زیادتی کا مقدمہ زنا بالرضا میں تبدیل، سپریم کورٹ نے ملزم کی قید میں کمی کردی

مدعیہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی کیونکہ میڈیکل رپورٹ میں تشدد یا زخموں کے نشانات موجود نہیں، خاتون کے کپڑے بطور ثبوت پیش نہیں کیے گئے، 7 ماہ تک خاتون نے کوئی کارروائی کی نہ اہلخانہ سے تذکرہ کیا؛ فیصلے کا متن

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 18 دسمبر 2025 12:16

زیادتی کا مقدمہ زنا بالرضا میں تبدیل، سپریم کورٹ نے ملزم کی قید میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 دسمبر2025ء) سپریم کورٹ کی جانب سے زیادتی کے مقدمہ کو زنا بالرضا میں تبدیل کرکے ملزم کوسنائی جانے والی 20 سال کی سزا کم کرکے 5 سال قید بامشقت میں تبدیل کردی، ملزم پر جرمانہ بھی 5 لاکھ سے کم کرکے 10 ہزار روپے کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے جسٹس ملک شہزاد خان کی طرف سے تحریر کردہ 6 صفحات کا فیصلہ جاری کیا گیا ہے، فیصلے سے جسٹس صلاح الدین پنہور نے اختلاف کیا، تاہم فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم مزید 2 ماہ تک قید رہے گا کیوں کہ ملزم کیخلاف کیس ریپ کا نہیں بلکہ رضامندی سے زنا کا بنتا ہے اور رضامندی سے زنا پر مدعیہ بھی سزا کی حقدار ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا ہے کہ مدعی مقدمہ کا چالان ہوا اور نہ ہی ٹرائل کورٹ میں اسے صفائی کا موقع مل سکا، سپریم کورٹ میں اپیل کی سطح پر شنوائی کے بغیر سزا مدعیہ کو نہیں دی جا سکتی جب کہ ملزم کو زیادتی کے بڑے جرم کی جگہ زنا بالرضا میں سزا دی جا سکتی ہے کیوں کہ ایف آئی آر کے مطابق خاتون صبح 5بج کر 30 منٹ پر جنگل میں حاجت کیلئے گئی تھی، مدعیہ کے مطابق گھات لگائے بیٹھے ملزم نے پستول کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنایا، تاہم مدعیہ مخصوص وقت پر جنگل آئے گی، یہ ملزم کو کیسے پتہ تھا؟ اس پر استغاثہ خاموش ہے۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مدعیہ نے وقوعے کے وقت کوئی مزاحمت نہیں کی کیوں کہ میڈیکل رپورٹ میں تشدد یا زخموں کے نشانات موجود نہیں ہیں، متاثرہ خاتون کے کپڑے بطور ثبوت پیش نہیں کیے گئے، نہ یہ ثابت ہوا کہ کپڑے پھٹے ہوئے تھے جب کہ واقعہ رہائشی علاقے کے قریب پیش آیا مگر مدعیہ نے شور کیا اور نہ کسی کو مدد کے لیے بلایا، وقوعہ کے سات ماہ تک خاتون نے کوئی کارروائی کی نہ اپنے اہلخانہ سے تذکرہ کیا، ایف آئی آر زیادتی کے وقوعہ کے تقریباً 7 ماہ بعد درج کی گئی۔

سپریم کورٹ نے ڈی این اے رپورٹ سے متعلق قرار دیا کہ ڈی این اے کی صداقت کا معاملہ کسی اور کیس میں طے ہوگا کیوں کہ اس معاملے میں ڈی این اے ٹیسٹ سیمپل لیے جانے کے ڈیڑھ سال بعد کیا گیا جب کہ میڈیکل ریسرچ پر مبنی جریدے کے مطابق ڈی این اے سیمپل کا درست نتیجہ 2 ہفتے کے اندر ہی آ سکتا ہے، لہٰذا جنسی تعلق قائم ہونا تو مدعیہ کے بیان اور میڈیکل شواہد سے ثابت ہے اور موجود شواہد سے جنسی تعلق تو ثابت ہوتا ہے لیکن زبردستی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ عنوان :