکار ہو گئے ہیں۔گلگت بلتستان محکمہ صحت کے سیکرٹری آصف اللہ کے مطابق ماہ اگست میں مجموعی طور پر 3321 کے شدید اسہال کے کیسز سامنے آئیں جن میں اسکردو میں 622 ، دیامر 440 ، استور 440، گانچھے 428 گلگت 258 ،کھرمنگ 296 ،شگر 346 اور سکردو میں 627 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔

اسی طرح پانچ سال سے کم بچوں میں 565 نمونیہ کیسز سامنے آئے جن میں سے دیامر 198 کے ساتھ سر فہرست جبکہ غذر 181، گلگت 82 اور اسکردو میں 80 بچے اس بیماری کے شکار ہوئے۔محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ٹائیفائیڈ بخار کے مجموعی طور پر 272 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں استور 140 اور دیامر 80 کے ساتھ دیگر اضلاع میں سر فہرست رہے۔رپورٹ کے مطابق مشتبہ ہیضہ کے کل 56 شکایات درج ہوئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاقہ بھر میں ہیپٹائٹس کے 18 کیسز میں استور 8، نگر 7 اور ضلع ہنزہ میں تین کیسز سامنے آئے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات