بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور ہراسانی روز کا معمول،نئی دلی، فرید آباد، کولکتہ،رانچی اورجے پور خواتین کیلئے غیر محفوظ ترین شہرقرار

جمعہ 29 اگست 2025 15:10

نئی دلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی، ہراسانی اور صنفی تشدد کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ایک سروے میں دارالحکومت نئی دلی سمیت دیگر شہروں فرید آباد، کولکتہ ، رانچی اور جے پور کو خواتین کیلئے غیر محفوظ ترین شہرقراردیاگیاہے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ انکشاف خواتین کے قومی کمیشن کی طرف سے جاری خواتین کے تحفظ سے متعلق سالانہ رپورٹ میں کیاگیا ہے۔

رپورٹ کے اعدادو شمار ایک پرائیویٹ ڈیٹا سائنس ایجنسی Pvalue Analytics کی طر ف سے بھارت کے 31شہروں سے تعلق رکھنے والی 12ہزار770خواتین سے کئے گئے سروے پر مبنی ہیں۔ سروے میں شامل کم سے کم 40فیصد خواتین نے اپنے متعلقہ شہروں کو خواتین کیلئے غیر محفوظ قرار دیا۔

(جاری ہے)

کمیشن کی رپورٹ میں خواتین نے انتظامیہ پر بھی شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا ۔ ہر چار میں سے تین خواتین کا کہناتھاکہ اگر وہ خود کے ساتھ پیش آنے والے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع انتظامیہ کو دیتی ہیں تو اسے انصاف کی بالکل بھی توقع نہیں ہوتی۔

بھارت میں آئے روز بڑے پیمانے پر خواتین کو ہراسانی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ سروے میں شامل 7فیصد خواتین نے بتایا کہ انہیں 2024میں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جوکہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے 2022 کے اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔ اس سال خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کی شرح صرف 0.07فیصد تھی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں نوجوان خاص طور پر 18سے 24سال کی عمر کی خواتین خود کو سب سے زیادہ غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔

سروے میں کہاگیاہے کہ بھارت میں کام کے مقامات خصوصا دفاتر میں خواتین کے تحفظ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔ 53فیصد خواتین کہناتھاکہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ان کے ادارے میں خواتین کی جنسی ہراسانی کی روک تھام سے متعلق کوئی قانون یا پالیسی موجود ہے۔واضح رہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈز بیوروکے مطابق بھارت میں ہر سال خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بھارت میں روزانہ خواتین سے زیادتی کے درجنوں واقعات پیش آتے ہیں تاہم بدنامی یا خوف کے پیش نظر انہیں رپورٹ نہیں کیا جاتا۔