Live Updates

غیر سرکاری تنظیم کے بی ایم کیئر فاؤنڈیشن کا خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کی باعزت بحالی کا مطالبہ

جمعہ 29 اگست 2025 20:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) غیر سرکاری تنظیم کے بی ایم کیئر فاؤنڈیشن نے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کی باعزت بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر متاثرہ خاندان کی ضروریات مختلف ہیں جس کیلئے راشن اور دیگر پیکیجز کی بجائے ان کی نقد امداد کی جائے۔ غیر سرکاری تنظیم کے بی ایم کیر فاؤنڈیشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بونیر سمیت دیگر علاقوں میں سیلاب کے باعث 236 افراد جاں بحق، 128 زخمی اور 32 لاپتہ ہیں، تقریباً 5,000 مویشی ہلاک، 55,000 ایکڑ سے زائد فصلیں تباہ ہوچکی ہیں جبکہ 737 گھروں اور 825 دکانوں کو نقصان پہنچا یا مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

دیہی علاقے جیسے گنشال اور کوٹ ڈھیرہ دیگر علاقوں سے مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں کیونکہ پل اور سڑکیں بہہ گئی ہیں جس سے ان علاقوں تک امداد کی بروقت رسائی ممکن نہیں رہی تاہم مقامی منڈیوں میں تجارت جزوی طور پر جاری ہے جس کے پیش نظر کے بی ایم کیئر فاؤنڈیشن نے فی خاندان 40 سے 45 ہزار روپے کی نقد امداد موبائل والٹس کے ذریعے فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔

(جاری ہے)

ادارے کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے متاثرین اپنی ضرورت کے مطابق اشیاء خرید سکیں گے، بجائے اس کے کہ ایک جیسے راشن پیکیج دیئے جائیں جو سب کے لئے موزوں نہیں ہوتے۔ رپورٹ کے مطابق مالی نقصان کے ساتھ ساتھ متاثرین کو گہرے نفسیاتی صدمات کا بھی سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین، بچے اور اقلیتی برادریاں سب سے زیادہ متاثر ہیں جن کی مذہبی جگہیں بھی سیلاب میں تباہ ہوگئیں۔

سکول شیلٹرز میں تبدیل، پانی آلودہ اور ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ چکا ہے۔ ایسے میں کے بی ایم کیئر فاؤنڈیشن نے انسانی ہمدردی کے تحت کام کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کو بھی ہنگامی امداد کی طرح ترجیح دی جائے۔ ادارے نے خواتین کے لئے علیحدہ اور محفوظ سہولیات اور ریلیف اقدامات کے بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا ہے۔ کے بی ایم کیئر فاؤنڈیشن کے مرکزی جائزہ کار محمد امین نے کہا کہ یہ صرف گھروں اور روزگار کی تباہی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ذہنی و قلبی بحران بھی ہے، اگر ہم نے فوری طور پر ذہنی صحت کی بحالی اور نقد امداد کا انتظام نہ کیا تو ہزاروں خاندانوں کی بحالی ایک خواب ہی رہے گی۔

متاثرین نے حکومت اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نقد امداد، ذہنی صحت کی سہولیات اور طویل مدتی بحالی منصوبے فوری بنیادوں پر شروع کئے جائیں تاکہ ان کے وقار کے ساتھ جینے کا حق بحال ہو سکے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات