اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 سالہ بچی سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار سگے باپ کی ضمانت منظور کر لی

جمعرات 28 اگست 2025 21:56

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 اگست2025ء)اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 سالہ بچی سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار سگے باپ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اس بات کا کوئی معقول جواز موجود نہیں کہ ایک حساس ادارے سے تعلق رکھنے والا پڑھا لکھا شخص اپنی 3 سالہ بچی سے زیادتی کرے۔ تفتیشی افسر نے بھی اعتراف کیا کہ ملزم کا نفسیاتی معائنہ نہیں کرایا گیاجسٹس طارق محمود جہانگیری نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ اگر ملزم ضمانت کا غلط استعمال کرے یا ٹرائل میں تاخیر کا باعث بنے تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دیتے ہوئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کا حوالہ دیا اور کہا کہ مزید انکوائری والے کیسز میں ضمانت دی جا سکتی ہے۔

(جاری ہے)

صرف جرم کی سنگینی عدالت سے ضمانت دینے کا اختیار چھیننے کے لیے کافی نہیں۔فیصلے میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا کہ ضمانت ملزم کی بریت نہیں بلکہ صرف کسٹڈی کی تبدیلی ہوتی ہے۔

ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو حکومتی ایجنسیوں کی تحویل سے ضامن کے سپرد کیا جائے اور ضامن اس بات کا پابند ہو کہ ضرورت پڑنے پر ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرے۔تحریری فیصلے کے مطابق پٹیشنر محمد حسیب حفیظ 3 ماہ سے جیل میں تھا اور ٹرائل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ پٹیشنر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ گھریلو جھگڑے کا معاملہ ہے اور ملزم کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔

عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ بچی کی ماں ہے جس کی یہ دوسری شادی تھی اور اس نے خلع کا دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے۔پمز اسپتال کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بچی کی ماں نے ڈاکٹرز کو مبینہ زیادتی کے متعلق بتایا، تاہم متاثرہ بچی کے عدم تعاون کی وجہ سے طبی معائنہ ممکن نہیں ہو سکا۔ میڈیکو لیگل رپورٹ میں بھی کسی قسم کے زخم، رگڑ یا خون کے نشانات نہیں پائے گئے۔