Live Updates

حکومت نے مسلسل پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے

عالمی مارکیٹ کا نام لیتے ہیں اور بھاری لیوی وصول کررہے ہیں، لیوی ٹیکس کا پٹرولیم کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، عالمی مارکیٹ میں تقریباً 8 ڈالر قیمت کم ہوئی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا ردعمل

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 9 مئی 2026 19:36

حکومت نے مسلسل پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو کمائی کا ذریعہ بنایا ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 09 مئی 2026ء ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے مسلسل پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، عالمی مارکیٹ کا نام لیتے ہیں اور بھاری لیوی وصول کررہے ہیں۔ ایکس پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔

آج پھر 15 ، 15 روپے فی لیٹر بڑھا دیے۔ حکومت نے پٹرول کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ عالمی مارکیٹ کا نام لیتے ہیں اور بھاری لیوی وصول کررہے ہیں جس کا پٹرولیم کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔اہم بات یہ ہے عالمی مارکیٹ میں چند دنوں میں تقریباً 8 ڈالر قیمت کم ہوئی ہے۔ اس وقت بھی فی لیٹر 150 روپے سے زائد ٹیکسز و لیوی وصول کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

طالب علم، بائیکیا اور اِن ڈرائیو  چلانے والے، مزدور، عام غریب اور مڈل کلاس شہری یہ لیوی ادا کررہے ہیں جو بہت بڑا ظلم ہے۔

دوسری طرف حکمران طبقے کی  شاہ خرچیاں، مراعات، اربوں روپے کے جہاز، پروٹوکول سب اسی طرح جاری ہیں۔ یہ دوہرا اور طبقاتی نظام زیادہ عرصے نہیں چل سکتا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل پرلیوی میں 13 روپے 91 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ، پیٹرول پر لیوی اضافے کے بعد 117روپے 41 پیسے فی لیٹرمقررکی گئی۔ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 42 روپے 60 پیسے فی لیٹرکردی گئی، ہائی اسپیڈ ڈیزل پرفریٹ مارجن میں 9 روپے 38 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی، ہائی اسپیڈ ڈیزل پرفریٹ مارجن کم کرکے 7 روپے 75 پیسے کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی رہنما شہزاد اشرف بھٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہر ہفتے قیمتوں میں اضافہ ظلم ہے ، حکومت ٹیکسز کے ذریعے وصول کئے جانے والے اپنے منافع میں کمی کرے اور قیمتوں کو فی الفور واپس لیا جائے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بجلی و گیس کے بھاری بلوں اوربڑھتے ٹیکسز کے باعث عوام کی قوت خرید پہلے ہی جواب دے چکی ہے جبکہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔

ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے سے اشیائے خوردونوش سمیت روزمرہ استعمال کی تمام چیزیں مزید مہنگی ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں، پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مارکیٹ میں خرید و فروخت کا عمل سست پڑتا جا رہا ہے۔ عوام کی قوت خرید میں کمی کے باعث کاروبار کے حالات دن بدن ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات