یونیورسٹی آف نارووال میں شدت پسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر سیمینار

وائس چانسلر، ڈی پی او اور ڈی سی کا امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر زور

جمعرات 12 فروری 2026 23:13

نارووال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 فروری2026ء) شدت پسندی کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر یونیورسٹی آف نارووال میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیا الحق کے زیرصدارت ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا،سیمینار میں اساتذہ اکرام اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مقررین جامعہ محمدیہ چنیوٹ کے سربراہ صاحبزادہ محمد قمرالحق ، انٹرنیشنل پیس سنٹر لاہور کے ڈائریکٹر فادر جیمز چنن نے سیر حاصل گفتگو کی ۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاالحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی آف نارووال کی انتظامیہ اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ نوجوان نسل کی مثبت راہنمائی، معیاری تعلیم، مکالمے کے فروغ اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے ذریعے انتہا پسندانہ رجحانات کا مثر سدباب کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ہمیں مل کر ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جہاں اختلاف رائے کو برداشت کیا جائے اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔

میں علما کرام، اساتذہ، سول سوسائٹی، میڈیا اور بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ معاشرے میں امن، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کریں۔ ڈسٹر کٹ پولیس آفیسر محمد نوید ملک نے کہا کہ قومی یکجہتی اور پرامن بقائے باہمی ہی ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔آئیے اس دن کے موقع پر ہم سب یہ عہد کریں کہ اپنے ضلع اور اپنے ملک کو شدت پسندی سے پاک، پرامن اور ترقی یافتہ بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں- ڈی سی نارووال محمد طیب خان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی روک تھام کا عالمی دن ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم بطور معاشرہ امن، برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔

شدت پسندی نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ قومی ترقی اور استحکام کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔