دنیا بنگلہ دیش میں پناہ گزین لاکھوں روہنگیاؤں کو مت بھولے، یو این
یو این
بدھ 3 جون 2026
23:45
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 03 جون 2026ء) میانمار سے روہنگیا مہاجرین کی بنگلہ دیش آمد کو اگست میں نو سال مکمل ہو رہے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان 12 لاکھ لوگوں کو فراموش نہ کرے جن کے لیے بنیادی خدمات کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہے۔
ادارے کے ترجمان بابر بلوچ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ امدادی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل میں شدید کمی کے باعث روہنگیا پناہ گزینوں کو بدترین حالات کا سامنا ہے۔
اگست 2017 میں پہلی مرتبہ سات لاکھ 50 ہزار روہنگیا میانمار کی راخائن ریاست میں تشدد سے جان بچا کر بنگلہ دیش آئے تھے۔ اس وقت سے بنگلہ دیشی حکومت اور عطیہ دہندگان کی مدد ہی ان پناہ گزینوں کا اہم ترین سہارا رہی ہے۔
(جاری ہے)
تاہم اب دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی اور مختلف انسانی بحرانوں نے امدادی وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
گزشتہ ماہ اقوام متحدہ، اس کے شراکت داروں اور بنگلہ دیش کی حکومت نے رواں سال کے لیے روہنگیا پناہ گزینوں اور ان کی میزبان آبادیوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے 710.5 ملین ڈالر کی امدادی اپیل جاری کی تھی۔
امدادی حکمت عملی
اگرچہ روہنگیا پناہ گزینوں کی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ اپیل گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد کم ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق یہ ایک انتہائی ترجیحی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جس میں ان لوگوں کی سب سے اہم ضروریات پر ہی توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ دیگر کے لیے وسائل کی شدید قلت ہے۔
2017 سے اب تک انسانی امداد کی بدولت بنگلہ دیش کے کاکس بازار کیمپ میں مقیم ان لوگوں کے لیے خوراک، صحت، تعلیم اور تحفظ کی خدمات جاری رہی ہیں۔
تاہم 'یو این ایچ سی آر' نے خبردار کیا ہے کہ اب بھی بہت سی ضروریات پوری نہیں ہو سکیں اور اگر امداد میں کمی جاری رہی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔کمزور طبقات پر بوجھ
زیادہ تر روہنگیا پناہ گزین اپنی گزر بسر کے لیے امداد پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ ان کے لیے روزگار کے مواقع نہایت محدود ہیں۔ خواتین، لڑکیاں، معمر اور جسمانی معذور افراد امدادی وسائل کی کمی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
علاوہ ازیں، 2024 کے آغاز سے راخائن ریاست میں دوبارہ بھڑکنے والے تشدد کے باعث فرار ہو کر آنے والے تقریباً ڈیڑھ لاکھ نئے پناہ گزینوں کے مسائل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹوں اور مالی وسائل کی کمی کے باعث بہت سے لوگ خوراک، صاف پانی اور صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔
خطرناک سمندری سفر
'یو این ایچ سی آر' کے مطابق، میانمار میں جاری مسلح تنازع، تشدد اور غیر محفوظ حالات اب بھی پناہ گزینوں کی محفوظ واپسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
وطن واپسی کے امکانات کم ہو جانے کے نتیجے میں روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑی تعداد بہتر مستقبل کی تلاش میں خطے کے دیگر ممالک کی جانب خطرناک سمندری سفر اختیار کر رہی ہے۔
ادارے کے مطابق، 2025 ایسے سمندری سفر کے حوالے سے اب تک کا سب سے جان لیوا سال ثابت ہوا ہے اور اس دوران بحیرہ انڈیمان اور خلیج بنگال میں تقریباً 900 روہنگیا پناہ گزین ہلاک یا لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
بابر بلوچ نے کہا ہے کہ جب تک تنازع اور تشدد کا خاتمہ نہیں ہوتا، عالمی برادری کو میانمار سے آنے والے پناہ گزینوں، خصوصاً روہنگیا مہاجرین اور ان کی میزبانی کرنے والی برادریوں کے ساتھ یکجہتی کا عملی اظہار جاری رکھنا چاہیے۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر انسانی امداد میں اضافے اور ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جن کے تحت پناہ گزین اپنی منشا سے محفوظ اور باوقار انداز میں میانمار واپس جا سکیں۔
مزید اہم خبریں
-
امریکا کو جو پابندیوں اور جنگ سے حاصل نہیں ہواوہ مزید جنگ سے بھی حاصل نہیں ہوگا
-
دنیا بنگلہ دیش میں پناہ گزین لاکھوں روہنگیاؤں کو مت بھولے، یو این
-
بنگلہ دیش کے خلیل الرحمٰن یو این جنرل اسمبلی کے 81 ویں صدر منتخب
-
درجہ حرارت 50 ڈگری سے نمٹنے کے لیے دنیا کے 50 شہروں کا اشتراک
-
ایرانی سپریم لیڈر نے آمادگی ظاہر کی ہےکہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائیں گے
-
10جون کو بامقصد بجٹ پیش کریں گے،پوری کوشش ہے کہ کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے
-
پاکستانی برآمدات کے مقابلے میںدرآمدات میں نمایاں اضافہ
-
اگر آئی پی پیز معاہدوں کا فرانزک آڈٹ ہوجائے تو موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے کرتا دھرتا لٹک جائیں گے
-
سیاسی جماعتیں خراب معاشی حالات میں سب سے پہلے بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش کرتی ہیں
-
فارورڈ بلاک نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے تحریک کا اعلان کر دیا
-
گلگت بلتستان میں 22سال بعد بلدیاتی انتخابات، پولنگ 2اگست کو ہوگی
-
بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بے پناہ کرپشن ہے، پنجاب کی حد تک ڈیٹا ٹھیک نہیں
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.