عمران خان کی جیل میں حالت پر یو این کا انتباہ

DW ڈی ڈبلیو ہفتہ 13 دسمبر 2025 14:20

عمران خان کی جیل میں حالت پر یو این کا انتباہ
  • انڈونیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 1,000 سے متجاوز
  • کولکاتا میں اسٹار بالر میسی کی آمد پر ہنگامہ اور افراتفری
  • عمران خان کی حراست کے حالات تشدد کے مترادف ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ کا انتباہ

انڈونیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 1,000 سے متجاوز

انڈونیشیا میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

امدادی کارکنوں نے ہفتے کے روز بتایا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک اس وقت بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن میں مصروف ہے۔

قومی آفات سے نمٹنے والی ایجنسی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شمال مغربی جزیرہ سماٹرا میں آنے والی اس قدرتی آفت میں 1,003 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 218 افراد تاحال لاپتا ہیں۔

(جاری ہے)

ایجنسی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں لیکن شدید بارشوں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل ہو گئی ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ کئی دیہات اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور رابطے منقطع ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور انہیں فوری خوراک، صاف پانی اور طبی امداد کی ضرورت ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور فوج کو بھی امدادی کاموں میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کی کٹائی نے اس خطے کو قدرتی آفات کے لیے مزید حساس بنا دیا ہے۔ انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب عام طور پر مون سون کے موسم میں آتے ہیں لیکن اس بار شدت غیر معمولی ہے۔


عمران خان کی حراست کے حالات تشدد کے مترادف ہو سکتے ہیں، اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ کی ایک خصوصی مندوب نے کہا ہے کہ عمران خان کی قید تنہائی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

عالمی ادارے کی تشدد کے خلاف خصوصی مندوب ایلس چل ایڈورڈز نے کہا کہ وہ حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ غیر انسانی اور برے سلوک سے متعلق خبروں پر فوری اور مؤثر ایکشن لے۔

ایڈورڈز نے ایک بیان میں کہا، ’’عمران خان کی حراست کے حالات کو مکمل طور پر بین الاقوامی اصولوں اور معیار کے مطابق یقینی بنایا جائے۔

‘‘

ایڈورڈز کے مطابق، ’’26 ستمبر 2023ء کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منتقلی کے بعد سے عمران خان کو مبینہ طور پر طویل عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا ہے، روزانہ 23 گھنٹے سیل میں قید رکھا جاتا ہے اور بیرونی دنیا تک رسائی انتہائی محدود ہے۔‘‘

ایڈورڈز نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت طویل یا غیر معینہ مدت کی تنہائی ممنوع ہے اور اگر یہ 15 دن سے زیادہ جاری رہے تو یہ نفسیاتی تشدد کی ایک شکل بن جاتی ہے۔

انہوں نے خبردار کہ یہ نہ صرف غیر قانونی اقدام ہے بلکہ طویل تنہائی ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 73 سالہ عمران کے سیل پر کیمرے سے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں وکلاء اور اہل خانہ سے جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، بالخصوص اس ماہ اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد، جس میں انہوں نے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر پر انتقامی کارروائیاں کرنے کا الزام لگایا تھا۔