رعنا لیاقت علی خان کو پاکستان کی تاریخ میں حقوق نسواں کی اولین علم بردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، صدر محفوظ النبی خان

جمعرات 12 فروری 2026 21:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 فروری2026ء) بیگم رعنا لیاقت علی خان کو پاکستان کی تاریخ میں حقوق نسواں کی اولین علم بردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق ان تاثرات کا اظہار قائد ملت لیاقت علی خان میموریل کمیٹی کے صدر محفوظ النبی خان نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کی ایک سو اکیسویں سالگرہ کے موقع پر ایک بیان میں کیا۔

انہوں نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے بیش بہا خدمات سر انجام دیں اور ہوم اکنامکس کو بطور شعبہ تعلیمی اداروں میں متعارف کروایا۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے کے علاہ گھریلو صنعت کو بھی روشناس کروایا۔ اگر ملک میں کاٹج انڈسٹری کو ترقی دی جاتی تو پاکستان بھی جاپان کی طرح ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتا تھا۔

(جاری ہے)

اسی طرح پاکستان ویمن نیشنل گارڈ اور ویمن نیول ریزرو جیسی تنظیموں کے ذریعے خواتین کو عسکری و پیشہ ورانہ تربیت بھی دلوائی جس کی مثال اس سے قبل تیسری دنیا میں نہیں ملتی۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان باہمت انسان تھیں جنہوں نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد انتہائی نامساعد حالات میں حکومت کے اعزازئے کے بجائے ملازمت کو ترجیح دی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون سفیر کے طور پر اپنی خدا داد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اپوا بھی مسلم دنیا کی پہلی بڑی نسواں تنظیم تھی جو رعنا لیاقت کا کارنامہ ہے۔ بیگم صاحبہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کو اقوام متحدہ نے عالم اسلام کی پہلی خاتون ہیومن رائٹس ڈفینڈر کا اعلی ترین ترین عالمی ایوارڈ پیش کیا۔