Live Updates

امریکا کو جو پابندیوں اور جنگ سے حاصل نہیں ہواوہ مزید جنگ سے بھی حاصل نہیں ہوگا

کسی بھی جارحیت کے اقدام کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ایرانی افواج ان مقامات پر کارروائیاں کررہی ہے جہاں پر سیز فائر کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا بیان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 4 جون 2026 00:11

امریکا کو جو پابندیوں اور جنگ سے حاصل نہیں ہواوہ مزید جنگ سے بھی حاصل ..
تہران (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 03 جون 2026ء ) ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو جو پابندیوں اور جنگ سے حاصل نہیں ہواوہ مزید جنگ سے بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج ان مقامات پر حملے کررہی ہے جن کو امریکی فوج سیزفائر کی خلاف ورزی کیلئے استعمال کررہی ہے، کسی بھی جارحیت کے اقدام کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جو پابندیوں اور جنگ سے حاصل نہیں ہواوہ مزید جنگ سے بھی حاصل نہیں ہوگا۔

دوسری جانب میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر مذاکرات میں براہ راست شامل ہیں، تہران ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے پر راضی ہوگیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہر فیصلے کی منظوری دے رہے ہیں، ایرانی سپریم لیڈر نے آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائیں گے ۔

(جاری ہے)

ممکن ہے کہ میں کبھی ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کروں ۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے سخت لہجے میں گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں لبنان پر مسلسل حملوں کے باعث پریشان تھا،میں نہ ہوتا تو اس وقت اسرائیل کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوڈ فورس ون کو دیئے گئے انٹرویو میں ایران کے خلاف جنگ اور اپنی بدلتی ہوئی پالیسیوں کا کھل کر دفاع کیا، ان کا ماننا ہے کہ دشمن کو اندھیرے اور الجھن میں رکھنا ان کے اپنے فائدے میں ہے، اگر وہ تنقید کرنے والے لوگ الجھن کا شکار ہیں، اور ایرانی بھی کنفیوز ہیں، تو یہ ایک اچھی بات ہے، یہ بس میری جبلت اور میرا طریقہ کار ہے، میری پوزیشنز تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہے میں ابھی یہاں سے جاؤں، آپ کو کوئی جواب دوں، اور پھر 20 منٹ بعد جب اوول آفس پہنچوں تو مجھے اندازہ ہو کہ میرا دیا گیا جواب اب غلط ہو چکا ہے، کیوں کہ حالات اور حقائق بہت تیزی سے بدلتے ہیں اور وہ انہی کے مطابق ہم فیصلے کرتے ہیں، اسی طرح ایران پر کیے گئے حملے ایک ناگزیر اور سوچا سمجھا انتخاب تھا، جسے ہم مزید مؤخر نہیں کر سکتے تھے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر میں یہ قدم نہ اٹھاتا تو ایرانی جوہری ہتھیار بنا لیتے، امریکی بی 2 بمبار طیاروں کے حملے کے محض دو ہفتے بعد ہی ان کے پاس نیوکلیئر ویپن ہوتا، اس لیے یہ قدم اٹھانا بہت ضروری تھا، اب ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا اور اس کے نتیجے میں کئی دیگر اچھے کام ہوں گے، ایران کو یہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ اب وقت آ چکا ہے دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس مخصوص طرزِ عمل پر چل رہا ہے، اسے اب مزید اس رویے کو جاری رکھنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی، اسی وجہ سے ایران اب جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر آمادہ ہے، یہ ممکن ہے کہ میں مستقبل میں کبھی ایرانی سپریم لیڈر سے براہِ راست ملاقات بھی کروں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات