درجہ حرارت 50 ڈگری سے نمٹنے کے لیے دنیا کے 50 شہروں کا اشتراک

یو این بدھ 3 جون 2026 23:45

درجہ حرارت 50 ڈگری سے نمٹنے کے لیے دنیا کے 50 شہروں کا اشتراک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 03 جون 2026ء) دنیا بھر کے 50 سے زیادہ شہر اقوام متحدہ کے موسمیاتی پروگرام (یونیپ) کی نئی 50@50 مہم میں شامل ہو گئے ہیں جس کا مقصد بڑھتی ہوئی شدید گرمی سے نمٹنا ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سامنے آنے والے جان لیوا خطرات میں سے ایک ہے۔

شدید گرمی سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے 2 جون کو منائے جانے والے دن (ہیٹ ایکشن ڈے) اور 5 جون کو عالمی یوم ماحولیات کی مناسبت سے اس مہم کے تحت مختلف شہروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا تاکہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنا سکیں، عملی تجربات اور موثر طریقہ کار کا تبادلہ کریں اور ایسے اقدامات کو تیز کریں جو شہریوں کو محفوظ بنانے کے علاوہ ان اخراجات میں بھی کمی لائیں جو حدت بڑھنے کا سبب بن رہے ہیں۔

(جاری ہے)

Tweet URL

اس ضمن میں ابتداً انطالیہ(ترکیہ)، لاگوس (نائجیریا)، میلبورن (آسٹریلیا)، مینڈوزا (ارجنٹائن)، پیرس (فرانس) اور یانگ ژو (چین) کے نمائندے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے، شدید گرمی سے مطابقت پیدا کرنے اور موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کی تیاری کے آزمودہ طریقوں کا تبادلہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

شدید گرمی کا توڑ

یونیپ اور پیرس شہر کی جانب سے شروع کی گئی یہ مہم 'بیٹ دا ہیٹ' نامی اقدام کا حصہ ہے جس کا آغاز برازیل کے شہر بیلیم میں رواں سال منعقدہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 30) میں ہوا تھا۔ اس کا مقصد شدید گرمی سے نمٹنے اور پائیدار ٹھنڈک کے انتظام کے حوالے سے مقامی سطح پر اقدامات کو تیز کرنا ہے۔

50@50 مہم کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں عوامی فلاح کے اقدامات کو فروغ دیا جائے گا جن میں شہروں کے اندر ٹھنڈک فراہم کرنے والے مقامات کا قیام، سبزہ زاروں میں اضافہ، پینے کے پانی کے فواروں کی تنصیب، ٹھنڈک مہیا کرنے والے مراکز کا قیام، موسمی شدت کے واقعات سے بروقت انتباہ کے نظام کی دستیابی، سایہ دار مقامات میں اضافہ اور حدت کے انجذاب میں کمی لانے کے اقدامات شامل ہیں۔

یونیپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا ہے کہ شدید گرمی پہلے ہی دنیا بھر کے شہروں میں روزمرہ زندگی کو تبدیل کر رہی ہے اور مستقبل کے تقریباً ہر موسمیاتی منظرنامے میں شہروں کو خطرناک حد تک بلند درجہ حرارت کا سامنا ہو گا۔ اس سے خاص طور پر چھوٹے کسانوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

سالانہ 5 لاکھ اموات

عالمی حدت میں اضافے کے ساتھ دنیا بھر کے شہر طویل، زیادہ شدید اور تواتر سے آنے والی گرمی کی لہروں کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں ہر سال تقریباً پانچ لاکھ اموات ہوتی ہیں اور شدید گرمی کے اوقات میں سکول، ٹرانسپورٹ کا نظام، گھر اور عوامی مقامات غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں، یہ صورتحال توانائی کی طلب میں اضافہ کرتی، سماجی عدم مساوات کو بڑھاتی اور صحت عامہ کے نظام پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔ یہ مسئلہ فضائی آلودگی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہری معیشتوں کے دیگر مسائل کے ساتھ مل کر مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

50@50 مہم کے ذریعے مقامی قیادت کو تیزی سے موثر اقدامات میں مدد جائے گی اور موسمیاتی مسائل کے ایسے عملی حل مہیا ہوں گے جن سے لوگوں کو تحفظ ملے، عدم مساوات میں کمی آئے اور شہروں کا موسمیاتی استحکام مضبوط ہو۔

شہروں کی ترتیب نو

پیرس کے میئر ایمانوئیل گریگوار نے کہا ہے کہ شدید گرمی دنیا بھر کے شہروں کے لیے اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

پیرس میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے فرضی منظرنامے پر مبنی مشق کے تجربے کی بنیاد پر یہ اقدام اس مضبوط یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ شہروں کو شدید گرمی کی پیشگی تیاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔

آئندہ ایک سال کے عرصہ میں یونیپ، سی 40 سٹیز کلائمیٹ لیڈرشپ گروپ اور پیرس شہر کے تعاون سے تقریباً ایک درجن شہر شدید گرمی سے متعلق اپنے 'سٹریس ٹیسٹ' انجام دیں گے۔

پیرس اس نوعیت کی مشق پہلے ہی کامیابی سے کر چکا ہے۔

50@50 مہم عالمی یوم ماحولیات اور اس کے بعد بھی جاری رہے گی جس کی بدولت ایسے شہروں کی عالمی برادری تشکیل پائے گی جو شدید گرمی کے اثرات سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس کا مہم کا مقصد صرف ہنگامی حالات سے نمٹنا نہیں بلکہ شہروں کو ازسر نو اس انداز میں ترتیب دینا ہے کہ شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے اور شدید گرمی سے متعلق ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے جا سکیں۔