تحریک انصاف کو 8 فروری کو 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، امیر مقام

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج ایک انوکھا اور مضحکہ خیز تماشا ہے، وفاقی وزیر امور کشمیر کا خطاب

ہفتہ 31 جنوری 2026 01:00

لپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 جنوری2026ء) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو 8 فروری کو 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج ایک انوکھا اور مضحکہ خیز تماشا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں منعقدہ ایک بڑے عوامی اجتماع سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا جہاں تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں نے ہزاروں ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔ انجینئر امیر مقام نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں بدانتظامی، کرپشن اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکامی پی ٹی آئی حکومت کی پہچان بن چکی ہے جبکہ صوبے کے عوام پی ٹی آئی کے جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عوام اب استحکام، ترقی اور اچھی حکمرانی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے صوبے کی معیشت تباہ کی، اداروں کو کمزور کیا اور نوجوانوں کو بے روزگاری کی دلدل میں دھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اب وہی ترقیاتی سہولیات مانگ رہے ہیں جو پنجاب میں فراہم کی جا رہی ہیں جن میں لیپ ٹاپ اسکیم، تعلیمی وظائف اور نوجوانوں کے لیے خصوصی مراعات شامل ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتال ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) تعلیم اور صحت کی مفت اور معیاری سہولیات پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے احتجاجوں اور دھرنوں میں مصروف ہے جس کے باعث عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 9 مئی جیسے واقعات کو دہرانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائیگی اور 8 فروری کو ملک بند کرنے کی کال کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور طبی مراکز کی بندش دراصل پی ٹی آئی کی ناکام حکمرانی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مدبرانہ قیادت میں ملکی معیشت کو استحکام ملا، عالمی سطح پر پاکستان کا اعتماد بحال ہوا اور ملک ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔

انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو تاریخی اور جرات مندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے اتحاد، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام کیا۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ وفاقی حکومت معاشی بحالی، عوامی ریلیف، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور کشمیر، گلگت بلتستان اور ضم شدہ اضلاع پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کے شعبوں میں اصلاحات کو قابل تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قوم نے ملک کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں مگر پی ٹی آئی نے پشتون قوم کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اتحاد، ترقی اور قومی مفاد کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور صوبے بھر میں نچلی سطح تک پارٹی کو منظم اور مضبوط بنایا جائے گا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی انجینئر قمر الاسلام نے کہا کہ گیس منصوبوں پر ریکارڈ کام کیا گیا ہے جبکہ سڑکوں کے انفراسٹرکچر پر بھی جلد کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گرجا روڈ سمیت کئی میگا منصوبے جلد شروع کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رہے گا۔

آخر میں انجینئر امیر مقام نے نئے شامل ہونے والے رہنماؤں اور کارکنوں کو پارٹی ٹوپیاں اور مفلرز پہنائے اور ان کا خیرمقدم کیا۔ پی ٹی آئی سے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں رشید خان، بشیر خان، اسرار خان، شیر خان، ساجد خان، اقبال خان، محمد محاذ، محمد ثانی اور لقمان شامل ہیں، جو بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کے ہمراہ پارٹی میں شامل ہوئے۔ اسی طرح اے این پی کے سینئر رہنما حاجی محمد صادق نے سربلی خان، عبد الخالق، صدام حسین، امیر محمد خان (یونین کونسل 36)، محمد خالد، عطا اللہ خان اور امین الحق کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔