نوجوان نسل کو تمباکو اور نئی نکوٹین مصنوعات کے خطرات سے بچانے کیلئے تمام طبقات کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر

1پاکستان میں تمباکو سے متعلق صحت کے نقصانات انتہائی سنگین ہیں اور ہر سال ہزاروں افراد تمباکو نوشی کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں ،پروگرام منیجر سپارک

منگل 25 نومبر 2025 20:15

@اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 نومبر2025ء) سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو تمباکو اور نئی نکوٹین مصنوعات کے خطرات سے بچانے کے لیے میڈیا سمیت تمام طبقات کو مل کر کوششیں کرنی ہونگی۔منگل کوسوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) نے صحافیوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کا مقصد پاکستانی نوجوانوں میں تمباکو نوشی اور نئی نکوٹین مصنوعات کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کرنا تھا۔

اس ملاقات کا مقصد میڈیا کے ساتھ مؤثر رابطہ مضبوط کرنا، غلط معلومات کا سدباب کرنا اور بچوں کو نشہ آور مصنوعات سے بچانے کی فوری ضرورت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا تھا اس موقع پر سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے تشویش ناک قومی اعدادوشمار پیش کیے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو سے متعلق صحت کے نقصانات انتہائی سنگین ہیں اور ہر سال ہزاروں افراد تمباکو نوشی کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں جبکہ ملک میں سگریٹ نوشوں کی تعداد بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں ہر روز تقریباً 1,200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں جو نہ صرف اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ تمباکو صنعت کی جارحانہ مارکیٹنگ حکمتِ عملیوں کا بھی ثبوت ہے ڈاکٹر ڈوگر نے پاکستان کی جانب سے تمباکو کنٹرول کے حوالے سے عالمی معاہدے کی پاسداری کو سراہا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ چند اہم اقدامات پر پاکستان نے قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان عالمی بہترین مثالوں کو اپنائے، عوامی آگاہی میں اضافہ کرے اور سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرے تو ایف سی ٹی سی پر مکمل عملدرآمد ممکن ہے۔

انہوں نے نئی اور ابھرتی ہوئی نکوٹین و تمباکو مصنوعات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جنہیں اکثر ‘‘کم مضر’’ قرار دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ڈوگر نے واضح کیا کہ ایسے دعوے گمراہ کن ہیں اور خصوصاً نوجوانوں میں کنفیوڑن پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سخت ضابطہ سازی، سائنسی شواہد پر مبنی معلومات اور مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صنعت کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط بیانی کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

ڈاکٹر ڈوگر نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ عوام کو درست معلومات فراہم کرنے، تمباکو صنعت کے گمراہ کن حربوں کو بے نقاب کرنے اور نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے مضبوط پالیسی اقدامات کی وکالت میں اپنا اہم کردار جاری رکھیں اس موقع پر صحافیوں نے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نئی نکوٹین مصنوعات کے بدلتے ہوئے رجحانات اور قومی و FCTC پالیسی فریم ورک سے باخبر رہنے کے لیے مسلسل تربیت ناگزیر ہے۔ اعجاز خان