Live Updates

سیاسی جماعتیں خراب معاشی حالات میں سب سے پہلے بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش کرتی ہیں

بی آئی ایس پی کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز کا مطلب اسے بند کرنا ہے ، بی آئی ایس پی کے خلاف ہرساز ش کو ناکام بنائیں گے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 3 جون 2026 21:33

سیاسی جماعتیں خراب معاشی حالات میں سب سے پہلے بی آئی ایس پی کو ختم کرنے ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 03 جون 2026ء ) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں خراب معاشی حالات میں سب سے پہلے بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش کرتی ہیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم کے تحت سہولیات اور طاقت دیں گے، 18ویں ترمیم کی طاقت گلگت بلتستان کو اپنے وسائل اور قسمت کا مالک بنائے گی۔

پیپلزپارٹی کے مقابلے میں ہر سیاسی جماعت ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہتی ہے،اگر وفاق کنگال ہے تو سب سے پہلے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی وزارت بند کرے۔ کوئی بھی آئینی ترمیم ہونی ہے تو اس میں گلگت کے عوام کے حقوق کوتحفظ دلوانا ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں معاشی حالات میں سب سے پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کرنے کی سازش کرتی ہیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف ہرساز ش کو ناکام بنائیں گے، بی آئی ایس پی کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز کا مطلب اسے بند کرنا ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز ضلع دیامیر کی تحصیل چلاس میں ایک عظیم الشان انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ ایک با رپھر دیامیر آئے ہیں۔ گزشتہ مرتبہ بھی انتخابات کے موقع پر آیا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں ہم سے 9سیٹیں چھینی تھیں۔ آج کے استقبال کے لئے عوام کا شکریہ۔ اب حالات بدلے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ کوشش کر رہے ہیں وہ غریب دشمن سیاست اور منشور رکھتے ہیں لیکن پاکستان پیپلزپارٹی صرف عوام کی طرف دیکھتی ہے اور انشااللہ عوام کی طاقت سے جی بی میں اپنی قوت دکھا کر جیالا وزیراعظم منتخب کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تیر پر مہر لگائیں اور میں آپ کے لئے حکومت بناﺅں گا۔ ہمارا تین نسلوں کا ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ آپ نے قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دے کر اپنی قسمت بدلی اور ایف آر سی کاخاتمہ ہوا۔ قائد عوام اس ملک کے پسماندہ طبقہ کا نمائندہ تھا۔ آپ کو زمینوں کا مالک بنایا۔ روزگار کے مواقع دیئے اور معاشی ترقی دی۔

ذوالفقار علی بھٹو کو جب شہید کیا گیا تو آمرانہ قوتیں سوچ رہی تھیں کہ جی بی کے مزدور کسان اور نوجوان لاوارث ہو جائیں گے۔ یہ ان کی بھول تھی اور ایک نہتی لڑکی نے 30سال جدوجہد کی۔ بی بی کے بارے مشہور نعرہ تھا، “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ سازشیوں نے انہیں شہید کر دیا لیکن صدر زرداری اس جدوجہد کا پرچم تھام لیا۔ 1973ء کے آئین کو اٹھارہویں ترمیم سے بحال کیا۔

صدر زرداری نے بی آئی ایس پی کی صورت میں روٹی، کپڑا اور مکان پر عملدرآمد کیا۔ ہم اگلے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافہ کریں گے۔ صدر زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھی اور گوادر چین کو دے کر معاشی ترقی کی راہیں کھول دی۔ اب جو بھی ترقی ہو رہی ہے وہ صدرزرداری کی اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی کی وجہ سے صدر زرداری نے جی بی کو نام دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم مکمل نہیں ہوا تو اس لئے کہ 2013ءمیں صدر زرداری کی حکومت ایک این آراو انتخابات کی وجہ سے نہیں آنے دی گئی۔

صدر زرداری کے زمانے میں دیامیر بھاسا ڈیم پر کام ہوا اور اگر ان کی حکومت ہوتی تو یہ ڈیم مکمل ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جی بی میں حکومت بنا کر آپ کے مسائل حل کریںگے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پی ایس ڈی پی سے سب سے پہلے دیامیر بھاشا ڈیم پر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آبی دہشتگردی کر رہا ہے اس لئے یہ ڈیم سب سے اہم ہوگیاہے۔ کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے لاہور میں شہباز سپیڈ سے کام کیا ہے تو اب اس ڈیم کے لئے اپنی سپیڈ دکھائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اگر آج مسلم دنیا کا واحد ایٹمی ملک ہے تو یہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کی وجہ سے، کیونکہ انہوں نے جی بی میں کھڑے ہو کر ایٹمی قوت بننے کا اعلان کیا تھا۔ ایٹم بم کے بعد میزائل ٹیکنالوجی ہے جس کا سہرا شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے سر ہے، ان کا تحفہ ہے۔ آج ہم ان کی وجہ سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک آمر کے دور میں پاکستان کی زمین پر فوجی اڈے بنانے کی اجازت دی۔

میاں صاحب اور مشرف کے بعد صدر زرداری تھے جنہوں نے وہ تمام فوجی اڈے بند کئے۔ ایران کی جنگ ظلم ہو رہا ہے۔ ہم نے فوجی اڈے بند کئے تھے اور کوئی بھی Absolutely Not کہنے کا حق نہیں رکھتا۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ذوالفقار علی بھٹو کو دھمکی دی لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے جان دے دی اور ایٹم بم کا پروگرا م دلوا دیا۔

آج بھی ہمارے پورے خطے میں جنگ کا ماحول ہے۔ ملک کو پی پی پی کی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہے۔ ہم عوام کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ہم جی بی کے انتخابات کے 2 سال بعد پاکستان میں انتخابات جیت کر حکومت بنائیں گے۔ ہم نے پاکستان کو 1973ءکا آئین دیا اور اب جی بی کو بھی آئین اور آئینی تحفظ دلوائیں گے۔ حق حاکمیت اور حق ملکیت اور حق روزگار دلوائیں گے۔

پہلے بی بی چاروں صوبوں کی زنجیر تھیں اور اس کے بعد پانچوں صوبوں کی زنجیر بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ صوبے کے وسائل کا حق سب سے پہلے اس صوبے کے عوام کو جاتا ہے۔ یہ بات ہم نے اسلام آباد کو سمجھانی۔ ہم نے تھرپارکر میں کوئلے سے بجلی بنائی ہے اور ہم جی بی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اپنی اور پاکستان کی ضرورت کے لئے بجلی بنائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کہا کہ جس طرح دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ گھر بنانے کا سندھ میں ہے اور اب ہم اسی طرز پر جی بی میں بھی ایسا منصوبہ دیں گے۔ ہم عوام کو ان گھروں کی زمین کا مالک بھی بنائیں گے جس طرح سندھ میں بنایا ہے۔ ہم نے یہ گھر ایسے بنائے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ سندھ بھر میں عالمی معیار کے علاج کے ادارے بنائے ہیں جہاں دل ، جگر، گردوں اور کینسر کا علاج ہوتا ہے۔

دوائیاں بھی مفت ملتی ہیں۔ یہ تمام ادارے پورے پاکستان کے لوگوں کا مفت علاج کرتے ہیں اور یہ قائد عوام کے روٹی، کپڑا اور مکان کے نظریہ کے مطابق ہے۔ 7جون کے بعد جب جی بی میں پی پی پی کی حکومت بنائیں گے تو وہاں بھی علاج کے ایسے ادارے بنائیں گے۔
چیئرمین بلاول نے کہا کہ پی پی پی حکومت بنا کر جی بی کی قسمت بدل دیں گے۔ بزرگوں نے جدوجہد کر لی اب ہم نوجوانوں کا فرض ہے کہ ہم جدوجہد کریں۔

ہم گِلے نہیں کرتے ہم پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے ہیں۔ ہم مل کر سارے مسائل کا حل نکالیں گے۔ دیامیر میں پی پی پی کے نمائندے منتخب کرائیں گے اور ہر سطح پر آپ کے مسائل حل کر یں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7 جون کے بعد دیامیر میں ترقی ہوگی۔ استور 2 کے عوام سے موسوی صاحب کو منتخب کروائیں۔ دیامیر کے عوام سے بشیر صاحب کو اسمبلی میں پہنچائیں۔

دیامیر2 سے عطااللہ شاہ کو کامیاب کرائیں۔ دیامیر3 سے محمد نسیم ہمارا امیدوار ہے اور انہیں کامیاب کروانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جی بی میں صرف پی پی پی کے انتخابی کیمپوں میں جوش و خروش ہے لیکن باقی سب پریشان ہیں۔ وفاقی حکومت کے امیدوار مایوس گھوم رہے ہیں۔ وہ ہمارے دوست ہیں لیکن وہ ہاریں گے۔ کچھ جماعتوں کے پاس پیسہ تو ہے لیکن ان کے کیمپ خاموش ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ جی بی کے عوام غیرت مند ہیں وہ بکنے والے نہیں ہیں سات جون کو صرف تیر چلے گا۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات