Live Updates

اگر آئی پی پیز معاہدوں کا فرانزک آڈٹ ہوجائے تو موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے کرتا دھرتا لٹک جائیں گے

حکومت بجٹ میں پٹرول ، بجلی ، گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کرے، تنخواہ داروں کو انکم ٹیکس پر چھوٹ دی جائے اور آئی پی پیز معاہدے ختم کیے جائیں، حافظ نعیم الرحمن

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 3 جون 2026 21:41

اگر آئی پی پیز معاہدوں کا فرانزک آڈٹ ہوجائے تو موجودہ اور سابقہ حکومتوں ..
ااسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 03 جون 2026ء ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ کو انکم ٹیکس پر چھوٹ دے اور بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے تینوں یوٹیلیٹیز (Utilities) کی قیمتوں کو آئندہ چند برسوں کے لیے فکس (Fix) کردے، آئی پی پیز اور ری گیسیفیکیشن (Re-Gasification ) کے مہنگے معاہدے ختم کیے جائیں اور سود سے جان چھڑائی جائے۔

اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں “بجٹ ، معیشت اور توانائی بحران سے حل تک” کے موضوع پر معاشی ماہرین اور  سینئر نمائندگان ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ ہوجائے تو موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے کرتا دھرتا لٹک جائیں گے۔

(جاری ہے)

حافظ نعیم الرحمن نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدہ پر کام کے آغاز، مقامی حکومتوں کے نظام کو موثر بنانے اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کے بھی مطالبات کیے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوتی ہے، اس پروگرام سے غربت کی شرح میں کوئی کمی نہیں آئی ، گزشتہ دوبرس میں غربت کی شرح میں مجموعی طور پر تینتیس فیصد اضافہ ہوا ، پنجاب میں غربت کی شرح اکتالیس فیصد ہے۔ “بجٹ ، معیشت اور توانائی -بحران سے حل تک” کے موضوع پر ہونے والے سیمینار میں اقتصادیات، توانائی اور ٹیکس، زراعت اور دیگر شعبہ جات کے ماہرین ، صحافیوں جن میں 
سید فراست شاہ ڈپٹی سیکریٹری جماعت اسلامی پاکستان، نصراللہ رندھاوا امیر جماعت اسلامی اسلام آباد وآئی ٹی ایکپسرٹ، شاہد نعیم، عاصم ریاض ، عزیر نشتر ایڈووکیٹ نے  اظہار خیال کیا جب کے سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، ہیڈ سوشل میڈیا سلمان شیخ ، ماہر معیشت قانت خلیل ، امیر جماعت کے معاون میاں عطاء الرحمن اور دیگر راہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

حافظ نعیم الرحمن نے ٹیکسوں کے موجودہ نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت عام آدمی سے پٹرولیم لیوی ، بجلی اور گیس کے بلوں پر اربوں روپے ٹیکس وصول کررہی ہے، اٹھارہ ہزار ارب کے سالانہ ٹیکس ریونیو میں سے بارہ ہزار ارب عام آدمی پر براہ راست ٹیکس سے اکٹھے کیے جاتے ہیں، ایف بی آر کا پچیس ہزار ملازمین پر مشتمل محمکہ کیا کام کررہا ہے؟ حکومت نے پٹرولیم لیوی کے ذریعے اب تک آٹھ ہزار چھیاسٹھ ارب اکٹھے کیے ہیں، تنخواہ دار طبقہ سے سالانہ چھ سو پانچ ارب اکٹھے کیے جاتے ہیں، یہ ظلم کا نظام ہے۔

حکمران ایک طرف عام آدمی کا خون نچوڑ رہے ہیں دوسری جانب آئی پی پیز مالکان کو سالانہ دوہزار ارب ادا کیے جارہے ہیں، ری گیسفیکیشن معاہدوں کی صورت میں حکومت نے پانچ لاکھ ڈالر روزانہ ان دنوں میں بھی ادا کیے جب ایران امریکہ جنگ کے دوران گیس کی ترسیل معطل رہی۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت آئی پی پیز سے چھبیس ہزار میگاواٹ کے مزید معاہدے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ایسا کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔

حکومت بجلی گیس کی قیمتیں کم کرے ، پٹرول کی فی لیٹر قیمت دوسو تیس روپے تک کی جائے، سوالاکھ تنخواہ پر انکم ٹیکس میں مکمل چھوٹ دی جائے، اس سے زیادہ تنخواہ لینے والوں سے موجودہ انکم ٹیکس شرح کا نصف کیا جائے، حکومت جاگیرداروں پر ٹیکس لگائے اور چھوٹے کاشتکاروں کو سہولیات دے۔ 
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ سات فیصد تعلیم کا بجٹ ہے ، جسے چار سے پانچ فیصد ہونا چاہیے، صوبوں کے تعلیمی بجٹ کا ستر فیصد کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے، ملک میں پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، صرف پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، مریم نواز نے اپنے لیے گیارہ ارب کا جہاز خرید لیا ، دوسری جانب سکولوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔

فارم سنتالیس سے مسلط حکمران صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، یہ سارے ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ، ملک میں کپاس کو تباہ کردیا گیا، شوگر مافیا چینی کی درآمد برآمد سے اربوں کماتا ہے، جن کاشتکاروں نے کپاس ختم کرکے گنا کاشت کیا انہیں ادائیگیاں نہیں ہوتیں۔ 
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی نج کاری پالیسی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی قومی اداروں کی فروخت کے خلاف ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے نج کاری سے متعلق ایک پالیسی پیپر تیار کیا ہے جس میں پوری صورتحال کا جائزہ اور حل تجویز کیا ہے۔

انہوں نے حکومت کی پنشن پالیسی کو ناجائز قرار دیا اور کہا کہ پنشن کا موثر نظام وضح ہونا چاہیے، ججز اور جرنیلوں کی پنشن کو بھی دیکھا جائے، تمام ادارے قربانی دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کی حفاظت کے لیے دفاعی بجٹ میں کمی نہیں ہونی چاہیے ، تاہم فوج کے انتظامی معاملات کے لیے رکھے گئے بجٹ پر غور کیا جانا چاہیے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وفاق این ایف سی میں سے مقامی حکومتوں کے لیے براہ راست فنڈ جاری کرے، صوبائی حکومتیں بلدیات کے لیے فنڈز پر سانپ بن کر بیٹھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی قوم کی تائید سے اقتدار میں آنا چاہتی ہے، دیگر پارٹیوں کی صورتحال یہ ہے کہ مقتدرہ ان کے سر پر ہاتھ رکھے تو زندہ باد ، نہ رکھے تو مردہ باد۔ انہوں نے آصف زرداری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اینٹ سے اینٹ بجانے سے لے کر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کرنے کا ان کا سفر قوم کو بہت مہنگا پڑا ہے، مسلط طبقہ نے قومی معیشت اور اداروں کا بیڑہ غرق کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر سود کا خاتمہ کرے گی ، زکوۂ کا نظام مضبوط کریں گے، تعلیم اور نوجوانوں کی پیشہ وارانہ تربیت جماعت اسلامی کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔ 
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات