کرسی پر بیٹھے حکمران ڈمی بھی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لئے بٹھائے گئے ہیں

27ویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی کی ہے، سول سپر میسی اور پارلیمنٹ کی بالا دستی ختم ہوچکی، اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے کسی کو اس بات کا احساس نہیں،مولانا فضل الرحمان

muhammad ali محمد علی پیر 12 جنوری 2026 20:45

کرسی پر بیٹھے حکمران ڈمی بھی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لئے بٹھائے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2026ء) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کرسی پر بیٹھے حکمران ڈمی بھی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لئے بٹھائے گئے ہیں 27ویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی کی ہے، سول سپر میسی اور پارلیمنٹ کی بالا دستی ختم ہوچکی، اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے کسی کو اس بات کا احساس نہیں۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں جے یو آئی ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، 26ویں ترمیم میں ہم نے حکومت سے انتہا کے مذکرات کیے اور 32 نکات رکھے، ایک سال کے اندر ہی نئی ترمیم آ گئی، 27ویں ترمیم نے بتایا جنگ نظریات کی نہیں اتھارٹی کی ہے،سول سپر میسی ایک نام رہ گیا ہے اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے ، ہماری عوام اِس سے لاعلم ہے۔

(جاری ہے)

ہمارے ادارے بھی لوگوں کے عیوب تلاش کرتے اور ان کی فائلیں بناتے ہیں۔ نوآبادیاتی نظام میں مغربی دنیا نے غلبہ حاصل کیا ،اٹلی، فرانس اور برطانیہ نے کالونیاں بنائیں جس کے نتیجے میں آزادی کے لیے قوموں کو لڑنا پڑا۔ آزادی کی قیمت ہمیں معلوم ہے ،مسلح اور غیر مسلح لڑائیوں کے ذریعے آزادی حاصل کی گئی،سرمایہ داریت نے اپنا جابرانہ چہرہ جمہوریت کے پردے میں چھپایا ، اب جمہوریت دم توڑ رہی ہے ،سرمایہ داریت طاقت کے ساتھ آگے آرہی ہے ،کمیونزم بھی دم توڑ رہی ہے اس کے پیچھے چھپا آمریت نمایاں ہو رہا ہے،آج جمہوریت اور کمیونزم دم توڑ رہے ہیں جبکہ سرمایہ داریت اور آمریت آگے آرہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر صدام حسین کویت میں داخل ہوتا ہے تو وہ مجرم ہے لیکن امریکہ افغانستان ، عراق اور وینزویلا میں داخل ہوتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں؟ روس کس طرح افغانستان میں داخل ہوا تھا اور اب یوکرائن میں داخل ہوا ہے۔ امکان ہے کہ چین بھی اب تائیوان میں داخل ہوجائے گا جس کی روایت اگرچہ موجود نہیں ۔دنیا میں آج جمہوری نظام نہیں ، جس کے پاس طاقت اور سرمایہ ہے وہ جو چاہے کر رہا ہے،ہمارے ہاں بھی جمہوریت نہیں ہے اس کی جگہ طاقت نے لے رکھی ہے،ایک برائے نام سی جمہوریت جس میں ڈھونگ ہے، ملک میں کسی صوبے میں کوئی بھی حکومت منتخب حکومت نہیں، اس بات کا کسی کو کوئی احساس نہیں، ہم اس کے متاثر ہیں، ہم پر گزری ہے۔

برائے نام جمہوریت اور ڈھونگ انتخابات ہوئے جس کے نتائج کچھ لوگ دفتروں میں بیٹھ کر تیار ہورہے ہیں،نہ وفاق کی حکومت منتخب ہے نہ پنجاب کی نہ سندھ کی نہ بلوچستان اور خیبر پختوانخواہ کی، اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کررہی ہے اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے اور قانون سازی اسلام آباد میں ہوگی،سیاسی جماعتوں کو اب تک احساس نہیں وہ پرانے نعرے لگا رہی ہیں۔

پاکستان کی پارلیمنٹ کا کوئی قانون دنیا میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جارہا اور پاکستان کی عدلیہ کا کوئی فیصلہ بطور نظیر پیش نہیں کیا جاتا،جب دونوں ادارے غیر معتبر ہیں تو ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کرسی پر بیٹھے حکمران ڈمی بھی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لئے بٹھائے گئے ہیں،کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لئے قانون سے استثنیٰ دیا جائے؟ رسول ﷺ نے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا اور حضرت عمر نے بھی اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا،ہمارا صدر مملکت زندگی بھر کیس بھگتتا رہا پیشیاں دیتا رہا اب اسے مستثنیٰ قرار دیا جارہا ہے،سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو ہماری مراعات چلتی رہیں اور ہمیں قانون سے استثنیٰ دیا جائے،آج کوئی شخص پاکستان کا وفادار ہو اس کی وفاداری کی کوئی قیمت نہیں جب تک کہ ان کا وفادار نہ ہو۔