سعودی عرب شامی ثقافت کی بحالی کیلئے پرعزم

دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات ہم آہنگ ورثے پر مبنی ہیں، صدرپبلشرز یونین

پیر 16 فروری 2026 11:15

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 فروری2026ء) شامی پبلشرز یونین کے صدر ہیثم الحافظ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کو جنگ کے برسوں سے متاثرہ شامی ثقافتی زندگی کی بحالی کے مرحلے میں ایک فعال ثقافتی شراکت دار قرار دیا ہے۔ ہیثم الحافظ کا ماننا ہے کہ آنے والا مرحلہ پبلشنگ کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے موزوں ہے جس میں سعودی پبلشنگ ہاسز میں شامی کتب کی طباعت اور ثقافتی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تقسیم اور علمی تبادلے کے راستوں کو ترقی دینا شامل ہے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب نے دیگر شعبوں کی طرح شامی ثقافت میں اپنی دلچسپی کے دائرہ کار کو وسعت دی ہے اور سنہ 2026 کے ریاض بین الاقوامی کتاب میلے میں شام کو بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے کا اعلان کیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ اقدام عرب ثقافتی تعلقات کی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے اور سعودی ثقافتی منظر نامے میں شامی ادب اور فکر کی موجودگی کو تقویت دیتا ہے۔ یہ انتخاب وزارت ثقافت کے ان رجحانات کا حصہ ہے جن کا مقصد ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا اور مملکت کے تخلیق کاروں، پبلشرز اور دانشوروں کے درمیان اپنے عرب ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے کے پل بنانا ہے۔

توقع ہے کہ شام ایک مکمل ثقافتی پروگرام کے ساتھ شرکت کرے گا جس میں ادبی سیمینار، شعری نشستیں اور فنی سرگرمیاں شامل ہوں گی اور شامی پبلشنگ ہاسز بھی اپنی موجودگی درج کرائیں گے۔ثقافتی تبادلے کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب موجودہ فروری کی 6 سے 16 تاریخ تک سنہ 2026 کے دمشق بین الاقوامی کتاب میلے میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوا۔ اس شرکت کا مقصد ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا اور شامی عوام کے ساتھ علمی روابط کو دوبارہ جوڑنا تھا۔

ہیثم الحافظ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے شام کو آئندہ ریاض بین الاقوامی کتاب میلے میں مہمان خصوصی بننے کی دعوت دینا تقریب کو عملی جامہ پہنانے اور محض بیانات سے نکل کر حقیقی عمل کی طرف منتقلی کی علامت ہے۔ہیثم الحافظ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کتاب میلے میں سعودی دلچسپی شعور کی بیداری اور معاشروں کی تعمیر نو میں ثقافت کے کردار پر یقین کی عکاسی کرتی ہے۔

ان کے مطابق سعودی موجودگی محض رسمی نہیں تھی بلکہ اس کا ایک واضح عوامی پہلو تھا جو سعودی اسٹال کے ساتھ بھرپور تعامل کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس شرکت کے وسیع ثقافتی اور سیاسی معنی ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب برسوں کے بحرانوں کے بعد شامی ثقافتی زندگی کی بحالی کے مرحلے میں ایک متحرک شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دمشق بین الاقوامی کتاب میلے میں سعودی شرکت میلے کے سفر میں ایک اہم موڑ ہے اور یہ خوشی کا ایک حقیقی لمحہ اور پیغام ہے کہ ثقافت زندگی کا پل تھی اور ہمیشہ رہے گی۔ اس تناظر میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات بلاد شام اور سعودی عرب کے درمیان پھیلی ہوئی تہذیبی اور سماجی گہرائی پر استوار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دمشق اور ریاض کے درمیان ثقافتی روابط کبھی عارضی نہیں رہے بلکہ یہ ایک باہم مربوط اور ہم آہنگ ورثے پر قائم ہیں۔