ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ، نجم سیٹھی نے فیصلے کی قانونی حیثیت بتادی

پاک بھارت میچ سے سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے، یہ میچ نہ ہونیکا سب سے زیادہ نقصان انڈین براڈکاسٹر کو ہوگا لیکن وہ پی سی بی کیخلاف براہ راست قانونی کارروائی نہیں کریںگے: سابق پی سی بی چیف

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب جمعہ 6 فروری 2026 14:23

ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ، نجم سیٹھی نے فیصلے کی ..
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 6 فروری 2026ء ) سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی نے پاکستان کے اس غیر معمولی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کی قانونی حیثیت اور اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ 
نجم سیٹھی نے برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی اردو سروس سے گفتگو میں ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ ایک سوچا سمجھا قدم ہے کیونکہ یہی میچ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کیلیے سب سے زیادہ مالی اہمیت رکھتا ہے۔

 
سابق چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان پہلے آئی سی سی کی آمدن پر مکمل انحصار کرتا تھا لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی آمدن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے زیادہ ہے، لہٰذا اسلام آباد اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور مضبوط پوزیشن پر ہے۔

(جاری ہے)

 

نجم سیٹھی نے کہا کہ آئی سی سی کے موجودہ مالی ماڈل میں بھارت کو غیر متناسب فائدہ دیا جا رہا ہے جبکہ چھوٹے بورڈز مسلسل نقصان میں ہیں، اگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو پاک بھارت میچ اور اس سے جڑی آمدن چاہیے تو اسے انصاف اور برابری کے اصولوں کیلیے کھڑا ہونا ہوگا۔

 
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاک بھارت میچ سے سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے لہٰذا اگر یہ میچ نہ ہونے کا سب سے زیادہ نقصان انڈین براڈکاسٹر کو ہوگا لیکن وہ پی سی بی کے خلاف براہ راست قانونی کارروائی نہیں کریں گے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ اگر براڈکاسٹر کھیل کو غیر منافع بخش قرار دے کر معاہدہ واپس لے تو اس کا اثر آئی سی سی پر پڑے گا۔ 
نجم سیٹھی کے مطابق آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے ساتھ ناانصافی کی ہے لیکن اب بھی موقع ہے کہ اس کی گورننگ باڈی صورتحال کو درست طریقے سے حل کر لے، امید ہے عقل مندی سے کام لیتے ہوئے درست فیصلہ کیا جائے گا۔ 
سابق چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء میں اہمیت برقرار رکھنے کیلیے اب بھی راستے موجود ہیں۔