حطار میںٹرین کی زد میں آ کر بزرگ شہری جاں بحق

متوفی کی نعش تھانہ کوٹ نجیب اللہ پولیس نے مقامی رضا کاروں کے ہمراہ رورل ہیلتھ سنٹر کوٹ نجیب اللہ منتقل کر دی

جمعہ 30 جنوری 2026 14:25

حطار (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 جنوری2026ء) حطار انڈسٹریل اسٹیٹ اور کوٹ نجیب اللہ کے درمیان واقع ریلوے پل پر قریبا ساٹھ سالہ بزرگ ٹرین حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔پولیس کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا یا متوفی یہاں کیا کر رہے تھے تاہم متوفی کی نعش تھانہ کوٹ نجیب اللہ پولیس نے مقامی رضا کاروں کے ہمراہ رورل ہیلتھ سنٹر کوٹ نجیب اللہ منتقل کر دی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق حادثہ کے فوری بعد ٹرین حادثہ میں جاں بحق ہونے والے بزرگ متوفی کے آبائی علاقے یا ورثا کا پتہ نہیں چل رہا تھا تاہم کچھ دیر بعد اب ورثا آر ایچ سی کوٹ نجیب اللہ سے نعش آبائی علاقہ کو لے گئے ہیں اور متوفی کی شناخت فضلداد ولد خان گل سکنہ پنڈ کرگو خان کے نام و سکونت سے ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اکتوبر 2025 سے جنوری 2026 تک حطار،کوٹ نجیب اللہ سے ہری پور تک دو ایسے ہی ٹرین حادثات پہلے بھی ہو چکے ہیں جن میں حطار انڈسٹریلسٹ اسٹیٹ ریلوے پھاٹک کے قریب ترین کی زد میں آ کر پنڈی گھیب کا رہائشی نوجوان حسیب اقبال شدید زخمی ہوا تھا جب کہ ہری پور سنٹرل جیل ریلوے لائن پر خانپور جولیاں کے ایک بزرگ ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئے اس طرح گزشتہ تین ماہ کے دوران یہ تیسرا ٹرین حادثہ ہے جس میں یہ بزرگ ٹرین کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ تین ماہ قبل حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ریلوے پھاٹک کے قریب پنڈی گھیب کا جو نوجوان ٹرین کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوا تھا وہ مبینہ طور پر اپنے کانوں میں موبائل کے ہینڈز فری لگائے اپنی ہی دھن میں مگن پٹڑی سے چلے جا رہا تھا جسے باخبر اور متوجہ کرنے کے لیے ٹرین ڈرائیور نے متعدد ہارن بھی دیے اور بریک لگانے کی بھی کوشش کی مگر نوجوان ٹرین کی زد سے نہ بچ سکا اور شدید زخمی ہو گیا تھا۔عوامی سماجی حلقوں نے اس حوالے سے متعلقہ ارباب اختیار اور ریلوے انتظامیہ سے ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ممکنہ اقدامات اور حادثات سے بچائو کے لیے آگاہی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔