مغربی کنارے میں پھنسے غزہ کے باسی جن کا ’اب پیچھے کوئی گھر باقی نہیں بچا‘

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ 9 مئی 2026 19:40

مغربی کنارے میں پھنسے غزہ کے باسی جن کا ’اب پیچھے کوئی گھر باقی نہیں ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 مئی 2026ء) مغربی کنارے کے ایک اسٹیڈیم کے اسٹینڈز کے نیچے، کپڑے بدلنے والے ایک پرانے کمرے میں غزہ کے درجن بھر مرد مقیم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ڈھائی سال سے زائد عرصہ قبل شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس جانے سے قاصر ہیں۔

انہی میں 54 سالہ سمیر ابو صلاح بھی شامل ہیں، جو اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں چھوٹی موٹی مزدوری کر رہے تھے کیونکہ وہاں کی اجرت ان کے آبائی شہر خان یونس (غزہ) کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔

وہ وہاں سے مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلوس آ گئے، جہاں اب وہ محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

نابلوس اسٹیڈیم کے اسٹینڈز کے نیچے اپنے چھوٹے سے ٹھکانے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا: ’’میں جنگ شروع ہونے سے صرف چار دن پہلے یہاں داخل ہوا تھا۔

(جاری ہے)

اس وقت میری عزت اور وقار تھا، پھر جنگ چھڑ گئی۔‘‘

انہوں نے سات اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی تباہ کن اسرائیلی فوجی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔

اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے دو بیٹوں کو کھونے والے ابو صلاح اب کچرے سے ری سائیکل ہونے والی اشیاء جمع کر کے اور انہیں بیچ کر گزر بسر کرتے ہیں تاکہ اپنے خاندان کو رقم بھیج سکیں۔ انہوں نے گلوگیر لہجے میں کہا: ''مجھے اب دیکھو، میں ایک ٹینٹ میں رہتا ہوں۔ ہم عزت کی زندگی گزارتے تھے، لیکن یہاں ہمیں کتوں کی طرح ایک طرف پھینک دیا گیا ہے۔

‘‘

صفائی کے ''جنون‘‘ میں مبتلا ابو صلاح نے نامساعد حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے گتے کے ڈبوں سے ایک الماری بنائی ہے اور دیواروں پر فلسطینی پرچم اور یاسر عرفات کی تصویر لگائی ہے جو انہیں سڑکوں کی صفائی کے دوران ملی تھی۔

’ایک جیل کی مانند‘

اگرچہ پھنسے ہوئے تمام افراد کی صحیح تعداد بتانا مشکل ہے، تاہم فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ محنت کے مطابق مارچ تک مغربی کنارے میں پھنسے غزہ کے 4,605 باسیوں کو نقد امداد فراہم کی گئی تھی۔

اگرچہ شہر کی حدود سے باہر جانے کی اجازت ہے، لیکن اسٹیڈیم میں مقیم یہ لوگ خوفزدہ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کئی دوستوں کو اسرائیلی فوجی چوکیوں پر روکا گیا اور واپس غزہ بھیج دیا گیا۔

جنگ سے دس دن پہلے اپنے بیٹے کے علاج کے لیے آنے والے سامح کہتے ہیں، ''یہاں بہت اکتاہٹ ہے، لیکن ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟ ہم ایک جیل میں ہیں۔

‘‘

سامح نے انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنا پورا نام ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے کمرے کے اندر رسیوں پر چادریں لٹکا کر اپنی نجی جگہ بنائی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے غزہ کے خیمہ بستیوں میں ان کا خاندان رہ رہا ہے۔ ''میں اپنے گھر والوں کی طرح رہنا چاہتا ہوں،‘‘ انہوں نے کہا۔

اسٹیڈیم میں موجود تمام مردوں کے گھر فضائی حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں۔

وہ موبائل پر اپنے پرانے خوبصورت گھروں کی ویڈیوز اور اب وہاں موجود ملبے کے ڈھیروں کی تصویریں دکھاتے ہیں۔

کامیاب کاروبار مگر ادھورا دل

رملہ میں مقیم غزہ کے تاجر ناہد الحلو بھی وسطی شہر سے باہر نکلنے سے کتراتے ہیں۔ 43 سالہ الحلو جنگ سے دو دن پہلے سامانِ تجارت کی تلاش میں غزہ سے نکلے تھے۔ غزہ شہر کے پوش علاقے 'رمال‘ میں ان کا ایک شاندار ریسٹورنٹ تھا جہاں 30 ملازمین کام کرتے تھے۔

اب انہوں نے رملہ کے وسط میں فلافل کا ایک مقبول ریسٹورنٹ کھول لیا ہے تاکہ اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔ انہوں نے بتایا: ''میں نے وہی کام شروع کیا جو مجھے آتا تھا، میرا پیشہ جس سے مجھے محبت ہے۔‘‘

ان کے پاس اب نو ملازمین ہیں، جو سب کے سب غزہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور وہ کھانا بھی غزہ کے روایتی چٹ پٹے انداز میں بناتے ہیں۔

اپنے خاندان کی سلامتی کے بارے میں وہ ہر وقت فکر مند رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ''ہم نے 20 دن اس حال میں گزارے کہ ہمیں ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔‘‘ جب ان سے واپسی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ''بے شک غزہ اس جگہ سے زیادہ عزیز ہے، لیکن وہاں اب کوئی گھر نہیں بچا، کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

‘‘

بے روزگاری اور آسمان کو چھوتی قیمتیں

اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کے دوران غزہ کی 81 فیصد عمارات تباہ ہو چکی ہیں اور معیشت دم توڑ چکی ہے۔ جنگ کے بعد وہاں بے روزگاری کی شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

اکتوبر 2025 میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی فائر بندی کے باوجود اسرائیل اب بھی غزہ کے تقریباً آدھے حصے پر قابض ہے اور اس عرصے میں کم از کم 846 افراد اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

45 سالہ شاہد زارب دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں خوش قسمت ہیں کیونکہ ان کے پاس مغربی کنارے کی رہائش کا اجازت نامہ ہے اور وہ گزشتہ 20 سال سے یہاں کام کر رہے ہیں۔ بیت لاہیا (غزہ) کے رہنے والے زارب نے قلقیلیہ میں ایک فارم ہاؤس کھولا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ 2021 کے بعد سے اپنے بچوں سے نہیں مل سکے۔

وہ کہتے ہیں: ''میرا مسئلہ بھی دوسروں جیسا ہی ہے۔ میرے بچے ایک جگہ ہیں اور میں دوسری جگہ، اور میں کراسنگ کی بندش کی وجہ سے انہیں یہاں نہیں لا سکتا۔‘‘

ادارت: کشور مصطفیٰ