سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف 2 درخواستوں کی سماعت31مارچ تک ملتوی کردی

بدھ 25 فروری 2026 22:41

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 فروری2026ء) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے 27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف 2 درخواستوں کی سماعت31مارچ تک ملتوی کردی ہے ۔وفاقی حکومت کے وکیل نے تحریری جواب جمع کروانے کے لیے مہلت مانگ لی۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو27 ویں آئینی ترمیم کیخلاف 2 درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے تحریری جواب جمع کروانے کے لیے مہلت مانگ لی۔

سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ 27 آئینی ترمیم کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ درخواستگزار کے وکیل ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کو اب اس معاملے کی سماعت کا اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ آپ کہہ سکتے ہیں، ہم نہیں کہہ سکتے۔ عدالت نے سماعت 31 مارچ تک ملتوی کردی۔

(جاری ہے)

درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ 27 ویں ترمیم عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق نا ہونا عدالتی ریکارڈ کے ساتھ چھیڑچھاڑ ہے۔ اسلام میں تاحیات استثنی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں قرار دیا ہے کہ آئین کے بنیادی خدوخال تبدیل نہیں کئے جاسکتے۔ اسلامی خدوخال، وفاقیت اور عدلیہ کی آزادی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ پارلیمنٹ اگر کوئی غیر اسلامی ترمیم کردے تو کیا اسے بھی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا آرٹیکل 227 کے تحت اسلامی خدوخال کیخلاف کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔