Live Updates

ایوان بالا کی سالانہ رپورٹ 2026-2025 جاری کردی گئی

قانون سازی ، حکومتی جوابدہی ،پارلیمانی سفارتکاری میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں

جمعرات 26 مارچ 2026 18:13

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 مارچ2026ء) سینٹ کی پارلیمانی سال 26-2025 کے 112 دنوں میں 64 نشستیں ہوئیں جن کا دورانیہ 158 گھنٹے 53 منٹ رہا جبکہ مشترکہ اجلاسوں سمیت پارلیمانی سرگرمیوں کا کل دورانیہ 161 گھنٹے 43 منٹ رہا، جو مسلسل اور فعال قانون سازی کی عکاسی کرتا ہے۔ ایوان بالا کی طرف سے جاری پارلیمانی سال 26-2025 کی سالانہ رپورٹ میں 12 مارچ 2025 سے 11 مارچ 2026 تک ایوان بالا کی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے، یہ رپورٹ سینیٹ کے آئینی مینڈیٹ کے تمام پہلوؤں بشمول قانون سازی، انتظامی نگرانی، ادارہ جاتی استحکام اور پارلیمانی سفارتکاری کے فروغ میں نمایاں کامیابیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پارلیمانی سال میں جہاں دوسرے شعبوں میں کامیابی حاصل ہوئی وہاں یہ پارلیمانی سال اسلام آباد میں پہلی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (ISC) کے کامیاب انعقاد کے باعث بھی منفرد رہا، جس کے ذریعے پاکستان عالمی پارلیمانی مکالمے اور معاونت کاری کے مرکز کے طور پر ابھرا۔

(جاری ہے)

پارلیمانی سال کے دوران سینیٹ کے 12 اجلاس (348واں تا 359واں) منعقد ہوئے جبکہ پارلیمنٹ کے تین مشترکہ اجلاس بھی ہوئے۔

مجموعی طور پر پارلیمانی سال کے 112 دنوں میں 64 نشستیں ہوئیں جن کا دورانیہ 158 گھنٹے 53 منٹ رہا۔ مشترکہ اجلاسوں سمیت پارلیمانی سرگرمیوں کا کل دورانیہ 161 گھنٹے 43 منٹ رہا، جو مسلسل اور فعال قانون سازی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دوران اراکین کی حاضری بھی تسلی بخش رہی، سب سے زیادہ حاضری 355ویں اجلاس میں ریکارڈ کی گئی جس میں 88 سینیٹر ز شریک ہوئے جبکہ فی نشست اوسط حاضری 55 سینیٹرز رہی۔

پرائیویٹ ممبر ڈے کے 11 دن بھی منعقد کیے گئے، جس سے نجی قانون سازی( پرائیویٹ ممبر بل )کے لیے مؤثر مواقع فراہم ہوئے۔سینیٹ نے قانون سازی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور مجموعی طور پر 17 مسودے حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے۔ جن میں سے 14 منظور ہوئے، جبکہ قومی اسمبلی سے موصول ہونے والے 31 بلوں پر غور کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر 33 بل منظور کیے گئے۔

نجی اراکین ( پرائیویٹ ممبرز ) کی شمولیت بھی قابلِ ذکر رہی، جنہوں نے 40 بل پیش کیے جو کہ قانون سازی کے عمل کی شمولیتی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ خصوصاً آئینی (ستائیسویں ترمیم) بل، 2025 سال کی اہم آئینی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا۔ قومی سلامتی، عدالتی اصلاحات، معاشی حکمرانی، انسانی حقوق، میڈیا اور سماجی بہبود سے متعلق وسیع قانون سازی نے قومی ترجیحات کے ساتھ سینیٹ کی ہمہ جہتی وابستگی کو اجاگر کیا۔

سینیٹ نے سوال و جواب کے فعال نظام کے ذریعے اپنی نگرانی کی ذمہ داری مؤثر انداز میں نبھائی۔ مجموعی طور پر 1,157 نشاندار سوالات موصول ہوئے جن میں سے 479 کے جوابات ایوان میں دیے گئے۔ اس کے علاوہ 85 قراردادیں پیش کی گئیں جن میں سے 19 منظور ہوئیں جبکہ 15 متفقہ طور پر منظور ہوئیں، جو قومی و بین الاقوامی امور پر ہم آہنگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ مزید برآں 119 تحریکیں بھی موصول ہوئیں جن میں معاشی کارکردگی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور علاقائی ترقی جیسے اہم عوامی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔

سینیٹ کی 38 قائمہ اور فنکشنل کمیٹیوں نے 346 اجلاس منعقد کیے جن کا مجموعی دورانیہ 780 گھنٹوں سے زیادہ رہا اور ان کمیٹیوں نے ایوان میں 106 رپورٹس پیش کیں۔ ان کمیٹیوں نے قانون سازی کے جائزے، بجٹ کی چھان بین اور حکومتی کارکردگی کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر خزانہ و محصولات، اقتصادی امور اور داخلہ کی کمیٹیوں نے نمایاں سرگرمیاں دکھائیں، جو معاشی استحکام، حکمرانی اور داخلی سلامتی پر سینیٹ کی توجہ کو ظاہر کرتی ہیں۔

پارلیمانی سال26-2025 عالمی روابط کے فروغ کے حوالے سے بھی تاریخی ثابت ہوا۔ سینیٹ نے دنیا بھر میں 37 پارلیمانی وفود کی میزبانی و شرکت کو ممکن بنایا اور اہم عالمی فورمز میں فعال شرکت کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، امن اور پائیدار ترقی جیسے مسائل پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔ اعلیٰ سطحی دوطرفہ روابط اور 43 سفارتی ملاقاتوں نے پارلیمانی سفارتکاری کو مزید مضبوط کیا، جبکہ نئے ادارہ جاتی اشتراک اور عالمی رکنیتوں نے سینیٹ کی عالمی حیثیت کو مستحکم کیا۔

10 تا 12 نومبر 2025 پہلی بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس (ISC) کا اسلام آباد میں انعقاد پارلیمانی سفارتکاری کی کاانعقاد پارلیمانی سال کی بڑی کامیابی قرار پائی۔ اس کانفرنس میں 33 ممالک کے 153 مندوبین نے شرکت کی اور’’امن، سلامتی اور ترقی‘‘کے موضوع پر غور کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا گیا جس میں مکالمے، جمہوری طرزِ حکمرانی اور جامع ترقی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

عالمی شرکا کی جانب سے اس کانفرنس کو بھرپور سراہا گیا، جس سے پاکستان کا مثبت اور جمہوری تشخص عالمی سطح پر مزید اجاگر ہوا۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے تحقیق، قانون سازی میں معاونت اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز کے زیرِ اہتمام تربیتی پروگرامز نے پارلیمانی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دیا۔

میڈیا رسائی میں بہتری کے باعث پارلیمانی کارروائیوں اور بین الاقوامی سرگرمیوں کی شفاف اور مؤثر کوریج یقینی بنائی گئی، جس سے عوامی اعتماد اور عالمی سطح پر سینیٹ کی نمائندگی مزید مضبوط ہوئی۔سالانہ رپورٹ26-2025سینیٹ آف پاکستان کی غیر معمولی کامیابیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ مؤثر قانون سازی، سخت نگرانی اور فعال عالمی روابط کے ذریعے سینیٹ نے جمہوری نظام میں اپنی کلیدی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔

بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا کامیاب انعقاد ایک تاریخی سنگِ میل ہے، جو پاکستان کے امن، تعاون اور عالمی پارلیمانی قیادت کے عزم کا مظہر ہے۔ سینیٹ مستقبل میں بھی انہی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کے عوام اور وفاق کی خدمت خلوص، دیانت اور وڑن کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات