ایس ای سی پی کی آئینی آڈٹ کی کھلی مخالفت،ریگولیٹر نے آئینی آڈٹ کے نظام پر سوال اٹھا دئیے

ہفتہ 23 اگست 2025 21:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اگست2025ء) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملکی تاریخ میں پہلی بار آئینی آڈٹ اتھارٹی کو براہ راست چیلنج کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی رپورٹ کے خلاف سرکاری پریس ریلیز جاری کی ہے جسے ماہرین اور کاروباری رہنماؤں نے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے کیونکہ اس سے شفافیت کمزور اور سرمایہ کاری کے ماحول کو غیر یقینی بن سکتا ہے۔

گزشتہ روز جاری ہونے والے سے پتہ چلتا ہے کہ ریگولیٹر اربوں روپے کے سکینڈل سے نمٹنے کے لئے غلط حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ ایس ای سی پی نے اے جی پی کی جانب سے غیر قانونی تنخواہوں میں اضافہ اور ریونیو جمع نہ کرانے سے متعلق مشاہدات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دفاع میں ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کا سہارا لیا، گویا اسے وفاقی احتسابی عمل سے استثنیٰ حاصل ہے۔

(جاری ہے)

اسے غلط فہمی ہے کہ ادارہ جاتی قوانین آئینی دائرہ کار پر فوقیت رکھتے ہیں۔زرائع کے مطابق ایس ای سی پی نے جوابدہی کے ڈھانچے کو دوبارہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو تشویشناک ہے۔ پریس ریلیز میں پالیسی بورڈ کی نگرانی کو ہی کافی قرار دیا گیا جونہ صرف آئینی آڈٹ کے اصول کے خلاف ہے بلکہ خطرہ ہے کہ مستقبل میں دیگر خودمختار ادارے بھی یہی طرزِ عمل اختیار کریں گے۔

کاروباری برادری نے اس پیش رفت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ایس ای سی پی محض اپنی قانونی تشریح کی بنیاد پر اے جی پی کی رپورٹس کو مسترد کر سکتا ہے تو پھر ہر خودمختار ادارہ یہی کرے گاجس سے وفاقی احتسابی ڈھانچہ ختم ہو جائے گا۔ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو یہ تاثر ملے گا کہ پاکستان میں ادارہ جاتی نگرانی اور شفافیت محض کاغذی ہے۔

ریگولیٹر کا اس انداز میں آئینی ادارے کو چیلنج کرنا کیپٹل مارکیٹ کے اعتماد کو متزلزل کرے گا۔ ایس ای سی پی کے بیان میں تضادات نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔تنخواہوں اور مراعات میں ہوشرباء اضافہ کے دفاع میں ایس ای سی پی نے مارکیٹ کی مسابقت اور ماہرین کی خدمات کا حوالہ دیاجس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریگولیٹر خود کو سرکاری ھدود و قیود سے ماورا سمجھتا ہے۔

کاروباری ماہرین کے مطابق یہ رویہ نہ صرف سرکاری پالیسی سے انحراف ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ادارہ عوامی جوابدہی کو نجی شعبے کے اصولوں کے تابع کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ایک مرکزی ریگولیٹر آئینی آڈٹ اتھارٹی کو سرعام چیلنج کر سکتا ہے تو دیگر خودمختار ادارے بھی اس کی پیروی کریں گے جس سے پورا آڈٹ نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔

ایس ای سی پی کھربوں روپے کے کیپٹل مارکیٹ کی نگران ہے اور اس کی ساکھ شفافیت پر منحصر ہے۔ ایسے موقع پر آئینی ادارے سے محاذ آرائی نے اس کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ مارکیٹ میں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال ہے۔چند با اثر لوگ اپنے مالی مفادات کے لئے پاکستان کے احتسابی ڈھانچے کو کمزور کرنے والی خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں جس کے اثرات تباہ کن ہونگے۔کئی صحافیوں نے متعدد بار ایس ای سی پی کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کمیشن نے مکمل خاموشی اختیار کی ہے جو ان کے شفافیت کے دعووں سے متضاد ہے۔