بلوچستان میں صحافیوں کی صحت اور تحفظ: دعوے، حقیقت اور خطرات
سید شاہ زیب رضا
منگل 16 دسمبر 2025
14:45
صحت انصاف کارڈ: اعلان اور زمینی حقیقت
حکومت بلوچستان صحت انصاف کارڈ کے تحت صوبے بھر میں 1200 سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ 34 اضلاع میں 20 لاکھ خاندان اس اسکیم سے مستفید ہو رہے ہیں، ہر ہسپتال میں سہولت ڈیسک قائم کیا گیا ہے اور 24 گھنٹے ہیلپ لائن اور رئیل ٹائم مانیٹرنگ کا نظام بھی موجود ہے۔
(جاری ہے)
صحافیوں کی آمدنی اور اخراجات
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 دسمبر2025ء)بلوچستان میں صحافیوں کی آمدنی بھی ان کے اخراجات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے الیکٹرونک میڈیا کے کیمرہ مین بابر خان کے مطابق الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز اور کیمرا مین کی اوسط ماہانہ تنخواہ 25 ہزار سے 40 ہزار روپے ہے، جبکہ پرنٹ میڈیا صحافی 20 ہزار سے 30 ہزار روپے ماہانہ کما رہے ہیں اور کنٹریکٹ یا سٹرنگر صحافیوں کی آمدنی بعض اوقات 10 ہزار سے 15 ہزار روپے تک محدود رہتی ہے۔ دوسری طرف کوئٹہ میں ایک متوسط خاندان کے بنیادی ماہانہ اخراجات 65 سے 90 ہزار روپے تک پہنچ جاتے ہیں، جس میں کرایہ، یوٹیلٹیز، خوراک، ٹرانسپورٹ اور ادویات شامل ہیں۔ اس تضاد کی وجہ سے صحافیوں کے لیے بیماری یا حادثے کی صورت میں علاج کے اخراجات برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
صحافت: رزق نہیں، رسک
کوئٹہ کے سینئر صحافی فرید اللہ خان کے تجربات بلوچستان میں صحافت کے خطرات کو واضح کرتے ہیں۔ وہ 2010 میں کوئٹہ سول ہسپتال کے بم دھماکے اور 2016 میں خودکش حملے میں زخمی ہوئے اور زخمی حالت میں بھی رپورٹنگ جاری رکھی، جبکہ اسی حملے میں ٹی وی کے کیمرا مین شہزاد خان اور ڈان نیوز کے کیمرا مین محمود خان جاں بحق ہوئے۔ فرید اللہ کے مطابق صحافیوں کی جان کی انشورنس نہیں ہوتی، نہ ہی انہیں بلٹ پروف جیکٹ یا ہیلمٹ فراہم کیے جاتے ہیں، اور کم تنخواہ کے باوجود جان کو خطرے میں ڈال کر رپورٹنگ کرنا پڑتی ہے۔
ایک موت، کئی سوالات: احمد نعیم کی کہانی
صحافی احمد نعیم، جو 2023 میں ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہوئے، مالی بدحالی اور علاج کی سہولت نہ ہونے کے باعث نومبر 2023 میں انتقال کر گئے۔ ان کے قریبی دوست کا کہنا تھا کہ اگر بروقت علاج ممکن ہوتا تو ان کی جان بچ سکتی تھی۔ یہ واقعہ صحافیوں کے لیے صحت اور معاشی سہولیات کی عدم دستیابی کو اجاگر کرتا ہے۔
خواتین صحافی: جسمانی و ڈیجیٹل خطرات
خواتین صحافی بھی پیشہ ورانہ اور ڈیجیٹل خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ سبین ملک 2019 میں تربت میں رپورٹنگ کے دوران جان سے مارنے کی دھمکیاں، سوشل میڈیا ہراسگی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوئیں، جبکہ اقصیٰ میر کے مطابق خواتین رپورٹرز اکثر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ، دھمکیاں اور کردار کشی کا شکار ہوتی ہیں، جس سے ذہنی دباؤ اور صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل تربیت، سپورٹ نیٹ ورکس، قانونی ہیلپ لائنز اور صحت سہولیات فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ محفوظ اور صحت مند ماحول میں کام کر سکیں۔
قانونی فریم ورک: Journalist Protection Act
بلوچستان میں Journalist Protection Act موجود ہے، مگر عملی طور پر اس کا نفاذ محدود ہے اور اکثر صحافی شکایات کے باوجود مناسب حفاظتی اقدامات یا قانونی کارروائی نہیں دیکھ پاتے۔ صحافیوں کی حفاظت کے لیے ممکنہ اقدامات میں علیحدہ ہیلتھ انشورنس اور صحت کارڈ پیکیج، بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ فراہم کرنا، تربیتی ورکشاپس برائے سیکورٹی اور ڈیجیٹل سیفٹی، فوری ایکشن کے لیے سائبر اور فزیکل ہیلپ لائنز، سپورٹ نیٹ ورکس اور قانونی معاونت شامل ہیں۔
میڈیا تنظیموں اور یونینز کا موقف
میڈیا تنظیموں اور صحافتی یونینز جیسے کوئٹہ پریس کلب، APNS, CPNE اور PFUJ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی کم آمدن اور غیر یقینی ملازمت صحت سہولت تک رسائی کو مشکل بنا دیتی ہے، اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے لیے علیحدہ صحت پالیسی بنائی جائے، شفاف ڈیٹا فراہم کیا جائے اور تنخواہوں و کنٹریکٹ نظام کو ریگولیٹ کیا جائے۔
سرکاری موقف
پاکستان اسٹیٹ لائف انشورنس کے کوئٹہ مینیجر محمد جلال الدین کے مطابق ہیلتھ انشورنس اور صوبائی صحت کارڈ کے تحت ہر شہری، بشمول صحافی، 3 سے 10 لاکھ روپے تک علاج کروا سکتا ہے۔ 2024 میں 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا اور 2 ارب 57 کروڑ روپے اسپتالوں کو ادا کیے گئے، تاہم صحافیوں کے لیے کوئی الگ ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ وزیر صحت بلوچستان کے مطابق صحت کارڈ عام شہریوں کے لیے ہے، صحافی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مگر علیحدہ پالیسی یا مخصوص ڈیٹا موجود نہیں۔
نتیجہ: زمینی حقیقت
یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان میں صحافی اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں، لیکن بنیادی سہولتوں اور تحفظ سے محروم ہیں۔ احمد نعیم کی موت، فرید اللہ جیسے صحافیوں کے تجربات اور خواتین صحافیوں کے ڈیجیٹل و جسمانی خطرات یہ واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں صحافت آج بھی ایک رسک ہے، رزق نہیں
مزید مقامی خبریں
-
مسلم لیگ ق کے رہنما و کوآرڈینیٹر وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز خواجہ رمیض حسن نے وائس چیئرمین اوورسیز پاکستانیز کمیشن صوبائی وزیر بیرسٹر امجد ملک، شیخ سعید کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت ..
-
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے پاکستان میں بیلاروس کے سفیر آندرے میتلیسا کی ملاقات
-
امریکہ کے شہر کیلیفورنیا میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا
-
تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے دل کے امراض میں کمی کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی حکمتِ عملی ناگزیر ہے، ماہرِ امراضِ قلب
-
پاکستان سنی تحریک کا مکہ معاہدے کا خیرمقدم
-
نئے انتظامی صوبوں کا قیام اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کا بہترین ذریعہ ہے۔ جمہوریت کا مفہوم عوام کے حقوق باآسانی عوام کی دسترس تک پہنچانا ہے۔ خواجہ رمیض حسن
-
پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ سے معروف شخصیات کی ملاقات، پاک امریکہ تعلقات اور کاروباری روابط پر گفتگو
-
پنجاب ریونیو اتھارٹی نے صوبہ بھر میں کچی رسیدوں کے اجرا ء پر مکمل پابندی عائد کر دی
-
پاکستان-ترکیہ-سعودی عرب کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ مشرق وسطی سمیت اقوام عالم میں مثبت تبدیلیاں مرتب کرے گا۔ خواجہ رمیض حسن
-
بٹگرام میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا گیا، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتی
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "اپنا کھیت، اپنا روزگار" پروگرام کے تحت منڈی بہاؤالدین کے خوش نصیب کسانوں میں الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم
-
ڈاکٹرنبیحہ علی کے شوہر حارث کھوکھر نے طلاق واپسی اور صلع کی خبروں کی تردید کردی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.