کراچی یونیورسٹی کے طلبہ نے شہری کچرے کے مسائل کا ماحول دوست حل تیار کر لیا

جمعہ 13 فروری 2026 17:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 فروری2026ء) جامعہ کراچی کے تین طلبہ نے شہر میں پیدا ہونے والے بڑے پیمانے پر نامیاتی (آرگینک)کچرے کے مسئلے کے حل کے لیے ایک جدید اور ماحول دوست منصوبہ پیش کیا ہے، جس پر انہیں ٹیکسی ٹیک بیسٹ پچ ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ ایوارڈ ڈاکٹر امتل نے قائم کیا جبکہ اس کی سرپرستی ٹیکسی ٹیک پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب سہیل الرحمن نے کی۔

بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق ان طلبہ میں آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی سے واحد اللہ جبکہ شعبہ بایوٹیکنالوجی سے عنابیہ صدیقی اور سارہ ظفر شامل ہیں جنہوں نے اپنے اس منصوبے پر ٹیکسی ٹیک بیسٹ پچ ایوارڈ حاصل کیا۔آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے طالبِ علموں کو ان کی اس کامیابی پرمبارکباد دی ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان کے مطابق حال ہی میں منعقدہ ایوارڈ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ نے بتایا کہ کراچی میں روزانہ12ہزار ٹن سے زائد ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے، جس کا بڑا حصہ نامیاتی کچرا ہوتا ہے، جیسے گھروں، بازاروں، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کا بچا ہوا کھانا۔ اس کچرے کا زیادہ تر حصہ جام چکروا اور گونڈ پاس جیسے پہلے ہی بھرے ہوئے لینڈ فل سائٹس میں پھینک دیا جاتا ہے، جہاں یہ کھلے ماحول میں سڑتا ہے، بدبو پیدا کرتا ہے، کیڑے مکوڑے پھیلاتا ہے، نقصان دہ گیسیں خارج کرتا ہے اور رفتہ رفتہ زمین اور زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کا کچرے کا مسئلہ بہت بڑا ضرور ہے لیکن اس کے حل کے لیے مہنگے یا درآمدی طریقوں کی ضرورت نہیں۔ بعض اوقات فطرت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ساتھ کام کرنا ہی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔ خوراک کے ضائع شدہ حصے کو جانوروں کی خوراک اور کھاد میں تبدیل کرنا ایک صاف اور صحت مند شہر کی جانب عملی قدم ہے۔ طلبہ نے بتایا کہ ان کے منصوبے میں شہری نامیاتی کچرے کو بلیک سولجر فلائی کے غذائیت سے بھرپور لاروں کے ذریعے پروٹین سے بھرپور جانوروں کی خوراک، قدرتی نامیاتی کھاد (فراس) اور قیمتی حیاتی کیمیائی اجزا میں تبدیل کرنے کا ایک ماحول دوست طریقہ شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں پہلے ہی استعمال ہو رہی ہے۔ اس عمل میں جینیاتی تبدیلی شامل نہیں اور یہ کسی بیماری کے پھیلا کا سبب بھی نہیں بنتا۔ یہ لاروا پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں اور انہیں جانوروں اور پولٹری فیڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے مہنگی درآمدی فیڈ پر انحصار کم ہو جاتا ہے جبکہ بچ جانے والا مواد یعنی فراس ایک قدرتی کھاد کے طور پر مٹی کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔