تخفیف غربت ڈویژن کی آڈٹ رپورٹس میں 96 ارب کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
نو ماہ تک کسی مستحق کے اکاﺅنٹ میں سرگرمی نہ ہو تو رقم واپس بھیج دی جاتی ہے.سیکرٹری بی آئی ایس پی کی وضاحت
میاں محمد ندیم
جمعرات 28 اگست 2025
16:13
(جاری ہے)
سیکرٹری بی آئی ایس پی نے وضاحت دی کہ یہ معاملہ کورونا وبا کے دوران پیش آیا، تاہم اب پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے اور اگر نو ماہ تک کسی مستحق کے اکاﺅنٹ میں سرگرمی نہ ہو تو رقم واپس بھیج دی جاتی ہے کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے نشاندہی کی کہ کئی معمر خواتین رقم نکلوانے کے لئے خود نہیں جا سکتیں، اس لیے زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں ترتیب دی جائیں. کمیٹی نے مزید غور کےلئے اس معاملے کو فی الحال موخر کر دیا رپورٹ 2020-21، 2021-22 اور 2022-23 کے مالی حسابات سے متعلق تھیں دوسری جانب ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تخفیف غربت ڈویژن کے تحت مالی اعانت کے پروگراموں میں کرپشن اور وسیع پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں طویل عرصے سے جاری ہیں اور بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے اجراءکے وقت سے پروگرام میں مالی بے ضابطگیوں کی اطلاعات سامنے آنا شروع ہوگئی تھیں ‘اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کی 2008میں قائم ہونے والی حکومت کے دور میں بیت المال میں بھی وسیع پیمانے پر کرپشن کی رپورٹس سامنے آئی تھیں ‘بی آئی ایس پی میں مالی بے ضابطگیوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پروگرام کے تحت جاری کیئے جانے والے اے ٹی ایم کارڈ ضلع‘تحصیل اوریونین کونسل کی سطح کے سیاسی کارکنوں اور راہنماﺅں کے ذریعے بجھوائے گئے جن میں سے بڑی تعداد میں اے ٹی ایم کارڈ مقامی سیاسی راہنماﺅں اور کارکنوں کے زیراستعمال ہیں ‘دیہی علاقوں میں معمولی رقوم دے کر خواتین اور غریب افراد کے نہ صرف شناختی کارڈ حاصل کیئے جاتے ہیں بلکہ ضرورت پیش آنے پر ان کی بائیومیٹرک تصدیق بھی کروائی جاتی ہے . رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کارڈ پر جاری ہونے والی سالانہ رقوم میں سے بمشکل ایک ماہ کے برابررقم درخواست گزارو ں کو اداکی جاتی ہے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں ان کے اے ٹی ایم کارڈ مقامی سیاسی راہنماﺅں‘سرکاری ملازمین اور دیگر کے قبضے میں رہتے ہیں اور وہ ان کارڈوں سے رقوم نکلواکر ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے پروگراموں میںمالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کا سلسلہ ہر دورحکومت میں جاری رہا ہے سیاسی جماعتیں اضلاغ‘تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر راہنماﺅں اور کارکنوں کے ذریعے درخواستیں وصول کرتی ہیں اور انہی کی سفارشات پر حاجت مندوں کا تعین کیا جاتا ہے لہذا جب مقامی سیاسی راہنماﺅں اور کارکنوں کو نچلی سطح پر ایسے پروگراموں میں شامل کیا جاتا ہے تو بڑی تعداد میں لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں .
متعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد121 غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا
-
سینیٹر پلوشہ خان کا پمز ہسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار
-
بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم منتخب
-
اوٹاوا سٹی کونسل نے شہر میں موجود ٹرمپ ایونیو کا نام تبدیل کرنے کی جانب پہلا قدم اٹھا لیا
-
پولیس افسران و اہلکاروں کی بنیادی تنخواہوں میں 250 فیصد اضافہ متوقع
-
عمران خان کے بیٹے ان سے ملنے تو آتے نہیں، پھر ان کی بات کرنے کا کیا فائدہ ہے، ناصر بٹ
-
نیپال میں تباہی کی ہولناک داستان، متاثرین کی زبانی
-
چڑیا گھر میں لڑکے کے شیر کے پنجرے میں چھلانگ لگا کر داخل ہونے کی ویڈیو جعلی نکلی
-
قومی اسمبلی سانحہ پمز پر کمیٹی بنانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی
-
بھارتی اسکول میں ملالہ کی کتاب پڑھائے جانے پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا
-
وفاقی وزیروں اور پمزانتظامیہ نے کہا آگ ایئرکنڈیشنر سے لگی، آج پتا چلا کہ اے سی تو چل ہی نہیں رہا تھا. ڈاکٹررمیش کمار
-
دنیا بھر کے تقریباً 35 فی صد نئے ویب پیجزپر منصوعی ذہانت کے نمایاں اثرات
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.