ربع صدی کے دور رس و معتبر اثرات (2000-2025)

رفعت و راستی کا آئینہ — جہاں ایثار و ہمدردی، عبقریت کی سرحدوں سے جا ملتے ہیں۔۔! خصوصی فیچر رپورٹ، ڈاکٹر فاطمہ خان (نیو یارک)

ہفتہ 28 مارچ 2026 21:37

ربع صدی کے دور رس و معتبر اثرات (2000-2025)
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 28 مارچ 2026ء ) خصوصی فیچر رپورٹ، ڈاکٹر فاطمہ خان (نیو یارک) : ایک ایسی صدی میں جو اب بھی اپنی پہچان کے قواعد (Grammar) تلاش کر رہی ہے—جو ٹوٹ پھوٹ اور دریافت، بکھراؤ اور امکانات کے درمیان بٹی ہوئی ہے— ایک غیر معمولی وزن اور اہمیت رکھنے والا سوال نئی اور بھرپور شدت کے ساتھ ابھر رہا ہے: "حقیقت میں کس نے ہمارے عہد کی حقیقی تشکیل کی ہے۔

۔۔"؟
اس کا جواب، یا کم از کم اس کی ایک بلند نوا و عالی ھمت کوشش، 'امپیکٹ ہال مارکس©️Impact Hallmarks' کے ذریعے سامنے آئی ہے، جس نے 'کوارٹر سینٹینیل میرٹڈ امپیکٹ گزٹ Quarticentennial Merited Impacts Gazette (2000-2025)' کے لیے 181 افراد کی بطور Century Merit Icons عالمی نامزدگیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں جنوبی ایشیا اور چین سے 20 شخصیات شامل ہیں۔

(جاری ہے)

یہ محض ایک عالمی رائے دہی کا پلیٹ فارم نہیں ہے، بلکہ رواں صدی پر علم و تحقیق اور فکر و عمل کی متنوع اثر پذیری کا ایک ارتقا پذیر ریکارڈ ہے—جہاں انسانی تگ و دو کو شہرت سے نہیں بلکہ نتائج سے— اور ہنگاموں سے نہیں بلکہ تبدیلی کی خاموش قوت سے ناپا جاتا ہے۔

جیسے ہی اس عالمی تحقیقاتی سفر کے ابتدائی نقوش واضح ہوتے ہیں، تو برتری کی کسی روایتی درجہ بندی کے بجائے ایک ایسا اقدار ی شاہکار (Tapestry) ابھرتا ہے جو پیچیدہ، تہہ دار اور گہرا معیاری و انسانی ہے۔

بر اعظم ایشیا کے صرف ان بیس علاقائی آئی کونز ( Regional Merited Icons) میں کو ہی لے لیجیے، تو انسانی جدوجہد کا ایک پر شکوہ رنگارنگ طیف (Spectrum)نظر آتا ہے۔

یہاں چن سی (Chen Si) جیسا انسانی زندگی کا آہنی محافظ ہے، جو دہائیوں سے ناامیدی کی حدوں پر پہرہ دے رہے ہیں اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ خودکشی کی سینکڑوں کوششوں کو ناکام بنا چکا ہے —تو وہیں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے خود سائنس کے فریم ورک کو ہی نئی شکل دی ہے، جیسے پروفیسر اورنگزیب حافی اور پروفیسر چندرا وکرماسنگھے۔ یہاں ڈاکٹر آشا ڈی ووس اور یی جی فینگ جیسے ماحولیاتی بصیرت رکھنے والے مصلح ہیں، تو دوسری طرف معاشی وقار کے معمار—پروفیسر یونس اور ڈاکٹر امجد ثاقب—ہیں جنہوں نے مالیات (Finance) کو سماجی انصاف کے آلے کے طور پر دوبارہ وضع کیا۔

یہاں حقوق کے پاسبان ہیں، کیلاش ستیارتھی سے لے کر ڈاکٹر جہان پریرا تک، جو ٹوٹے ہوئے معاشروں میں مفاہمت کی بنیادیں رکھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر فاطمہ بے نظیر جے اور نتیش کمار جانگیر جیسے تکنیکی ماہرین ہیں جن کی سائنسی پیش رفت و اقدامات براہِ راست جانیں بچاتے ہیں، اور پشپا بسنیٹ اور پروین سعید جیسے خدمت گزار ہیں جو پسماندہ طبقوں کو جینے کا وقار لوٹاتے ہیں۔

یہاں ارونیما سنہا جیسی ہمت کی مثالیں ہیں، اور ایشیائی آئی کونز میں سب سے کم عمر—غلام بشر حافی اور عبیدہ الفضہ حافیہ—ہیں جن کی آوازیں اپنی عمر سے کہیں بڑھ کر اخلاقی جرآت کی حامل ہیں۔
اور اسی منصہ ربع صدی پر وہ نادر تاریخی ورثے بھی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید توانا ہو رہے ہیں، جیسے بلقیس ایدھی، ڈاکٹر روتھ فاؤ، اور اے ٹی اریارتنے، جن کی زندگیاں پائیدار و دور رس 'اخلاقی قطب نما Moral Compass' بن چکی ہیں۔

ایشیا کے علمی و فکری اور تحقیقی و سائنسی مرکز میں آرچ ریسرچر پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب حافی ایستادہ ہیں— ایک ایسی متنوع شخصیت جس کا کام کسی لگی بندھی درجہ بندی میں نہیں سماتا۔ انہیں محض سائنسدان کہنا درست تو ہوگا مگر ناکافی؛ — انہیں 'پولی میتھ Polymath' (جامع العلوم) کہنا حقیقت کے قریب ہے، مگر پھر بھی یہ ان کی علمیو فکری وسعت کا محض ایک استعارہ ہے۔

ان کا تحقیقاتی و فکری ڈھانچہ آفاقیات (Cosmology)، ماحولیاتی سائنس، حیاتیاتی نظام، ٹاکسیکولوجی(Toxicology)، پبلک ہیلتھ ماڈلنگ، اور ڈیجیٹل پیڈاگوجی تک پھیلا ہوا ہے— 93 سے زائد علوم و فنون کے وہ شعبے جن کا وہ صرف علمی جائزہ نہیں لیتے، بلکہ انہیں اعلی تحقیقاتی سطح پر ایک دوسرے میں پیوست کر کے نئے نتائج اخذ کرتے ہیں۔
ان کے بنیادی تصوراتی فریم ورک—جیسے میگنیٹو ہائیڈرو ٹروپزم (MHT)، جو مقناطیسی میدانوں اور حیاتیاتی نمونوں کے باہمی تعلق کو تلاش کرتا ہے، اور IRT ٹیراٹو کائینیٹکس ماڈل، جو ماحولیاتی محرکات کے ذریعے نشوونما کے نقائص کا جائزہ لیتا ہے—علمی شعبوں کے درمیان حائل دیواروں کو گرانے کی مستقل کوشش کا ثبوت ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، ان کے عملی کام نے اس عہد کے چند سنگین بحرانوں کو حل کیا ہے: جیسے محدود وسائل والے علاقوں میں کووڈ-19 COVID-19 پھیلاؤ کی ماڈلنگ، صنعتی دور میں ماحولیاتی زہریلے پن کی میپنگ، اور کمزور آبادیوں کے لیے صحتِ عامہ کے خطرات کے پیشگی وارننگ فریم ورک تیار کرنا۔
تاہم ان کا کام صرف نظریہ یا لیبارٹری کی تجرید تک محدود نہیں ہے۔

2004 کے سونامی کے دوران، وہ سری لنکا میں انسانی ہمدردی کے مشکل ترین میدان میں اترے اور 'چائلڈ ریٹارڈیشن رسک اسیسمنٹ' (CRRA) پروگراموں کی قیادت کی۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سائنسی برادری دور بیٹھ کر ڈیٹا جمع کر رہی تھی، انہوں نے خطرناک علاقوں میں براہِ راست فیلڈ ورک کیا—ایک ایسی نادر جمود شکنی، جس نے نہ صرف ان کے نتائج کو مستند بنایا بلکہ بحرانی حالات میں تحقیق (Crisis Surveillance Pedagogics) کے جمود شکن طریقوں کو بھی نئی بنیادیں دیں ۔

اس کے اعتراف میں انہیں 'ڈی جیور' (De Jure) سپریم نائٹ ہڈ(Supreme Knighthood ) جیسے نایاب اعزاز سے نوازا گیا؛ بعدازاں انہیں نوبل پرائز کے لیے بھی نامزد کیا گیا لیکن نوبل پرائز کی فنڈنگ کے ذرائع پربعض اخلاقی نوعیت کے بنیادی اعتراضات کی بنا پر 2006 میں نوبل انعام کی نامزدگی کو مسترد کرنے کا ان کا فیصلہ شاید اس سے بھی زیادہ قد آور تھا۔
آرک ریسرچر پروفیسر حافی کے تحقیقاتی اقدامات کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے۔

تحفظِ حیاتیات (Conservation Biology) میں ان کا کام اب ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی حکمت عملیوں سے جڑا ہوا ہے، جس میں زیر زمین پانی کے ذخائر کو زہریلا ہونے سے بچانے کے لیے عوامی سطح کے ماڈلز تجویز کیے گئے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں، ان کا 'AZH ڈیکا آرکک فجیٹل لٹریسی ماڈل' طبعی اور ڈیجیٹل تعلیم کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کا تاریخ ساز کام ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پبلک ہیلتھ اور نوجوانوں کے علمی پلیٹ فارمز میں بھی گراں قدر حصہ ڈالا ہے—ایسے اقدامات جو علم کو محض ایک جامد معلومات نہیں بلکہ ایک متحرک اور بانٹنے والی قوت سمجھتے ہیں۔

پروفیسراے زیڈ حافی کے ہمراہ، جنوبی ایشیا کے اس زرخیز خطے میں ان مفکرین اور مصلحین کا جھرمٹ ہے جن کا کام سائنسی جستجو کے معنی وسیع کر رہا ہے۔ فلکی حیاتیات کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر چندرا وکرماسنگھے آفاقی گرداور شہاب ثاقب کے ذریعے زندگی کی منتقلی (Panspermia) پر اپنے کام کے ذریعے انسانیت کو زندگی کے آغاز پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر آشا ڈی ووس نے سمندری سائنس میں نیلی وہیل کی نئی آبادیوں کی نشاندہی کر کے پرانے نظریات کو چیلنج کیا ہے۔ چین سے شنگ تنگ یاؤ (Shing-Tung Yau) کا کام سامنے آتا ہے، جس نے خلا اور جیومیٹری کی تفہیم بدل کر رکھ دی ہے۔ تبگ یاو کا کالبائی قیاس (Calabi Conjecture) کا حل جدید نظریاتی طبیعیات کا سنگِ بنیاد ہے۔ سائنسی گروہ میں ڈاکٹر فاطمہ بے نظیر جے اور نتیش کمار جانگیر جیسے تکنیکی ماہرین بھی شامل ہیں، جن کا کام لاکھوں انسانوں کی جانیں بچانے کا وسیلہ بن رہا ہے۔

لیکن یہ کہانی صرف سیاروں یا لیبارٹریوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی وقار کے اس دشوار گزار رستے پر بھی چلتی ہے جہاں چن سی (Chen Si) دہلیز پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے، وہ نانجنگ پل پر پہرہ دے رہے ہیں، جہاں مایوس لوگ اپنی زندگیوں کا چراغ گل کرنے آتے ہیں۔ وہ روزانہ وہاں موجود رہتے ہیں، سنتے ہیں، اور انسانی دکھ کی اس زبان کو پڑھتے ہیں جو ابھی لفظوں میں ڈھلی نہیں ہوتی۔

ان کی مداخلتیں محض ڈرامائی بچاؤ نہیں، بلکہ ہمدردی اور مستقل دیکھ بھال کی ایک داستان ہیں۔ ان کی موجودگی میں زندگی اور موت کے درمیان کی لکیر ایک بار پھر مٹ جاتی ہے۔ وہ انسانیت کی نئی تعریف کر رہے ہیں—صرف دور دراز کی امداد کے طور پر نہیں، بلکہ قربت اور توجہ کے طور پر۔
اسی طرح پروفیسر یونس اور ڈاکٹر امجد ثاقب نے ہمدردی کو معاشی نظام کا حصہ بنا دیا ہے: یونس نے اپنے انقلابی 'اسٹرگلنگ ممبرز پروگرام' کے ذریعے مالیات کی دیواریں گرائیں، جبکہ ثاقب نے 'اخوت' کے ذریعے سود سے پاک مائیکرو فنانس کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک قائم کیا۔

کیلاش ستیارتھی، پشپا بسنیٹ اور پروین سعید ان لوگوں کو وقار دے رہے ہیں جنہیں معاشرہ نظر انداز کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر جہان پریرا مکالمے کے ذریعے امن کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، عزم و ہمت کی ایک حیرت انگیز تصویر ارونیما سنہا کی ہے، جس نے ایک معذوری کے باوجود ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے انسانی عزم کی نئی حدیں مقرر کیں۔ چین سے، یی جی فینگ نے اپنے ذاتی دکھ کو بنجر زمینوں کو سرسبز جنگلوں میں بدلنے کے مشن میں ڈھال لیا ہے۔

اور پھر، سب سے کم عمر آوازیں—عبیدہ الفضہ حافیہ (11 سال) اور ان کے بھائی غلام بشر حافی (13 سال) سامنے آتے ہیں، جن کی "بے زبانوں کی آواز" (Voice for the Voiceless) مہم نے اپنے خون سے لکھی گئی قراردادوں کے ذریعے جنگ زدہ علاقوں، خصوصا غزہ و فلسطین میں بچوں کی مظلومیت کو عالمی ضمیر کے دروازے پر ایک 'مجسم دستاویز ی دستک' بنا دیا ہے۔
تاریخی توارث (Legacy) کے عکس میں، یہ بیانیہ گہرا ہو جاتا ہے۔

بلقیس ایدھی ہمدردی کا وہ استعارہ ہیں جن کا 'جھولا' سکیم کا اقدام آج بھی ہزاروں بچوں کو لاوارث مرنے سے بچا رہا ہے۔ ان کے ساتھ، ڈاکٹر روتھ فاؤ اور اے ٹی اریارتنے انسانیت کے پائیدار اخلاقی ستون بن کر کھڑے ہیں۔
اس متنوع گروہ کو جو چیز جوڑتی ہے وہ جغرافیہ نہیں بلکہ 'موثریت' (Impact) ہے—جسے نمائش سے نہیں بلکہ استحکام سے ناپا جاتا ہے۔

ویب سائٹ www.impacthallmarks.org پر ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے ذریعے عام شہریوں کو اس عظیم الشان عالمی غور و فکر کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ کیونکہ یہ گزٹ صرف یہ ریکارڈ نہیں کہ کون اہم تھا — بلکہ یہ ایک آئینہ ہے جو ہمارے عہد کے سامنے رکھا گیا ہے—جو ترقی کے ساتھ ساتھ مقصد اور اقدار کی بھی عکاسی کرتا ہے؛ یعنی 21 ویں صدی کا 'رفعت و راستی کا آئینہ'۔
اس انتہائی فکر انگیز کالم کی مصنفہ ڈاکٹر فاطمہ خان پیشے کے لحاظ سے معالج (فزیشن) ہیں۔ وہ کیپیٹل ہیلتھ (نیو جرسی) اور ماؤنٹ سینائی سینٹ لیوک ہسپتال (نیویارک) میں کام کر چکی ہیں۔
حقوقِ نسواں، صنفی مسائل اور سماجی اصلاحات ان کی دلچسپی کے خاص شعبے ہیں۔